شفیع نقیب
کھلی دھوپ کی نرمی جب چلہ خورد کی سرد آہٹوں کو رخصت کرنے لگتی ہے اور بادِ بہار شاخوں کو ہلکا سا جھولا دیتی ہے تو وادی کشمیر کا دل ایک نئی اُمید سے دھڑکنے لگتا ہے۔ مگر اس بار بہار کی آمد محض موسم کی تبدیلی نہیں، ایک سوال ہے۔کیا ہم اب بھی سنبھلیں گے یا سب کچھ یوں ہی بے سمت چھوڑ دیں گے؟
وادی کا موسم بدل رہا ہے، مگر یہ تبدیلی فطری نہیں۔ برف باری میں نمایاں کمی آ چکی ہے، بارشیں بے وقت اور بے ترتیب ہو گئی ہیں، چشموں کا پانی گھٹ رہا ہے، ندی نالے سکڑ رہے ہیںاور سبزہ زار روز بروز محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ موسمِ گرما میں جنگلات کی آگ معمول بنتی جا رہی ہے اور جنگلی جانور خوراک کی تلاش میں شہری آبادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ سب محض حادثات نہیں بلکہ ہمارے ہاتھوں بوئے ہوئے بیجوں کی فصل ہے۔
ہم نے طوفان کی رفتار سے زمین سے درخت اُکھاڑ دئے۔ تعمیرات کے نام پر کنکریٹ کے جنگل اُگا دئے۔ میوہ باغات کے بیچوں بیچ سڑکیں اور ریلوے لائنیں بچھا دیں۔ بے ہنگم بستیوں نے کھیتوں اور چراگاہوں کو نگل لیا۔ محکمہ مال کے بعض عناصر اور خصوصاً چند ایک اہلکاروں نے زرعی زمین کو’’بنجر قدیم‘‘ قرار دے کر رہائشی کالونیوں کے لئے راستے ہموار کئے۔ ایک قلم کی جنبش نے زمین کی تقدیر بدل دی اور وادی کی تقدیر بھی۔نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ کہیں خشک سالی کی کیفیت ہے تو کہیں اچانک سیلابی صورت حال۔ بجلی کی ترسیل متاثر ہے کیونکہ پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں۔ درختوں کے کٹاؤ نے بارشوں کے توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ زمین کی زرخیزی کمزور پڑ رہی ہے۔ جنگلات سکڑ رہے،جنگلی حیات شہری آبادی کا رخ کرکے انسانوں کو نگل رہے ہیں اور فصلوں کو برباد کررہے ہیں اور ان کے ساتھ پرندوں کی چہچہاہٹ بھی مدھم ہو رہی ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ قصور کس کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ علاج کیا ہے؟ اگر مرض اجتماعی ہے تو علاج بھی اجتماعی ہوگا۔ انتظامیہ اور عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کرنا ہوگا۔ ہمیں اس طوفان کو روکنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔انتظامیہ کو چاہئے کہ محکمہ جنگلات، محکمہ تعلیم، سوشل ویلفیئر اور پولیس کو واضح ذمہ داریاں تفویض کرے۔ ریاست گیر سطح پر شجر کاری کی منظم اور مربوط مہم کا آغاز کیا جائے جس میں عوامی نمائندے اور سماجی ادارے شریک ہوں۔ یہ محض رسمی پودے لگانے کی تقریب نہ ہو بلکہ ایک مسلسل تحریک ہو۔
سب سے پہلے محکمہ مال کو جواب دہ بنایا جائے۔ کسی زرعی اراضی کو بنجر قدیم قرار دینے سے پہلے محکمہ آبپاشی، زراعت، واٹر ورکس، پولیس، بلاک ڈیولپمنٹ اتھارٹی، مقامی پنچایت اور سوشل ویلفیئر سے باقاعدہ مشاورت اور تحریری رائے لی جائے۔ زمین کے فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری کے ساتھ ہوں۔کسی بھی نئی تعمیر، شاپنگ کمپلیکس، سڑک یا ریلوے ٹریک کی منظوری سے پہلے ان محکموں کی مشترکہ رپورٹ لازمی قرار دی جائے۔ ترقی کا مطلب صرف عمارتیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ ماحول کو بچانا بھی ہے۔ ہر نئی سڑک کے ساتھ سڑک کے کنارے درخت لگانے کے لئے بجٹ مختص کیا جائے اور اسے اولین ترجیح دی جائے۔محکمہ جنگلات اور محکمہ زراعت ہر اسکول
