سید مصطفیٰ احمد
اب ’ بے چینی‘ بیشتر لوگوں کی زندگی کا دوسرا نام بن کر رہ گئی ہے۔ ہر شخص چین کی آس میں پُراسرار بے چینی کو یہ سوچ کر برداشت کرتا ہے کہ مستقبل میں آرام و سکون کی ملائم اور روح کو تسکین پہنچانے والی ٹھنڈی ہوائیں ہماری بے قراری کو قرار کے مضبوط گھروندوں سے ٹھوس بنائیں گی۔ لیکن کسی گیت کار نے کیا خوب لکھا ہے کہ ’’خوشی کی چاہ میں، میں نے اٹھائے غم بہت‘‘ اسی فلسفے کے مصداق ہماری حالت بھی ایسی ہے کہ ایک دن قرار پائیں گے۔ ایک اور گیت کار لکھتے ہیں کہ ’’قرار پا نہ سکے ہم دو گھڑی کے لیے، تمام عمر ترستے رہے خوشی کے لیے۔‘‘ اس بات سے میرے مضمون کا مغز واضح ہو جاتا ہے۔
جب میرے دل میں بھی بے قراری لہروں کی طرح ٹکراتی ہے اور طوفان اٹھاتی ہے، تو میں اپنی کم علمی کا اظہار فون اٹھا کر کچھ الفاظ تحریر کرنے بیٹھ جاتا ہوں۔ اس کا وقتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ میں کچھ وقت کے لیے بے چینی کے آہنی پنجوں سے چھوٹ جاتا ہوں اور اپنے آپ کو آزاد محسوس کرتا ہوں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرکار بے چینی ہمارے دامن سے کیسے ایسی چمٹ گئی ہے کہ دور ہونے کا نام ہی نہیں لیتی؟ کیا اس دنیا میں صرف بے چینی ہی کا دور دورہ ہے؟ کیا کہیں دور یا نزدیک کوئی ایسا جادو ہے جو بے چینی کو ایک ہی منتر سے چین اور سکون کے ایسے مینار میں تبدیل کر دے جس کے بعد کبھی بے چینی کا کوئی وجود نہ رہے؟
وجوہات (Causes) :بے چینی کے اس بھیانک طوفان کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی جڑوں تک پہنچیں۔ چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:
(۱) دوڑ کی ہوس اور مادی ترجیحات:آج کا انسان مادیت کی دوڑ میں اس قدر مگن ہے کہ اسے اپنی جان کی پروا نہیں رہی۔ ہر شخص دوسروں سے زیادہ کمائی، زیادہ عیش و عشرت اور زیادہ ناموری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہ مسلسل مقابلہ انسان کو ذہنی طور پر تھکا دیتا ہے۔ نتیجتاً جو کچھ مل چکا ہے، اس میں سکون نہیں آتا کیونکہ نظر ہمیشہ دوسروں کی طرف رہتی ہے۔ اس طرح بے چینی کے پنجے ہماری روح تک گھڑ جاتے ہیں اور ان سے جان چھڑانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
(۲) مستقبل کا غیر ضروری خوف:ہمارے ذہن کا زیادہ تر حصہ ’’کل کیا ہو گا؟‘‘ کی فکر میں مصروف ہے۔ نوکری جائے گی؟ بچے کامیاب ہوں گے؟ صحت کیسی رہے گی؟ جب کہ اسلامی تعلیم ہے کہ ’’کل کے غم کو کل پر چھوڑ دو، آج کا حق آج ادا کرو۔‘‘ یہ ہماری بے چینی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جب حال کی جگہ مستقبل لے جائے،تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سکون والی زندگی گزاری جاسکے۔حال میں جینے والا شخص ہی حقیقی زندگی کو جی سکتا ہے۔
(۳) ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کا بے تحاشا اور غیر ضروری استعمال:انفارمیشن کا سیلاب ہمارے دماغ پر مسلسل حملہ آور رہتا ہے۔ ہر وقت خبریں، اپ ڈیٹس، دوسروں کی کامیابیاں اور زندگی کے چمکدار پہلو ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہماری زندگی ادھوری ہے۔ یہ مصنوعی بے چینی پیدا کرتا ہے۔ ان حالات میں اپنے وجود سے گھن آنے لگتی ہے اور دھیرے دھیرے انسان بے چینی کے طوفانوں میں گھر جاتا ہے۔
