سفارتکاری
عظمیٰ ویب ڈیسک
اس سال ہندوستان اور اردن کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔
سابقہ روابط
وزیر اعظم نے فروری 2018میں اردن کا دورہ کیا۔یہ دورہ فروری-مارچ 2018 میں شاہ عبداللہ دوم کے دورہ کے بعد ہوا۔اس کے بعد، دونوں رہنماؤں نے متعدد مواقع پر ملاقاتیں کیں، جن میں جون 2024 میں اٹلی کے اپولیا میں جی-7 سربراہ اجلاس کے موقع پر، دسمبر 2023میں دبئی میں سی او پی-28میں، اکتوبر 2019میں ریاض میں فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹیو کے موقع پر اور ستمبر 2019 میں نیویارک میں 74ویں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر شامل ہیں۔دونوں رہنماؤں نے پہلگام دہشت گردانہ حملوں کے بعد 24 اپریل 2025 کو ٹیلی فون پر بات چیت کی تھی. جہاں پناہ دنیا کے پہلے رہنماؤں میں سے ایک تھے جنہوں نے دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم سے بات کی۔جہاں پناہ نے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی تمام صورتوں اور مظاہر کو مسترد کیا جانا چاہیےجہاں پناہ نے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔انہوں نے اکتوبر 2023 میں بھی فون پر بات کی تاکہ غزہ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے اور دہشت گردی، تشدد اور شہری جانوں کے نقصان کے حوالے سے اپنی باہمی تشویش کا اظہار کیا۔
تعاون کے شعبے
اقتصادی
بھارت اردن کا چوتھا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور ان دونوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کی مالیت 2023-24 میں 2.875 ارب امریکی ڈالر ہے۔اردن ہمارے لیے کھادوں، خاص طور پر فاسفیٹس اور پوٹاش کا ایک اہم سپلائر بھی ہے۔آئی ایف ایف سی او بھارت اور اردن فاسفیٹس مائنز کمپنی(جے پی ایم سی) کے درمیان ایک مشترکہ منصوبہ ہے جسے “جورڈن انڈیا فرٹیلائزر کمپنی (جے آئی ایف سی او)” کہا جاتا ہے، جس میں 860 ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور اس کا مقصد فاسفورک ایسڈ پیدا کرنا اور اسے بھارت کو برآمد کرنا ہے۔یہ مشترکہ منصوبہ ہمارے لیے فاسفورک ایسڈ کا اہم ذریعہ ہے۔15سے زائد گارمنٹ کمپنیاں، جو این آر آئیز کی ملکیت ہیں، 500ملین امریکی ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کے ساتھ کوالیفائیڈ انڈسٹریل زونز میں واقع ہیں۔
دفاع
بھارت اور اردن نے 2018میں دفاعی تعاون کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔بھارت کی فوج، بحریہ اور فضائیہ کے 3رکنی وفد نے 2024میں عقابہ میں ہونے والی اسپیشل آپریشنز فورسز نمائش اور کانفرنس (ایس او ایف ای ایکس) میں حصہ لیا۔اردنی شاہی بحریہ کے تین رکنی دفاعی وفد نے 29اپریل سے 04مئی 2024تک جنوبی بحری کمانڈ کوچی اور انڈین نیول اکیڈمی ایزھی مالا کا دورہ کیا۔
ثقافتی تعلقات
اردن میں تقریبا 17,500افراد پر مشتمل فعال بھارتی کمیونٹی آباد ہے، جو زیادہ تر گارمنٹ، تعمیرات اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں اور اقوام متحدہ اور دیگر کثیر جہتی اداروں میں کام کرتی ہے۔ثقافتی دستوں کا باقاعدہ تبادلہ جاری رہا ہے. حال ہی میں، جولائی 2024 میں، آئی سی سی آر کی سرپرستی میں “نٹراج سنسکرتک سلپی سماج” نامی ثقافتی دستے نے اردن کے مشہور ثقافتی میلے، 38ویں جراش ثقافت اور فنون میلے میں آسام کے لوک رقص کا مظاہرہ کیا۔
***
بھارت – عمان تعلقات کا لب لباب
مجموعی جائزہ
