فکرو فہم
قیصر محمود عراقی
آج میں بہت دکھ محسوس کر رہا ہوں کیو نکہ تعلیم کے میدان میں ہماری نسل بہت پیچھے رہ گئی ہے،کتابوں سے زیادہ موبائل فون اور غیر ضروری سرگرمیوں میں وقت گزار رہے ہیں ،اسکول،کالج اور یونیورسیٹیز ٹائم پاس مقامات میں تبدیل کر دی گئی ہے اور تعلیم کو ایک مذاق بناکر رکھ دیا گیا ہے۔ جبکہ تعلیم ہر انسان پر لازم ہے،چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت،ان کی بنیادی ضرورت میں سے ایک تعلیم ہے،یہ انسان کا حق ہے جوکہ کوئی اس سے نہیں چھین سکتا ،انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔شاید ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے لئے تعلیم کی کیا اہمیت ہے اور حصول تعلیم ہمارے لئے کتنی ضروری ہے۔جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنا لئے گئے یا پھر جب بھی انھوں نے تعلیم کے مواقعوںسے خود کو محروم کیا وہ بحشیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے ۔تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کے لئے ترقی کی ضامن ہے ،یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف اسکول ،کالج اور یونیور سیٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اس کے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور اقتدار کاخیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوارتی ہے ،دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے ،انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ بھی تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔
تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائزہے،اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے ۔آج کے اس پــرآشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کی حامل ہے ،چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کر لے ۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ،ایٹمی ترقی کا دور ہے ،سائنس اور صنعتی ترقی کادور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم ،انجئیرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علو م حا صل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضا ہے ۔جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اس کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے ۔ اسلام کی سب سے پہلی تعلیم اور قرآن پاک کی پہلی آیت جو اللہ تعالی نے اپنے نبی پاکؐ پر نازل فرمائی وہ علم ہی سے متعلق ہے ۔اللہ تعا لی فرماتا ہے ’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ،جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا ، تو پڑھتا رہ ،تیرا رب بڑا کرم والا ہے ،جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھا یا ، جس نے انسان کو وہ سکھا یا جسے وہ نہیں جا نتا ۔ (سورہ علق،آیت نمبر ۱ تا ۵ ) علم کے ذریعے آدمی ایمان و یقین کی دنیا آباد کر تا ہے ، بھٹکے ہوئے لو گو ں کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے،برو کو اچھا ،دشمن کو دوست ،بیگا نوں کو اپنا بناتا ہے اور دنیا میں بھی امن وامان کی فضا پیدا کرتا ہے۔ علم کی فضلیت وعظمت ،ترغیب و تاکید دین اسلام میں جس بلیغ ودل آویز انداز میں پائی جاتی ہے اس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی ،تعلیم و تربیت ،درس وتدریس تو گویا اس کا دین بر حق ہے ،کلام پاک کے تقریباََ اٹھتر ہزار میں سب سے پہلا لفظ جو پرور دگار عالم نے رحمت العالمین کے قلب مبارک پر نازل فرمایا وہ ’’اقرا ‘‘ ہے یعنی پڑھ ۔گویا وحی الہـی کے آغاز ہی میں جس بات کے طرف سروردوعالم کے ذریعے نوع بشرکو توجہ دلائی گئی ،وہ لکھنا پڑھنا اور تعلیم وتربیت کے زیور سے انسانی زندگی کو آراستہ کر نا تھا ۔
