سید سہیل گیلانی
زندگی کے سفر میں ہر وہ شخص جو کسی ہدف، کسی خواب یا کسی مقصد کی جانب بڑھتا ہے، اُسے تنقید کا سامنا ضرور ہوتا ہے۔ یہ تنقید کبھی خیر خواہی کے لباس میں آتی ہے اور کبھی حسد، بدگمانی یا معاشرتی جبر کے روپ میں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ تنقید نہ روکی جا سکتی ہے، نہ ختم کی جا سکتی ہے، البتہ اس کا سامنا حکمت، بصیرت اور خود اعتمادی سے ضرور کیا جا سکتا ہے۔ تنقید کے مؤثر مقابلے کی بنیاد اُس خود شناسی میں ہے جو انسان کو اپنے مقام، صلاحیت اور کمزوریوں کا شعور عطا کرتی ہے۔ جب ہم خود کو پہچان لیتے ہیں، اپنی نیتوں اور اقدار سے واقف ہو جاتے ہیں تو دوسروں کی آراء ہمیں متزلزل نہیں کرتیں، بلکہ ایک خاموش روشنی کی مانند ہماری راہ میں وضاحت پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر رائے ہمارے لیے نہ ضروری ہے، نہ فیصلہ کن۔ ہر آواز ہماری راہ کی صدا نہیں اور ہر تنقید ہماری حقیقت کا عکس نہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم تنقید سے فرار نہ اختیار کریں، بلکہ اس کا سامنا وقار اور حکمت کے ساتھ کریں۔ اگر کوئی تنقید درست ہے تو اسے قبول کرنا دراصل اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کا ایک موقع ہے اور اگر تنقید بے بنیاد، تعصب پر مبنی یا مقصد سے عاری ہو تو اس سے دامن چھڑا لینا ہی فہم و تدبر کی علامت ہے۔ ہر اعتراض رد نہیں کرتا، ہر سوال تذلیل نہیں کرتا اور ہر اختلاف دشمنی نہیں ہوتا، شرط یہ ہے کہ ہم سننے کا ظرف رکھیں اور رد یا قبول کرنے کی بصیرت بھی۔ اکثر اوقات رشتہ داروں، احباب یا سماج کی طرف سے ایسی تنقید سننے کو ملتی ہے جو ہماری ذات، فیصلوں یا خوابوں پر سوال اٹھاتی ہے۔ اس مقام پر ضروری ہے کہ ہم اپنی راہ کو واضح رکھیں، اپنی نیت کو درست رکھیں اور خود کو دوسروں کی توقعات کا غلام بنانے سے بچائیں۔ اگر ہم ہر فیصلے میں دوسروں کی منظوری کے محتاج بن جائیں تو نہ ہم خود کو خوش رکھ سکیں گے، نہ اپنی زندگی میں کچھ نیا کر سکیں گے۔ تنقید کے اثر سے بچنے کے لیے سب سے مؤثر ڈھال خود اعتمادی ہے۔ وہ اعتماد جو انسان کو اپنے فیصلوں کی ذمہ داری اٹھانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ یہ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی غلطیوں سے سبق لیتے ہیں، اپنی خامیوں کو چھپانے کے بجائے انھیں سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے داخلی سچ سے نظریں نہیں چراتے۔ جو شخص اپنی کمزوری کو پہچان کر اُس پر قابو پا لیتا ہے، اُسے دنیا کی کوئی منفی رائے نہیں ہرا سکتی۔ زندگی کا اصل کمال یہی ہے کہ ہم اپنی ذات کو دنیا کی نظر سے نہیں، اپنی سچائی کی روشنی میں دیکھیں۔ جب ہم خود پر یقین رکھتے ہیں، اپنے اصولوں پر جمے رہتے ہیں اور اپنے خوابوں کی سچائی کو اپنی راہ کی بنیاد بناتے ہیں تو نہ صرف تنقید بے اثر ہو جاتی ہے بلکہ وہی تنقید ہماری کامیابی کے پس منظر میں محض ایک ہلکی بازگشت بن کر رہ جاتی ہے۔