عمان بھارت کا ایک سٹریٹجک شراکت دار ہے اور خلیجی تعاون کونسل (GCC)، عرب لیگ اور آئی او آر اے (IORA) میں ایک اہم رابطہ کار ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی جڑیں جغرافیہ، تاریخ اور ثقافتی لحاظ سے ہیں، اور عوام سے عوام کے روابط 5ہزاربرسوں پر محیط ہیں۔سفارتی تعلقات 1955یں قائم ہوئے اور 2008میں انہیں اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح کی فوقیت دی گئی۔بھارت اور عمان سفارتی تعلقات کے قیام کے 70ال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں۔عمان بھارت کی مغربی ایشیا پالیسی کا ایک اہم ستون ہے اور خطے میں بھارت کا سب سے پرانا اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔
بھارت کی طرف عمان کے کیے گئے اعلی سطحی دورے
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے فروری 2018میں عمان کا دورہ کیا۔8ویں انڈین اوشن کانفرنس (IOC) میں شرکت کرنے کے غرض سے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے 16فروری 2025کو عمان کا دورہ کیا ۔بھارت۔عمان مشترکہ کمیشن اجلاس (JCM) کے 11ویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کرنے اور بھارت۔عمان مشترکہ بزنس کونسل (JBC) کے اجلاس میں شرکت کرنے کے مقصد سے وزیرِ تجارت و صنعت پیوش گوئل نے 27-28جنوری 2025کو عمان کا دورہ کیا۔وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے 23-25 دسمبر 2019و عمان کا دورہ کیا۔وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ اور پارلیمانی امور وی مرلی دھرن نے 18-19اکتوبر 2023کو عمان کا دورہ کیا۔مسقط میں اینٹی مائیکروبیل مزاحمت (AMR) سے متعلق 3ویں عالمی وزارتی کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے وزیرِ مملکت برائے صحت و خاندانی بہبود، ڈاکٹر بھارتی پروین پوار نے 24-25نومبر 2022کو عمان کا دورہ کیا۔وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ اور پارلیمانی امور، وی مرلی دھرن نے 3-4اکتوبر 2022اور 15-17دسمبر 2020 کو عمان کا دورہ کیا۔
عمان کی طرف سے بھارت کے اعلی سطحی دورے
عمان کے فرمانروا، سلطان ھیثم بن طارق نے 16-17دسمبر 2023کو بھارت کا سرکاری دورہ کیا۔سید اسعد بن طارق آل سعید، نائب وزیرِ اعظم برائے بین الاقوامی تعلقات و تعاون اور عزت مآب سلطان کے ذاتی نمائندے نے 09-10ستمبر 2023کو منعقد ہونے والے جی 20سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کیا۔وزیرِ تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری فروغ قیص بن محمد الیوسف نے جی 20اجلاس کے بعد بھارت کا تین مرتبہ دورہ کیا، دسمبر 2023، اگست 2024اور حال ہی میں اکتوبر 2025 میں۔انجینئر سعید بن حمود المعولی، وزیرِ نقل و حمل، مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، نے 18اگست 2023کو بھارت کا دورہ کیا۔عمان کے وزیرِ خارجہ، سید بدر بن حمد بن حمود البوسعيدی نے جی 20وزیرِ خارجہ اجلاس اور رائسینا ڈائیلاگ 2023میں شرکت کے لیے 01-03مارچ 2023کو بھارت کا دورہ کیاتاکہ 10ویں مشترکہ کمیشن اجلاس (JCM) میں شرکت کرنے کے لیے سلطنت عمان کے وزیرِ تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری فروغ عالی قیص بن محمد الیوسف نے 2022مئی کو بھارت کا دورہ کیا۔عمان کے وزیرِ خارجہ، سید بدر بن حمد بن حمود البوسعيدی (FMSB) نے 23-24مارچ 2022کو بھارت کا دورہ کیا۔سید بدر البوسعيدی، جو اس وقت امورِ دفاع کے ذمہ دار وزیر (MRDA) تھے، نے ستمبر 2018میں بھارت کا دورہ کیا۔
G 20 میں انہماک