اور کالج کو مفت پودے فراہم کریں۔ طلبہ کو بنجر زمینوں پر اجتماعی شجر کاری کی ذمہ داری دی جائے۔ شجر کاری کو نصاب اور عملی سرگرمی کا حصہ بنایا جائے۔ جو طلبہ نمایاں خدمات انجام دیں، انہیں توصیفی اسناد اور نقد انعامات دئے جائیں اور تربیتی مراکز میں ترجیحی بنیادوں پر داخلہ فراہم کیا جائے۔
نئے مکان کی تعمیر کے لئے کم از کم دس پودے لگانا قانونی شرط قرار دی جائے۔ یہ شرط محض کاغذی نہ ہو بلکہ اس کی نگرانی بھی ہو۔ مساجد اور ائمہ کمیٹیاں اپنے دائرہ کار میں بنجر اور خالی زمینوں کی نشاندہی کریں اور متعلقہ محکموں تک رپورٹ پہنچائیں۔ عبادت گاہیں صرف روحانی تربیت کا مرکز نہ ہوں بلکہ سماجی ذمہ داری کا شعور بھی دیں۔دریاؤں کے کناروں، ڈل جھیل کے اطراف، ہر سڑک کے دائیں بائیں اور مذہبی عبادت گاہوں کے احاطوں میں پودے لگانے کے تاکیدی احکامات جاری کئے جائیں۔ رضاکار تنظیموں، ملازمین، اساتذہ، طلبہ، دکانداروں اور کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ جو ادارے شجر کاری میں پیش پیش ہوں، انہیں اعزازات دئے جائیں۔
اگر ہم نے ہنگامی بنیادوں پر شجر کاری کی منظم مہم شروع نہ کی تو آنے والا وقت مزید سخت ہوگا۔ آج ہم ایندھن اور تعمیراتی لکڑی کے لئے بیرونی منڈیوں کا رخ کر رہے ہیں، حتیٰ کہ یورپی ممالک سے لکڑی درآمد کرنی پڑ رہی ہے۔ یہ اس وادی کے لئے لمحہ ٔ فکریہ ہے جو کبھی گھنے جنگلات سے پہچانی جاتی تھی۔اور اس سب کے ساتھ ساتھ ہر شہری کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اپنے گھر کے دائیں بائیں، اپنے کچن گارڈن میں ایک دو پودے ضرور لگائیں۔ درخت صرف سایہ نہیں دیتے، یہ زندگی دیتے ہیں۔یہ خوبصورت پرندوں کے گھر اور پناہ گاہیں ہیں ۔ذرا تصور کیجیے کہ آپ کے آنگن میں ٹھنڈی اور تازہ ہوا کا جھونکا آئے، پرندوں کی چہچہاہٹ سنائی دے، بھنورے مدھر گیت گائیں اور آپ کابچہ ان مناظر کو دیکھ کر فطرت سے محبت سیکھے۔
جب وادی سرسبز ہوگی تو دنیا بھر کے سیاح ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونے یہاں کا رخ کریں گے۔ ہماری سیاحت کی صنعت کو فروغ ملے گا، مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔مگر یہ سب خواب اسی وقت حقیقت بنیں گے جب ہم سنجیدگی سے عمل کریں گے۔ بہار کی یہ دستک ہمیں یاد دلا رہی ہے کہ وقت کم ہے۔ اگر ہمیں مستقبل میں قیامت خیز صورت حال سے بچنا ہے تو ابھی، اسی لمحے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے۔
درخت لگانا محض ایک زرعی عمل نہیں، یہ عہد ہے،یہ عبادت ہے ،محبت ہے اپنی سرزمین سے، اپنی نسلوں سے، اپنی پہچان سے۔ وادیٔ کشمیر کو اگر واقعی جنت نظیر بنائے رکھنا ہے تو ہمیں زمین کے زخموں پرمرہم رکھنا ہوگا۔آیئے اس بہار کو رسمی نہ بنائیں۔ ایک پودا لگائیں، ایک درخت بچائیں، ایک آواز اٹھائیں اور اس وادی کو پھر سے سبز خوابوں کی تعبیر بنائیں۔
رابطہ9622555263
[email protected]