مختار احمد قریشی
تعلیم کا بنیادی مقصد صرف معلومات دینا نہیں، تعلیم انسان کی سوچ بناتی ہے، تعلیم کردار سنوارتی ہے، اگر تعلیم اخلاق سے خالی ہو تو اس کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مگر بے اخلاق انسان معاشرے کے لیے بوجھ بن سکتا ہے۔ اسی لیے اخلاقی اقدار تعلیم کی روح ہیں۔اخلاقی اقدار میں سچائی، دیانت، احترام، برداشت، ذمہ داری اور ہمدردی شامل ہیں۔ یہ وہ صفات ہیں جو انسان کو انسان بناتی ہیں۔ ڈگری انسان کو روزگار دلا سکتی ہے۔ اخلاق انسان کو عزت دلاتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے اخلاق کو تعلیم کا حصہ بنایا وہ ترقی یافتہ بنے۔ جہاں اخلاق کو نظرانداز کیا گیا وہاں مسائل بڑھے۔
بچہ جب اسکول آتا ہے تو وہ خالی ذہن نہیں ہوتا۔ وہ گھر سے کچھ عادتیں اور رویے لے کر آتا ہے۔ اسکول ان عادتوں کو یا تو مضبوط کرتا ہے یا کمزور۔ اگر اسکول کا ماحول مثبت ہو تو بچہ اچھا سیکھتا ہے۔ اگر ماحول میں بدتمیزی، ناانصافی اور لاپرواہی ہو تو بچہ بھی وہی سیکھتا ہے۔ اس لیے اخلاق لیکچر سے نہیں بلکہ ماحول سے سکھائے جاتے ہیں۔
استاد اس عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ استاد کا رویہ بچے کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اگر استاد سچ بولتا ہے تو بچہ سچ بولنا سیکھتا ہے۔ اگر استاد وقت کی پابندی کرتا ہے تو بچہ نظم و ضبط سیکھتا ہے۔ اگر استاد ہر بچے کے ساتھ احترام سے پیش آتا ہے تو بچہ دوسروں کا احترام کرنا سیکھتا ہے۔ استاد کی ایک چھوٹی سی حرکت بڑے سبق میں بدل سکتی ہے۔
کلاس روم صرف پڑھانے کی جگہ نہیں۔ یہ کردار سازی کی جگہ ہے۔ استاد اگر نقل کو برداشت نہ کرے تو دیانت فروغ پاتی ہے۔ اگر وہ کمزور بچے کی مدد کرے تو ہمدردی سکھائی جاتی ہے۔ اگر وہ غلطی پر نرمی سے اصلاح کرے تو برداشت پیدا ہوتی ہے۔ یہ سب عملی تربیت ہے۔ یہ کتاب میں نہیں ملتی۔
اسکول کا نظم و ضبط بھی اخلاقی تربیت میں اہم ہے۔ صاف ستھرا ماحول صفائی کی عادت ڈالتا ہے۔ واضح قوانین ذمہ داری سکھاتے ہیں۔ انصاف پر مبنی نظام اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اگر سزا اور انعام میں فرق نہ ہو تو بچے الجھن کا شکار ہوتے ہیں۔ شفاف نظام بچوں کو درست راستہ دکھاتا ہے۔نصاب میں اخلاقی اقدار کو شامل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اخلاقی کہانیاں بچوں کے دل کو چھوتی ہیں۔ اچھی کہانیاں کردار کی اہمیت سمجھاتی ہیں۔ عملی مثالیں بچوں کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ اگر سبق میں ایمانداری کی مثال ہو تو بچہ اسے روزمرہ زندگی سے جوڑتا ہے۔ اس طرح تعلیم زندگی کے قریب آتی ہے۔
اخلاقی تعلیم کو الگ مضمون تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ہر مضمون اخلاق سکھا سکتا ہے۔ ریاضی ایمانداری اور درستگی سکھاتی ہے۔ سائنس تحقیق اور سچ کی تلاش سکھاتی ہے۔ سماجی علوم احترام اور ذمہ داری سکھاتے ہیں۔ زبان کے اسباق اظہار اور برداشت سکھاتے ہیں۔ جب ہر مضمون اخلاق سے جڑ جائے تو تعلیم مکمل بنتی ہے۔
آج کے دور میں اخلاقی تربیت کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ سوشل میڈیا اور تیز رفتار زندگی بچوں کو متاثر کر رہی ہے۔ بچے کم عمری میں بہت کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں۔ اگر اخلاقی بنیاد مضبوط نہ ہو تو وہ آسانی سے غلط راستے پر جا سکتے ہیں۔ اسکول کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو درست اور غلط میں فرق سکھائے۔والدین اور اسکول کا تعاون بھی ضروری ہے۔ اگر گھر کچھ سکھائے اور اسکول اس کے برعکس کرے تو بچہ الجھن میں پڑ جاتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کے ساتھ رابطہ رکھیں۔ بچوں کے رویے پر توجہ دیں۔ مشترکہ کوشش سے ہی اخلاقی تربیت ممکن ہے۔اخلاقی اقدار تعلیم کو بامقصد بناتی ہیں۔ ایسی تعلیم انسان کو صرف کامیاب نہیں بلکہ مفید بناتی ہے۔ ایک بااخلاق طالب علم اچھا شہری بنتا ہے۔ وہ قانون کا احترام کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہے۔ وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