عمان کو بھارت کے جی 20صدارت (2023) کے دوران مہمان ملک کے طور پر مدعو کیا گیا۔عمان نے 150 سے زائد اجلاس میں حصہ لیا اور 9 عمانی وزراء نے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔
دفاع کے میدان میں تعاون
عمان خلیج ممالک میں بھارت کا سب سے قریبی دفاعی شراکت دار ہے اور واحد خلیجی تعاون کونسل (GCC) کا ملک ہے جس کے ساتھ بھارت تینوں مسلح افواج کی مشترکہ مشقیں کرتا رہا ہے۔اعلیٰ سطحی فوجی تبادلے، اسٹاف مذاکرات اور بھارت۔عمان مشترکہ فوجی تعاون کمیٹی کے سکریٹری سطح کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد ہوتے رہتے ہیں۔دونوں کوسٹ گارڈز بھی ایک ادارہ جاتی مکالمے کے نظام کے تحت باقاعدگی سے تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
اقتصادی اور تجارتی تعلقات
دوطرفہ تجارت مالی سال 2024۔25میں10.61ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔بھارت عمان کی غیر تیل درآمدات کا 4واں سب سے بڑا سورس اور غیر تیل کی برآمدات کے لیے 3واں سب سے بڑا بازار ہے (مالی سال2024۔25کے مطابق)۔بھارت سے عمان کو ہونے والی اہم برآمدات میں شامل ہیں:ہلکے تیل، ایلومینیم آکسائیڈ، چاول، بوائلرز اور مشینری، برقی مشینری، ہوائی جہاز کے پرزے، بیوٹی اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات، پلاسٹک، لوہا اور اسٹیل، سیرامکس۔عمان سے بھارت کو ہونے والی اہم درآمدات: خام تیل، ایل این جی، یوریا، نامیاتی کیمیکلز، امونیا، سلفر، صنعتی خام مال، پلاسٹک، تعمیراتی مواد، ہوائی جہاز اور لوہا۔عمان میں 6ہزارے زائد بھارت-عمان مشترکہ منصوبے موجود ہیں جو طویل عرصے میں عمان کی معیشت میں کل سرمایہ کاری کی صورت میں7.5ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کرتے ہیں، جس میں 675ملین امریکی ڈالر کی رسمی بیرونی براہِ راست سرمایہ کاری، JVs میں کل سرمایہ کی مالیت اور تیسرے ملک کی سرمایہ کاری شامل ہے۔عمان کی براہِ راست سرمایہ کاری (FDI) کے ذریعے بھارت میں حصص کی کل آمدنی مالی سال 2000۔2025میں 605.57ملین امریکی ڈالر رہی۔عمان-بھارت مشترکہ سرمایہ کاری فنڈ (OIJIF)، جو اسٹیٹ بینک آف انڈیا اور عمان کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے درمیان 50-50مشترکہ منصوبہ ہے، بھارت میں سرمایہ کاری کے لیے ایک خاص مقصد گاڑی (SPV) کے طور پر قائم کیا گیا تھا. اس نے مکمل طور پر320ملین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور اس وقت تیسرے مرحلے میں امریکی ڈالر300ملین کی سرمایہ کاری پر عمل درآمد جاری ہے۔سور میں قائم عمان انڈیا فرٹیلائزر کمپنی (OMIFCO) عمان آئل کمپنی، IFFCO، اور KRIBHCO کے درمیان 969 ملین امریکی ڈالر کا مشترکہ پروجیکٹ ہے۔عمان میں بھارتی کمپنیوں کی سرگرمیاں سبز ہائیڈروجن، اسٹیل، مینوفیکچرنگ، آئی ٹی، لاجسٹکس اور دیگر شعبوں میں ہیں، جن میں ایکمے انڈیا لمیٹڈ، جندل، ایل اینڈ ٹی، دیو سالٹ، کینس، ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز وغیرہ شامل ہیں۔
ثقافتی تعلقات
وسیع ثقافتی تعلقات جو بڑی بھارتی کمیونٹی اور تاریخی حسنِ نیت سے مستحکم ہیں۔گاندھی پیس پرائز 2019 مرحوم عزت مآب سلطان قابوس کو 2021میں دیا گیا۔اپنی نوعیت کے پہلے خصوصی ڈیجیٹل اور زبانی تاریخی
پروجیکٹ “عمان کلیکشن” ڈیجیٹلائزیشن پروجیکٹ (2024) نے بھارتی ہجرت کرنے والے خاندانوں کے 7ہزارسے زائد آرکائیول ریکارڈ محفوظ کیے۔”مانڈوی تا مسقط” لیکچر سیریز (2023۔24) نے صدیوں پر محیط بھارت-عمان ثقافتی وراثت کو اجاگر کیا.