(۴) روحانی تسکین سے دوری:ہم نے تو مادی ترقی بہت کر لی، لیکن اپنے دل اور روح کی طرف کبھی دھیان نہیں دیا۔ ہم نے ہمیشہ باہر کی دنیا کی طرف دیکھا، بیرونی چیزوں سے متاثر ہوتے رہے، لیکن اپنی اصل دنیا میں ہم نے کبھی جینے کی کوشش نہیں کی۔ نماز، ذکر، فکر اور تنہائی میں اپنے رب سے تعلق کمزور ہو گیا ہے۔ اگر ان نیک کاموں کو انجام بھی دیا جاتا ہے، تو اس نیت سے کہ میں ثواب کما رہا ہوں اور آخرت میں مجھے جنت نصیب ہوگی۔ روح جب خالق سے کٹ جاتی ہے تو اسے قرار کہاں سے ملے گا؟
(۵) توقعات کا بوجھ:خود سے، اہل خانہ سے اور معاشرے سے غیر حقیقی توقعات ہم پر بوجھ بن جاتی ہیں۔ جب وہ پوری نہیں ہوتیں تو مایوسی اور بے چینی جنم لیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ مال، اولاد اور دیگر اشیاء ایسی چیزیں ہیں جو ہمیں اس کی یاد سے غافل کر سکتی ہیں۔ ہم ان چیزوں میں اس قدر مگن ہو گئے کہ بے چینی کے ایک باب سے نکل کر دوسرے باب میں داخل ہوتے رہے اور منزل مقصود پر کبھی نہ پہنچ پاتے ہیں۔
نتائج (Consequences) :بے چینی کسی معمولی مسئلے کا نام نہیں، یہ رفتہ رفتہ پوری زندگی کو تباہ کر دیتی ہے۔ اس کے چند اہم نتائج یہ ہیں:
(۱)جسمانی اور ذہنی امراض:بے چینی کا براہ راست اثر انسانی صحت پر پڑتا ہے۔ یہ ڈپریشن، بلڈ پریشر، ذیابیطس، معدے کے امراض اور دل کی بیماریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔ یہ نیند کو تباہ کر دیتی ہے اور انسان تھک کر چور ہو جاتا ہے۔اس نہ تھمنے والی تھکن سے پوری زندگی بےمعنی ہوکر رہ جاتی ہے۔پھر ہم جانوروں سے بھی گئے گذرےہوئے لسٹ میں داخل ہوجاتے ہیں۔
(۲) خاندانی تعلقات کا بگاڑ:ایک بے چین انسان نہ خود سکون پاتا ہے اور نہ اپنوں کو دیتا ہے۔ غصہ، تلخی، بے صبری گھر کا معمول بن جاتی ہے۔ میاں بیوی میں دوریاں بڑھتی ہیں، بچوں کی تربیت متاثر ہوتی ہے اور کئی بار صورت حال طلاق یا علیحدگی تک جا پہنچتی ہے۔ یہ ساری خرابیاں ہمارے اردگرد موجود ہیں اور ہم سب کے انسان ہونے پر طعنہ دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ ہے اشرف المخلوقات کی حقیقت۔جس انسان کو تخلیق کے اونچے پائیدان پر رکھا گیا تھا،وہ اپنی مدہوشی اور ضد سے ان میں شمار ہونے لگےہیں جو صرف تباہی ہی تباہی جانتے ہیں۔
(۳) فیصلہ سازی کی صلاحیت کا خاتمہ:بے چینی میں انسان سوچ سمجھ کر فیصلے نہیں کر پاتا ہے۔ جلد بازی میں لیے گئے فیصلے زندگی بھر پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں۔ کاروبار، تعلیم یا ازدواجی زندگی میں ایسے فیصلے اکثر تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔اس کی مثالیں چہار سو ہیں۔ہر کوئی اپنے ہی فیصلوں پر نالاں ہیں۔وہ ہر ایرے غیرے نتھوخیرے کے سامنے اپنے غلط فیصلوں کی فائل کھولے ہوئے ہیں۔اس کے نالے ہوا میں گھل کر اس کے منہ ہر ایسا تھپڑ رسید کرتے ہیں کہ مردوں میں بھی جان آئیں۔
(۴) معاشرتی سطح پر عدم استحکام:جب افراد بے چین ہوں گے تو معاشرہ پرامن کیسے رہ سکتا ہے؟ بے چینی عدم برداشت، جرائم، منشیات کی لت اور خودکشی جیسے سنگین مسائل کو جنم دیتی ہے۔اس طرح پورا سماج تباہی کی ڈگر پر چلنا شروع کردیتا ہے اور نسل در نسل یہ بےچینی کے زہریلے بیج ایسے تناور درختوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں کہ کسی بھی قسم کا پرہیز قابل قبول نہیں ہوتا ہے۔
تدابیر (Remedial Measures): بے چینی سے نجات کے لیے کوئی جادو نہیں بلکہ کچھ سنجیدہ اور عملی اقدامات ہیں۔ اگر ان پر عمل کر لیا جائے تو سکون ممکن ہے:
(۱) مقصد زندگی کا تعین:جس شخص کا مقصد واضح ہو، وہ بھٹکتا نہیں۔ زندگی کا مقصد صرف دولت جمع کرنا نہیں ہونا چاہیےبلکہ اپنے رب کی رضا، اہل خانہ کی خدمت اور معاشرے میں مفید ہونا بھی شامل ہو۔ مقصد کی وضاحت بے چینی کو خود بخود کم کر دیتی ہے۔
