حال و احوال
محمد عارف انصاری
تعلیم انسانی زندگی کی فکری، اخلاقی اور سماجی ترقی کا مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ صرف معلومات، ڈگری یا ملازمت کے حصول کا نام نہیں بلکہ شعور، تحقیق، تنقیدی فکر اور بہتر کردار کی تشکیل کا مسلسل عمل ہے۔ ترقی یافتہ قوموں نے اپنے تعلیمی نظام کو انسان سازی، فکری آزادی اور سماجی ہم آہنگی کا وسیلہ بنایا ہے۔ ایک صحت مند تعلیمی نظام نئی نسل کو سوال کرنے، اختلافِ رائے کو سمجھنے اور حقیقت کو تعصب سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ اسی لیے جدید جمہوری معاشروں میں تعلیم کو فکری آزادی، سماجی استحکام اور تہذیبی شناخت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر تعلیم ذہنوں کو کھولنے کے بجائے محدود کرنے لگے تو معاشرہ علمی ترقی کے باوجود فکری جمود کا شکار ہو سکتا ہے۔موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، عالمی رابطوں اور اطلاعاتی نظام نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار صرف معاشی وسائل پر نہیں بلکہ اس پر ہے کہ اس کا تعلیمی نظام نئی نسل کو تخلیقی فکر، سائنسی مزاج، تنقیدی شعور اور انسانی اقدار سے کس حد تک آراستہ کرتا ہے۔ ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو محض کتابی علم تک محدود نہیں رکھتیں بلکہ اسے تحقیق، مکالمے، برداشت اور انسان دوستی کے فروغ کا ذریعہ بناتی ہیں۔ اگر طالب علموں کو سوال کرنے کے بجائے صرف ماننے کا عادی بنا دیا جائے تو فکری ارتقا ء رک جاتا ہے اور تخلیقی صلاحیتیں کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ہمارے ملک میں تعلیمی نظام ایک طرف ترقی اور امکانات کی تصویر پیش کرتا ہے تو دوسری طرف کئی چیلنجز بھی ہیں۔ نئی تعلیمی پالیسی، ڈیجیٹل تعلیم، آن لائن تدریسی ذرائع، سائنسی تحقیق اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کی توسیع نے امید کی نئی فضا پیدا کی ہے۔مگر دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی کمی، اساتذہ کا فقدان، تعلیمی عدم مساوات اور معیاری تعلیم تک محدود رسائی آج بھی برقرار ہے، جس کے باعث تعلیم بعض اوقات سماجی انصاف کے بجائے طبقاتی تفاوت کو مزید گہرا کر دیتی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ لاکھوں بچے آج بھی معیاری تعلیم سے محروم کیوں ہیں اور کیا صرف نئی پالیسیوں کے اعلان سے تعلیمی انقلاب ممکن ہے؟تعلیم کا بنیادی مقصد صرف معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ سچائی، تحقیق، تنقیدی فکر اور حقیقت پسندانہ شعور کو فروغ دینا ہوتا ہے۔ ایک غیر جانبدار تعلیمی نظام طلبہ کو آزادانہ سوچنے، سوال کرنے اور مختلف نظریات کو متوازن انداز میں سمجھنے کی صلاحیت عطا کرتا ہے۔ حقیقت پسند تعلیم تاریخ، سماج، مذہب اور سیاست کو جذباتیت کے بجائے تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر پیش کرتی ہے تاکہ مکالمہ، برداشت اور فکری ہم آہنگی فروغ پا سکے۔ جدید جمہوری معاشروں میں غیر جانبدار تعلیم سماجی استحکام اور قومی ترقی کے لیے ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔ اگر تعلیم تعصب، سیاسی مفادات یا نظریاتی جانبداری کا شکار ہو جائے تو تحقیق اور فکری آزادی متاثر ہونے لگتی ہے اور مکالمے کے بجائے یک رخا سوچ پروان چڑھنے لگتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے کہ کیا تعلیم کو نظریاتی رنگ دینے سے تعلیمی غیر جانبداری متاثر ہوتی ہے؟ کیا نصاب کا مقصد صرف قومی یا مذہبی شناخت کو مضبوط بنانا ہے یا باشعور انسان تیار کرنا بھی ہے جو مختلف خیالات کو سمجھ سکیں؟ ایک جمہوری اور کثرت پسند معاشرے میں اگر تعلیمی نظام صرف ایک فکر یا نظریے کو مرکزی حیثیت دینے لگے تو سماجی توازن متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ بحث رہی ہے کہ نصاب سازی کا پیمانہ علمی تحقیق، تاریخی توازن اور شواہد ہونا چاہیے یا سیاسی ترجیحات اور نظریاتی وابستگی؟ اگر تاریخ کو متوازن انداز کے بجائے مخصوص تعبیرات کے مطابق ڈھالا جائے تو نئی نسل ماضی کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے سے محروم ہو سکتی ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران ہندُستان میںنصابی کتابوں اور تعلیمی پالیسیوں میں بعض تبدیلیوں سے شدیدبحث پیدا ہوئی ہے۔ بعض علمی حلقوں کوخدشہ ہے کہ تاریخ کی نئی تعبیر کے نام پر نصاب میں ایسے تغیرات سے تعلیمی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے۔ مسلم حکمرانوں، صوفیہ، مجاہدینِ آزادی اور بعض تاریخی شخصیات کے ابواب کو مختصر یا حذف کیے جانے اور مذہبی و ثقافتی متون کو زیادہ اہمیت دینے جیسے اقدامات پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ این سی ای آر ٹی کے نصابات میں تبدیلیوں اور گیتا و رامائن کے اسباق کی شمولیت پر بھی بحث ہوئی۔ ناقدین کے مطابق اگر تاریخ کو متوازن تناظر کے بجائے نظریاتی ترجیحات کے مطابق ڈھالا جائے تو نئی نسل حقیقت کو وسیع انداز میں سمجھنے سے محروم ہو سکتی ہے۔دوسری طرف ان تبدیلیوں کے حامیوں کا موقف ہے کہ نصابی اصلاحات قومی شناخت، تہذیبی شعور اور ثقافتی اعتماد کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے مطابق طویل عرصے تک بعض تاریخی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا، لہٰذا نصاب میں تبدیلیاں توازن قائم کرنے کی کوشش ہیں۔ یہ مؤقف اپنی جگہ اہم ہے، مگر اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ توازن علمی مشاورت، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر قائم کیا جا رہا ہے یا نظریاتی ترجیحات کے مطابق؟ کیونکہ تعلیم جب سیاسی یا نظریاتی کشمکش کا حصہ بن جاتی ہے تو اس کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھنا فطری امر بن جاتا ہے۔ ایک تکثیری معاشرے میں تعلیم کا کردار مختلف طبقات، مذاہب، زبانوں اور تہذیبی تجربات کو یکجا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک شناخت کو دوسروں پر فوقیت دینا۔
تعلیم اگر فرقہ واریت یا عصبیت کا شکار ہو جائے تو اس کے اثرات صرف نصاب تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہوتا ہے۔ تعلیمی ادارے اگر تحقیق اور انسان دوستی کے بجائے نفرت، احساسِ برتری یا مذہبی و نسلی تقسیم کو فروغ دیں تو نئی نسل میں عدم برداشت بڑھنے لگتی ہے۔ فرقہ پسندانہ تعلیم طلبہ کی تنقیدی صلاحیت محدود کر دیتی ہے اور وہ مختلف خیالات کو دشمنی کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ ایسی فکری تنگ نظری کئی معاشروں کو تشدد، انتشار اور سماجی خلفشار کی طرف دھکیل چکی ہے۔ اگر نئی نسل کو یک رخا تاریخ یا محدود نظریاتی تناظر میں تعلیم دی جائے تو سماجی ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے، کیونکہ تعلیم کا مقصد ذہنوں کو کھولنا، سوال پیدا کرنا اور انسان کو انسانیت کے وسیع تناظر سے جوڑنا ہے، نہ کہ اسے فکری دائروں میں قید کرنا۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ ہر ملک اپنے نصاب میں تہذیبی اور ثقافتی عناصر شامل کرتا ہے، مگر اصل اہمیت توازن، شمولیت اور علمی دیانت کی ہوتی ہے۔ ایک جمہوری اور کثرت پسند معاشرے میں نصاب کو تمام طبقات، تہذیبوں اور تاریخی ادوار کی متوازن نمائندگی کرنی چاہیے۔ اگر نئی نسل کو صرف ایک نظریاتی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو اس کی تنقیدی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔ تعلیمی ادارے اس وقت حقیقی معنوں میں مضبوط ہوتے ہیں جب وہاں تحقیق، مکالمہ اور اختلافِ رائے کے لیے جگہ موجود ہو۔ اگر تعلیمی ماحول خوف، دباؤ یا نظریاتی وابستگی کے تحت تشکیل پانے لگے تو تخلیقی فکر کمزور پڑ جاتی ہے اور نئی نسل مختلف خیالات کو سمجھنے کے بجائے ان سے خوف زدہ ہونے لگتی ہے۔
اسلامی تعلیمات بھی علم کو محض مذہبی معلومات تک محدود نہیں کرتیں بلکہ غور و فکر، تحقیق، عدل اور انسانیت کی تعلیم دیتی ہیں۔ قرآن مجید بار بار انسان کو سوچنے، تدبر کرنے اور کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلامی تہذیب کے سنہری دور میں مسلمانوں نے فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات اور دیگر علوم میں جو غیر معمولی ترقی کی، اس کی بنیاد کھلے فکری ماحول، تحقیق اور مکالمے پر تھی۔ یہی تاریخی حقیقت یہ سبق دیتی ہے کہ جب تعلیم سوال، تحقیق اور فکری آزادی کے دروازے کھولتی ہے تو معاشرے ترقی کرتے ہیں، اور جب اسے محدود کر دیا جاتا ہے تو فکری زوال شروع ہو جاتا ہے۔ علم کا حقیقی مقصد انسان کو سچائی کی تلاش کرنے والا باشعور فرد بنانا ہے، نہ کہ محض کسی نظریے کا پیروکار۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو سیاسی کشمکش، مذہبی عصبیت اور نظریاتی مفادات سے بالاتر رکھا جائے۔ نصابی اصلاحات ضروری ہیں، مگر ان کا مقصد فکری وسعت، علمی دیانت، سماجی ہم آہنگی، تحقیق اور حقیقت پسندی کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔ مضبوط قوم وہی ہوتی ہے جو نئی نسل کو سوال کرنے، اختلاف برداشت کرنے اور مختلف نظریات کو سمجھنے کا حوصلہ دے۔ اگر تعلیم ذہنوں کو کھولنے کے بجائے بند کرنے لگے تو معاشرے ترقی کے بجائے فکری جمود کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیم کو انسان سازی، شعور بیداری، تنقیدی فکر، تحقیق اور مشترکہ انسانی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ہنر مند، باشعور، متوازن، روادار اور انسان دوست بن سکیں۔
رابطہ۔9572908382
[email protected]
��������������������