عمان میں بھارتی کمیونٹی
تقریباً 676،781بھارتی عمان میں مقیم ہیں (اگست 2025تک)۔519,000سے زائد افراد کے پاس ورک ویزا ہے؛ تقریباً 2052افراد او سی آئی کارڈ ہولڈر ہیں۔یہ کمیونٹی مختلف پیشوں سے جڑی ہوئی ہے، جن میں صحت کی دیکھ بھال، انجینئرنگ، مالیات، تعلیم، انتظامیہ اور خدمات شامل ہیں۔22بھارتی اسکول جو 48,000سے زائد طلباء و طالبات کو تعلیم فراہم کرتے ہیں۔6 ہجرت کرنے والے افراد کو بھی پرواسی بھارتیہ سمان ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
***
بھارت۔ایتھوپیا تعلقات پر پس منظر کی مختصر جھلک
سیاسی رشتے
تاریخی روابط
بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان تاریخی روابط کا تعلق 2,000سال پر محیط دستاویزی تاریخ سے ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اکسومائیٹ سلطنت (1ویں صدی عیسوی) کے دوران پروان چڑھی۔بعد میں، 6ویں صدی عیسوی میں، بھارتی تاجر اڈولس کی قدیم بندرگاہ کے ذریعے سونے اور ہاتھی دانت کے بدلے ریشم اور مصالحہ جات کی تجارت کرتے تھے۔16ویں صدی عیسوی میں، پرتگالیوں نے ایتھوپیا میں عیسائی بادشاہ کی مسلمان حملہ آوروں کو پسپا کرنے میں مدد کی اور ان کے ساتھ گوا کے لوگ بھی آئے۔سن 1868میں، جنرل رابرٹ نیپیئر نے سزا دینے والی مہم کی قیادت کی تاکہ یورپی سفارتکاروں اور مبلغین کو رہا کرایا جا سکے جنہیں شہنشاہ ٹیوڈروس دوم نے مکردالا کے اپنے بنکر قلعے میں قید کر رکھا تھا۔30,000رکنی مضبوط فورس میں بھارت کے 13,000فوجی شامل تھے. وہ برطانوی فوج جس نے ایتھوپیا میں اطالوی قبضے کو ختم کرنے میں مدد کی (1936-41)، اس میں بھارتی فوجیوں کا بھی ایک قابل ذکر حصہ شامل تھا۔آزادی حاصل کرنے کے فورا بعد، سردار سنت سنگھ کی قیادت میں ایتھوپیا کے لیے خیرسگالی مشن بھیجا گیا۔سفارتی تعلقات سفارت خانے کی سطح پر 1948میں قائم کیے گئے۔مکمل سفارتی تعلقات 1950میں قائم کیے گئے، جس میں سردار سنت سنگھ پہلے سفیر مقرر ہوئے۔
وزیراعظم کی ایتھوپیا کے ہم منصب کے ساتھ ملاقات
جوہانسبرگ میں جی20سربراہ اجلاس کے دوران، وزیر اعظم نے ایتھوپیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر ابی احمد کے ساتھ ٹیکنالوجی، ہنر کی ترقی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر بات چیت کی (22نومبر 2025)۔ایتھوپیا کے وزیر اعظم نے دوسرے “وائس آف دی گلوبل ساؤتھ” سربراہ اجلاس کی افتتاحی لیڈرز سیشن (17نومبر 2023) میں اور تیسرے “وائس آف دی گلوبل ساؤتھ” (17 اگست 2024) میں شرکت کی۔وزیراعظم نے جوہانسبرگ میں برکس سربراہ اجلاس کے موقع پر ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد سے ملاقات کی۔انہوں نے پارلیمانی رابطوں، ترقیاتی شراکت داری اور صلاحیت سازی، تجارت اور سرمایہ کاری، دفاع، آئی سی ٹی، زراعت، نوجوانوں کی مہارت سازی اور عوامی تعلقات جیسے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر بات کی (24اگست 2023)۔اس سے قبل (6مئی 2020)، وزیر اعظم نے ڈاکٹر ابی احمد سے ٹیلیفون پر بات چیت کی (6مئی 2020)۔ دونوں رہنماؤں نے کوویڈ-19وبا کے باعث پیدا ہونے والے داخلی، علاقائی اور عالمی چیلنجز پر بات کی اور صحت کے بحران کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
