آصف حسین الکشمیری
دنیا کے سب سے حسین تحفوں میں اگر کسی نعمت کا نام لیا جائے تو بیٹیاں اس فہرست میں سب سے اوپر نظر آتی ہیں۔ بیٹیاں گھر کی رونق، دلوں کا سکون اور خاندان کی نرم ترین خوشبو ہوتی ہیں۔ وہ محض ایک رشتہ نہیں ہوتیں بلکہ احساس، محبت، حیا اور رحمت کا جیتا جاگتا پیکر ہوتی ہیں۔ افسوس کہ زمانۂ جاہلیت کی کچھ باقیات آج بھی ہمارے معاشروں میں سانس لے رہی ہیں، جہاں بیٹی کی پیدائش کو خوشی کے بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے، اور مسکراہٹ کے بجائے چہرے اتر جاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف انسانیت کے خلاف ہے بلکہ دینِ اسلام کی روشن تعلیمات سے بھی کھلی بغاوت ہے۔اسلام سے پہلے کے دور میں بیٹی کو کمتر سمجھا جاتا تھا۔ جہالت کی اندھیروں میں ڈوبی ہوئی وہ سوچ، جس میں بیٹی کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا، انسانیت پر ایک بدنما داغ تھی۔ مگر اسلام آیا تو اس نے اس ظلم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ قرآنِ مجید نے بیٹی کو رحمت قرار دیا، اور رسولِ اکرمؐ نے اپنے قول و عمل سے اس کی عظمت کو پوری انسانیت کے سامنے واضح کر دیا۔
حضرت فاطمہؓ جب حضور اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوتیں تو آپؐ احتراماً کھڑے ہو جاتے، اپنی صاحبزادی کو اپنے پاس بٹھاتے اور شفقت و محبت سے ان کی پیشانی کو بوسہ دیتے۔ یہ محض باپ اور بیٹی کے درمیان محبت کا منظر نہیں تھا بلکہ قیامت تک آنے والی امت کے لیے ایک زندہ درس تھا کہ بیٹی عزت، محبت اور وقار کی سب سے بڑی حق دار ہے۔ نبی کریمؐ کا یہ طرزِ عمل ہمیں بتاتا ہے کہ بیٹی کا مقام دلوں میں سب سے بلند ہونا چاہیے، نہ کہ معاشرتی ترجیحات میں سب سے نیچے۔
رسولِ اکرمؐ نے بیٹیوں کی پرورش کو جنت کا راستہ قرار دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ جس نے دو یا تین بیٹیوں کی اچھی پرورش کی، ان کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا اور ان کے نکاح کی ذمہ داری احسن طریقے سے ادا کی، اس کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ یہ اعلان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں بیٹی بوجھ نہیں بلکہ نجات، رحمت اور اجر کا ذریعہ ہے۔
بیٹیاں گھر میں محبت کا توازن قائم رکھتی ہیں۔ ماں کے لیے وہ سہارا، باپ کے لیے رحمت اور بھائیوں کے لیے اخلاق و حیا کی عملی درسگاہ ہوتی ہیں۔ ان کی مسکراہٹ میں گھر کی تھکن اتر جاتی ہے، اور ان کے لہجے میں دلوں کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ جس گھر میں بیٹیوں کو عزت دی جاتی ہے، وہاں سختی خود بخود نرمی میں بدل جاتی ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی بیٹیاں کسی سے کم نہیں۔ آج وہ علم، ادب، طب، سائنس، تدریس اور سماجی خدمت کے ہر شعبے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ بیٹی صرف اپنے خاندان کی نہیں بلکہ پوری نسل کی فکری بنیاد مضبوط کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تعلیم کو مرد و عورت دونوں کے لیے فرض قرار دیا۔
لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جدید دور کی چمک دمک کے باوجود، بیٹی کے خلاف ظلم کی شکلیں ختم نہیں ہوئیں بلکہ صرف انداز بدل گیا ہے۔ آج بیٹی کو زندہ درگور کرنے کے بجائے رحمِ مادر میں ہی اس کا اسقاط کر دیا جاتا ہے۔ جدید آلات اور جھوٹے سماجی دباؤ کے نام پر بیٹی کی زندگی چھین لینا دراصل جاہلیت کا وہی جرم ہے، جس پر صرف لباسِ جدید چڑھا دیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک طبی عمل نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی اور دینی جرم ہے، جس کی ذمہ داری پورا معاشرہ اٹھاتا ہے۔بدقسمتی سے آج بھی کئی گھروں میں بیٹی کی خبر خوشی کے بجائے مایوسی بن جاتی ہے۔ چہرے اتر جاتے ہیں، دعاؤں کی جگہ شکوے آ جاتے ہیں، اور رحمت کو زحمت سمجھ لیا جاتا ہے۔ یہ سوچ نہ صرف بیٹی کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ اللہ کی نعمت کی ناقدری بھی ہے۔
اسلام نے بیٹی کو وراثت، عزت، تحفظ اور مکمل انسانی حقوق عطا کیے ہیں۔ اس کی کفالت، تعلیم، تربیت اور نکاح والدین کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔ بیٹی کے ساتھ حسنِ سلوک محض اخلاقی خوبی نہیں بلکہ عبادت ہے، اور اس میں کوتاہی محض سماجی غلطی نہیں بلکہ دینی غفلت ہے۔بیٹیاں معاشرے میں اخلاقی توازن کی ضامن ہیں۔ وہ حیا، صبر، برداشت اور وفا کی عملی تصویر ہوتی ہیں۔ ایک باکردار بیٹی پورے معاشرے کو سنوار سکتی ہے، بشرطیکہ اسے سنورنے کا موقع دیا جائے۔بیٹی کی قدر دراصل ایک معاشرے کی فکری سطح کا پیمانہ ہوتی ہے۔ جس سماج میں بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، وہاں نہ دل مطمئن رہتے ہیں اور نہ نسلیں سنورتی ہیں۔ اور جس معاشرے میں بیٹی کو نعمت سمجھ کر سینے سے لگایا جاتا ہے، وہاں گھروں میں برکت، دلوں میں سکون اور مستقبل میں روشنی اتر آتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنی بیٹیوں کو تعلیم، تحفظ اور عزت دی، وہی قومیں فکری و اخلاقی بلندی تک پہنچیں۔ بیٹی کو کمتر سمجھنا دراصل اپنے ہی مستقبل کو کمزور کرنا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم محض تقریروں اور نعروں تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے گھروں سے عملی تبدیلی کا آغاز کریں۔ بیٹی کی پیدائش پر چہروں کی خوشی، لہجوں کی نرمی اور رویّوں کی گرمجوشی اس بات کا اعلان ہو کہ ہم نے اسلام کی اصل روح کو سمجھ لیا ہے۔ بیٹی کو جینے کا حق دینا، اسے پڑھنے کا موقع دینا، اور اسے باوقار زندگی دینا ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں فرد سے معاشرہ اور معاشرے سے امت کی اصلاح تک لے جاتا ہے۔بیٹیاں اللہ کی نعمت ہیں، رحمتوں کا تحفہ اور سکون کی علامت ہیں۔ ان کی قدر کرنا دراصل اللہ کے شکر کا عملی اظہار ہے۔ جو قوم اپنی بیٹیوں کو عزت دیتی ہے، وہی قوم حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہے۔
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]