حضور اکرم ؐ کے اعلان نبوت کے وقت جزیرہ عرب کی کیا حالت تھی ؟ قتل وغارت ، چو ری ،ڈکیتی ،قتل اولاد ،زنا اور بت پرستی کے علا وہ اور کون سی ایسی برائی تھی جو ان میں نہ پائی جاتی تھی ،لیکن رسول اکرمؐنے ان کی تعلیم و تربیت اس انداز سے فرمائی اور زندگی گزارنے کے ایسے اصول بتائے کہ دیکھتے ہی دیکھتے ان کی حالت مکمل بدل گئی اور وہ تہذیبی اقدار سے آشنا ہو کر تعلیم و تعلم سے جڑ گئے ۔ اس طرح علم سیکھنے اور سکھانے کا عمل صدیوں سے جاری ہے۔ہمیں تاریخ میں مسلمان سائنس دانوں کے نام نمایاں نظر آتے ہیں ،جن کی تمام دنیا معتر ف ہے ، ان میں محمد بن موسی ، الخوار زمی ،ابن سینا ،عمر خیام ،البیرونی ،ابن خلدون اور ابن الہشیم قابل ذکر ہیں ۔ اسی طرح دس ہزار سالہ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہی انکشاف ہو تا ہے کہ جس قوم نے بھی ترقی کی ، اس میں تین خوبیا ں ضرور موجود تھیں ، وہ علم میں دوسری قو مو ں سے برتر تھیں ، اس کی معیشت مضبوط اور با قی قو مو ں سے طاقتور تھی، ترقی کا یہی فارمولا آج تک دنیا میں کار فرما ہے ۔ لیکن افسوس مسلمانوں نے اپنی اور دیگراقوام کی تاریخ سے کوئی سبق نہ سیکھا اور آج ان تینوں شعبوں میں مسلمان دنیا سے بہت پیچھے ہیں ۔ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباََ ڈیڑ ھ ارب سے زیادہ ، یوں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا کا ہر پانچواں شخص مسلمان ہے، دنیا میں ایک ہندو اور ایک بدھ مت کے مقابلے میں دو مسلمان اور ایک یہودی کے مقابلے میں ایک سو مسلمان ہیں ۔ اج دنیا میں اکسٹھ اسلامی ممالک ہیں ، ان میں سے سنتا ون ملک مسلمانوں کی عالی تنظیم او ، آئی ،سی کے رکن ہیں لیکن ہم دنیا کی تیسری بڑی قوت ہونے کے باوجود انتہائی کمزور ، حقیر اور بے بس نظر آتے ہیں،کیونکہ ہم تعلیم کے میدان میں بھاگنے کے بجائے تفریحی کے میدان میں بھاگ رہے ہیں ، امتحان کے بجائے موبائل کے نئے فیچرز پر تجربات کررہے ہیں ۔جب کہ ہمیں یہ جاننا چاہئے تھا کہ معاشرہ ہمیشہ وہی جاندار اور پائیدار روا یات کے امین ہوتے ہیں جہا ں تعلیم عام ہو ، تعلیم ہی ایسا مسلسل عمل ہے جس سے نہ صرف ثقافتی ورثہ آنے والی نسلوں تک منتقل ہو تا ہے بلکہ معراج انسانیت تک بھی انسان مرتبہ حاصل کرتا ہے ۔ تعلیم کا ایک اور پہلو سماجی ترقی ہے ، تعلیم سما جی نقل و حرکت کو فروغ دیتی ہے اور سماجی استحکام کو کم کرتی ہے ، جس سے ایک مساوی معاشرہ تشکیل پاتا ہے ۔ صرف تعلیم ہی ہے جو انسان کو اپنے مقاصد تک پہنچنے کے قابل بناتی ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ تعلیم زندگی کا اہم حصہ ہے جو کہ ہمیں خوشگوار زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہے ۔ لہذا دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم کی اہمیت کا احساس کرتی ہیں ، تاریخ میں وہی قومیں یاد رکھی جاتی ہیں جو کہ کتابوں سے سیکھ کر نسل کی تربیت کرتی ہیں ۔ یاد رہے تعلیم ہی بہترین ہنر ہے جو ترقی و کا میابی دے سکتی ہے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں بھی علم حاصل کرنے والا بنا دے ، تعلیم حاصل کرنے اور تعلیم کی اہمیت و قدر کرنے کی توفیق عطا فرمادے ۔ (آمین )
رابطہ۔6291697668