ایتھوپیا کی پارلیمانی وفد کا بھارت کا دورہ (20-24فروری 2023)
ایتھوپیا کے 50رکنی پارلیمانی وفد نے نئی دہلی میں پارلیمانی ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسیز (پی آر آئی ڈی ای) میں تربیتی پروگرام میں شرکت کی۔ وفد میں مختلف اسٹینڈنگ کمیٹیوں کے حکومتی وہپ، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین اور 12علاقائی پارلیمانوں کے اسپیکرز شامل تھے۔
ایتھوپیا سے وزارتی سطح کے دورے
ایتھوپیا کے وزیر دفاع نے ہندوستان کا دورہ کیا اور ایرو انڈیا کے موقع پر دفاعی تعاون کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیا 2025 (11فروری 2025)۔انہوں نے وزیرِ دفاع ہند سے دو طرفہ ملاقات بھی کی۔وزیر صنعت میلاکو ایلبل نے نئی دہلی میں فروری 2024میں بھارت ٹیکس 2024میں شرکت کی۔
ایتھوپیا سے دورے
صحت کی مملکتی وزیر فریحیوت ابے بے گوبینا کی سربراہی میں ایک وفد نے ورلڈ بینک کے تعاون سے منعقدہ مطالعاتی دورے کے تحت 08-16نومبر 2025کو بھارت کا دورہ کیا جس کا مقصد فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبوں کے ساتھ مباحثے میں شرکت کرنا اور بہتر تعاون کے مواقع تلاش کرنا تھا۔ایتھوپیا کے دفاعی خارجہ تعلقات اور فوجی تعاون کے ڈائریکٹر جنرل جنرل ٹیشوم گیمیچو نے پہلی مشترکہ دفاعی تعاون میٹنگ کے لیے 15-17اکتوبر 2025کے درمیان نئی دہلی کا دورہ کیا. یہ دورہ دونوں ممالک کے طویل عرصے سے قائم دو طرفہ دفاعی تعلقات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔نیشنل الیکشن بورڈ آف ایتھوپیا (این ای بی ای) کے چیئرپرسن کی سربراہی میں سات رکنی ایتھوپیائی وفد نے26۔30اگست 2025کو نئی دہلی کا دورہ کیا۔ایتھوپیا کے ہاؤس آف فیڈریشن کے ڈپٹی سپیکر کی قیادت میں 41 رکنی وفد نے آئی ٹی ای سی کے تحت 12-17مئی 2025کو نئی دہلی میں نیشنل سینٹر فار گُڈ گورننس میں صلاحیت سازی پروگرام میں شرکت کی۔
وی وی آئی پی دوطرفہ دورے
صدر رام ناتھ کووند نے ایتھوپیا کا سرکاری دورہ کیا (اکتوبر 2017) اور ایتھوپیا کے صدر اور وزیر اعظم سے بات چیت کی۔دیگر اعلی سطحی دوروں میں صدر ایس رادھا کرشنن (1965)، نائب صدر ذاکر حسین (1967)،صدر وی وی گری (1972)، وزیر اعظم منموہن سنگھ (2011) اور نائب صدر حامد علی انصاری (مئی 2013) شامل ہیں۔ایتھوپیا کی جانب سے اعلی سطحی دوروں میں شہنشاہ ہائیلے سیلاسی (1956اور 1968)، کرنل ہائیلے مریم منگیستو (1983اور 1985)،وزیر اعظم میلیس زیناوی (1997، 2007، 2008اور 2011) اور وزیر اعظم ہائیلے مریم دیسالین (2015) کے دورے شامل ہیں۔