تعلیم کا اصل حسن اخلاق میں ہے۔ جب علم اور اخلاق اکٹھے ہوں تو قوم ترقی کرتی ہے۔ اسی لیے تعلیم میں اخلاقی اقدار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مستقبل کی مضبوط بنیاد ہیں۔مزید یہ کہ اخلاقی تعلیم کا اثر صرف طالب علم تک محدود نہیں رہتا۔ ایک بااخلاق طالب علم اپنے گھر، محلے اور سماج میں مثبت تبدیلی لاتا ہے۔ وہ گفتگو میں شائستگی اختیار کرتا ہے۔ وہ بڑوں کا احترام کرتا ہے۔ وہ چھوٹوں کے ساتھ نرمی سے پیش آتا ہے۔ یہ رویے آہستہ آہستہ پورے معاشرے کا مزاج بدل دیتے ہیں۔اخلاقی اقدار بچوں میں خود اعتمادی بھی پیدا کرتی ہیں۔ جب بچہ سچ بولتا ہے تو اسے خوف نہیں رہتا۔ جب وہ دیانت داری سے کام کرتا ہے تو اسے اندرونی سکون ملتا ہے۔ یہ سکون تعلیمی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے۔ ایسے بچے امتحان میں نقل سے دور رہتے ہیں۔ وہ اپنی محنت پر بھروسا کرتے ہیں۔تعلیم میں اخلاقی تربیت بچوں کو فیصلہ کرنا بھی سکھاتی ہے۔ زندگی میں ہر وقت استاد یا والدین ساتھ نہیں ہوتے۔ ایسے وقت میں اخلاقی شعور رہنمائی کرتا ہے۔ بچہ خود طے کرتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط۔ یہی خود احتسابی ایک مضبوط کردار کی علامت ہے۔اسکول اسمبلی اخلاقی پیغام پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ روزانہ کا ایک مختصر پیغام بچوں کی سوچ بدل سکتا ہے۔ سچائی، صفائی، وقت کی پابندی اور احترام جیسے موضوعات پر بات کی جائے۔ عملی مثال دی جائے۔ بچے ان باتوں کو روزمرہ زندگی میں آزمانا شروع کرتے ہیں۔
کھیل بھی اخلاق سکھاتے ہیں۔ کھیل کے میدان میں ٹیم ورک، صبر اور انصاف سیکھا جاتا ہے۔ ہار قبول کرنا اور جیت میں عاجزی رکھنا اہم سبق ہیں۔ اگر استاد کھیل کے دوران رہنمائی کرے تو اخلاقی تربیت مضبوط ہوتی ہے۔ کھیل کو صرف تفریح نہ سمجھا جائے۔ یہ کردار سازی کا ذریعہ ہے۔اساتذہ کی تربیت بھی ضروری ہے۔ اگر استاد خود اخلاقی اقدار سے واقف نہ ہو تو وہ بچوں کو کیا دے گا۔ تربیتی پروگراموں میں اخلاقی تعلیم کو شامل کیا جائے۔ اساتذہ کو عملی طریقے سکھائے جائیں۔ اس سے کلاس روم کا ماحول بہتر ہوگا۔
تعلیمی اداروں میں شکایت اور مکالمے کا نظام ہونا چاہیے۔ اگر بچہ مسئلہ بیان کر سکے تو وہ تشدد یا جھوٹ کا سہارا نہیں لیتا۔ سننے کی روایت اعتماد پیدا کرتی ہے۔ اعتماد اخلاقی ترقی کی بنیاد ہے۔اخلاقی اقدار کا تعلق مستقبل سے ہے۔ آج کا طالب علم کل کا ڈاکٹر، استاد، افسر اور رہنما ہوگا۔ اگر اس کے اندر دیانت نہ ہو تو ترقی بے فائدہ ہو جاتی ہے۔ اگر اس کے اندر ہمدردی نہ ہو تو طاقت نقصان پہنچاتی ہے۔ اسی لیے اخلاقی تعلیم قومی ضرورت ہے۔تعلیم اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ علم راستہ دکھاتا ہے۔ اخلاق اس راستے پر درست طریقے سے چلنا سکھاتے ہیں۔ جب دونوں ساتھ ہوں تو فرد بھی سنورتا ہے اور معاشرہ بھی۔ یہی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔
(کالم نگار ،پیشہ سےایک استاد ہیں ان کا تعلق بونیاربارہمولہ سے ہے)
رابطہ۔8082403001
[email protected]