ڈاکٹر شگفتہ خالد ی
کشمیر ایک خوبصورت خطہ ہے لیکن اس خوبصورتی کے پیچھے کئی تلخ حقیقتیں بھی چھپی ہوئی ہیں۔ ان حقیقتوں میں سب سے دردناک مسئلہ بے سہارا خواتین کا ہے۔ مختلف قصبوں اور دیہات میں یتیم، بیوہ اور بے سہارا عورتیں خاموشی کے ساتھ مشکلات بھری زندگی گزار رہی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں شادی کی عمر بھی گزار چکی ہیں، مگر غربت، بے روزگاری اور سماجی مسائل کی وجہ سے ان کے رشتے طے نہیں ہو پاتے۔ یہ مسئلہ صرف چند خاندانوں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
کشمیر کے کئی علاقوں میں طویل عرصے سے جاری حالات، بے روزگاری اور معاشی عدم استحکام نے عام لوگوں کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ جب کسی گھر کا کفیل فوت ہو جائے تو اس کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچوں پر پڑتا ہے۔ بیوہ عورتیں نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کی ذمہ داری اٹھاتی ہیں بلکہ معاشی بوجھ بھی برداشت کرتی ہیں۔ ان کے پاس تعلیم اور ہنر کی کمی ہوتی ہے، جس کی وجہ سے باعزت روزگار حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً وہ غربت، محتاجی اور سماجی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
یتیم لڑکیاں بھی ایک الگ مسئلہ ہیں۔ والدین کے سائے سے محروم بچیاں اکثر رشتہ داروں کے سہارے پلتی ہیں، لیکن ہر جگہ حالات سازگار نہیں ہوتے۔ بعض اوقات انہیں بنیادی ضروریات، تعلیم اور تحفظ تک میسر نہیں ہوتا۔ جب وہ جوان ہوتی ہیں تو شادی ایک بڑا مسئلہ بن جاتی ہے۔ جہیز کا رواج، مالی مشکلات اور سماجی توقعات ان کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ یوں کئی لڑکیاں شادی کی عمر گزار دیتی ہیں اور احساسِ محرومی کا شکار ہو جاتی ہیں۔
بے سہارا بیواؤں کی حالت بھی قابلِ توجہ ہے۔ وہ عزت اور خودداری کے ساتھ زندگی گزارنا چاہتی ہیں، مگر وسائل کی کمی انہیں دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ بعض خواتین گھروں میں سلائی کڑھائی یا چھوٹے موٹے کام کر کے گزارا کرتی ہیں، مگر یہ آمدنی ناکافی ہوتی ہے۔ اگر مناسب تربیت، قرضِ حسنہ اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو یہ خواتین خود کفیل بن سکتی ہیں۔
کچھ فلاحی ادارے اور مقامی تنظیمیں اس میدان میں کام کر رہی ہیں۔ وہ یتیم بچیوں کی شادیوں میں مدد کرتے ہیں، بیواؤں کو مالی امداد دیتے ہیں اور ہنر سکھانے کے پروگرام بھی چلاتے ہیں۔ یہ کوششیں قابلِ تعریف ہیں مگر ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وسائل محدود ہیں اور مستحقین کی تعداد بہت زیادہ۔ اسی لیے بہت سا کام ابھی باقی ہے۔
حکومتی سطح پر بھی مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت مضبوط سماجی تحفظ کا نظام قائم کرے، بیواؤں کے لیے باقاعدہ وظیفہ مقرر کرے، ہنر مندی کے مراکز قائم کرے اور جہیز کے خلاف مؤثر قانون سازی کرے تو حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم اور روزگار کے مواقع بڑھانے سے بھی خواتین کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے اکثر اوقات سرکاری خاموشی یا سست روی کے باعث مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔
معاشرے کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہمیں اجتماعی طور پر سوچ بدلنی ہوگی۔ جہیز جیسی رسموں کو ختم کرنا ہوگا اور سادگی سے شادیوں کو فروغ دینا ہوگا۔ مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ ان بہنوں کی مدد کو اپنا فرض سمجھیں۔ زکوٰۃ، صدقات اور عطیات کو منظم انداز میں مستحقین تک پہنچایا جائے۔ مساجد، مدارس اور سماجی تنظیمیں مل کر ایک مضبوط نیٹ ورک بنا سکتی ہیں جو بے سہارا خواتین کی مستقل کفالت کرے۔
اصل ضرورت ہمدردی کے ساتھ عملی اقدام کی ہے۔ صرف افسوس کرنے یا وقتی مدد دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ تعلیم، ہنر اور خود کفالت ہی دیرپا حل ہیں۔ جب ایک بیوہ یا یتیم لڑکی اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے گی تو وہ نہ صرف اپنی زندگی سنوارے گی بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثال بنے گی۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیر کی بے سہارا خواتین ہماری توجہ اور مدد کی مستحق ہیں۔ ان کی خاموش آنکھوں میں امید کی ایک کرن جگانے کے لیے حکومت. اداروں اور عوام سب کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج ذمہ داری نہ نبھائی تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ مگر اگر خلوصِ نیت اور عملی اقدامات کے ساتھ آگے بڑھیں تو یقیناً ایک بہتر اور باوقار معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہےجہاں کوئی عورت خود کو تنہا اور بے سہارا محسوس نہ کرے۔
[email protected]