(۲) حال میں جینے کی مشق:ماضی کے غم اور مستقبل کی فکر کو چھوڑ کر ’’حال‘‘ میں جینا سیکھنا وقت کی اہم ضروریات میں سے ایک ہے۔ روزانہ چند منٹ خاموشی سے بیٹھ کر گہرے سانس لینے کی مشق کریں۔ جب ذہن بھٹکنے لگے تو اسے حال میں لانے کی عادت ڈالنا بھی نہایت اہم ہوگیا ہے۔
(۳) روحانی تعلق کو مضبوط کریں:نماز، ذکر اور تلاوت قرآن کو معمول بنائیں۔ اللہ پر توکل وہ طاقت ہے جو تمام بے چینیوں کو ختم کر سکتی ہے۔ یقین رکھیں جو اللہ کے راستے پر چلے گا، اللہ اس کی بے چینی کو ضرور دور کرے گا۔خدا کی رضا ہر راضی رہنے والے کبھی بھی بےچینی کے شکار نہیں ہوسکتے۔ان کو اس بات کا صحیح ادراک ہیں کہ جو بھی فیصلہ اللہ کے یہاں سے آتا ہے وہ کبھی بھی ایک بندے کے خلاف نہیں ہوسکتا ہے۔
(۴) ڈیجیٹل دنیا سے دوری:روزانہ کم از کم ایک سے دو گھنٹے موبائل، ٹی وی اور سوشل میڈیا سے دور رہیں۔ یہ وقت اہل خانہ کے ساتھ گزاریں، کوئی مشغلہ اپنائیں، یا فطرت کے قریب جائیں۔ دوسروں کی مصنوعی زندگیوں کو دیکھنا چھوڑ دیں۔مصنوعیت کو چھوڑ کر حقیقی روپ اختیار کرنے میں لاکھوں مشکلات ہیں لیکن اصلی قرار حقیقی توقعات کو گلے لگانے میں ہی پنہاں ہیں۔
(۵) شکر کی عادت:جو کچھ اللہ نے دیا ہے، اس پر روزانہ غور کریں۔ شکریہ بے چینی کا سب سے بڑا علاج ہے۔ جب انسان اپنے پاس موجود نعمتوں کو گنے گا تو اسے دوسروں کی چیزوں کی فکر کم ہو گی۔اس طرح شکرگزاری کا مادہ اللہ کی رضامندی کا ضامن ہے اور بےچینی کے طوفانوں کو روکنے کا سب سے شاندار ہتھیار۔
(۶) توقعات میں کمی:اپنی اور دوسروں سے توقعات کو معقول حد تک رکھیں۔ ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق ہو، یہ ناممکن ہے۔ جو حال ہے اسے قبول کرنا سیکھیں، یہ بے چینی کو کم کرتا ہے۔ولیم شیکسپئیر بھی کہتے ہیں کہ توقعات ہر مصیبت یا پریشانی کی جڑ ہے۔توقعات اللہ سے وابستہ ہونی چاہیے۔دنیا اور آخرت کی توقعات کو اگر خدا کی توقعات کے سامنے قربان کیا جائے، تب بے چینی کی کھار دار جھاڑیوں میں سے نکلنا بہت آسان ہیں۔
اختتام (Conclusion):آخر پر بے چینی کوئی لاعلاج مرض نہیں ہے۔ یہ ہماری سوچ، ترجیحات اور عادات کا ہی نتیجہ ہے۔ جب تک ہم ظاہری چمک دار زندگی، دوسروں سے مقابلہ اور غیر ضروری مادی چیزوں کے پیچھے بھاگتے رہیں گے، بے چینی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی ذات کی طرف لوٹیں، اپنے رب سے جڑیں اور زندگی کے حقیقی مقصد کو سمجھیں۔ دنیا میں رہ کر اپنی آخرت کی فکر کریں، یہاں کی زینت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو پہچانیں اور اس ہستی کو پہچانیں جس کے ہمارے اوپر ان گنت احسان ہیں۔ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپور کوششیں کریں۔
قارئین کرام! بے چینی کا ایک لمحاتی حل تو فون اٹھا کر الفاظ لکھ دینا ہے، لیکن مستقل سکون صرف رضائے الٰہی میں راضی رہنے، اپنے حال پر شکر کرنے، توقعات کو کم کرنے اور دوسروں کی مدد کرنے میں ہے۔ آئیے ،آج ہم عہد کریں کہ ہم بے چینی کو اپنے وجود کا حصہ نہیں بننے دیں گے۔ یاد رکھیں: ’’قرار پا سکتے ہیں ہم اگر چاہیں تو دو گھڑی کے لیے، بس اپنی ذات کے سمندر میں اترنا ہوگا کہیں سے کشتی لے کے‘‘، یہ کشتی تب ہی ہماری بن سکتی ہے جب ہم اپنے آپ سے ملاقات کریں گے اور اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پائیں گے، اپنا بننے کے علاوہ اُس کے بن جائیں گے جو ہماری شہہِ رگ سے بھی نزدیک ہے۔ وہ سوتے جاگتے ہمارے ساتھ ہے۔ اے انسان! اپنے آپ سے پوچھ کہ تو خدا کو ناراض کرکے کہاں چین حاصل کر سکتا ہے؟
[email protected]