ادیس ابابا میں وزارت خارجہ کے مشاورتی مذاکرات (3 اکتوبر 2022)
بھارت اور ایتھوپیا کے درمیان دفتر خارجہ مشاورت (ایف او سیز) کا 4تھا دور ادیس ابابا میں منعقد ہوا اور اس کی مشترکہ صدارت بھارت کی وزارت خارجہ کے جوائنٹ سکریٹری (مشرقی اور جنوبی افریقہ) اور ایتھوپیا کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل برائے مشرق وسطی، ایشیا اور بحر الکاہل کے ممالک کے امور نے کی۔
کثیر جماعتی پارلیمانی وفد کا ایتھوپیا کا دورہ (30مئی تا 01 جون 2025) ۔سپریا سلے کی قیادت میں ایک کثیر جماعتی پارلیمانی وفد نے 30مئی سے 01جون 2025تک ایتھوپیا کا دورہ کیا۔ یہ دورہ 22 اپریل کو ہونے والے پہلگام دہشت گردانہ حملے آپریشن سندور اور اس کے بعد کی پیش رفت کے بعد طے شدہ چار ملکی دورے کا حصہ تھا۔
اقتصادی تعلقات
دوطرفہ تجارت
محکمہ تجارت کے پاس دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت بدستور بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔2020-21میں اس کا حجم 403.43ملین امریکی ڈالر،2021-22میں407.66ملین امریکی ڈالر ،2022-23میں 528.47ملین امریکی ڈالر، 2023-24میں 618.84اور 2024-25میں651.68ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
بھارتی برآمدات:- فرماسیوٹیکل بھارت کی طرف سے سب سے بڑی برآمد کی جانے والی شیئ تھی جو 2024-25میں بھارت کی طرف سے ایتھوپیا کو کی جانے والی کل برآمدات کا 38.5فیصد تھی۔اس کے بعد مشینری اور آلات (7.4فیصد)، ریلوے یا ٹرام وے کے علاوہ گاڑیاں (7.4فیصد)، پلاسٹک اور دیگر مصنوعات (6.4فیصد)، اور متفرق شامل ہیں۔ کیمیائی مصنوعات (6.3فیصد)، برقی مشینری اور آلات (3.8فیصد) اور طبی آلات (2.2فیصد)۔
ایتھوپیا سے بھارت کی درآمدات:- دال اور پھلیاں ایتھوپیا سے درآمد ہونے والے سب سے بڑے آئٹم تھیں، جو 2024-25میں بھارت کی ایتھوپیا سے کل درآمدات کا 47.5فیصدفیصد تھیں۔اس کے بعد فلیکس یارن (کل درآمدات کا 29.40فیصد)، قیمتی پتھر (4.72فیصد) اور سیسہ اور اس کی مصنوعات (3.65فیصد) کا نمبر آتا ہے۔
ایتھوپیا، ایک خشکی سے گھرا ہوا ملک ہونے کے ناطے، اپنی تجارتی کھیپ کی اکثریت جبوتی بندرگاہ کے ذریعے درآمد کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کو امریکی ڈالر سمیت ہارڈ کرنسی کے شدید بحران کا بھی سامنا ہے۔لہٰذا، یہ ایک معروف (اگرچہ بے قاعدہ) رواج ہے کہ درآمد و برآمد کا کاروبار ایتھوپیا کے باہر واقع بینک کے ذریعے کیا جائے۔ ایتھوپیا کی وزارت تجارت اور علاقائی انضمام کے اعداد و شمار کے مطابق، بھارت ایتھوپیا کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، جو ایتھوپیا کی عالمی تجارت میں 23.7فیصد کا حصہ ہے۔
دیگر
ایتھوپیا کمزور ترقی پذیر ممالک (ایل ڈی سیز) کے لیے ڈیوٹی فری ٹیرف پریفرینس (ڈی ایف ٹی پی) اسکیم کا مستفید کنندہ ہے. تجارت کے حجم کو مزید بڑھانے اور بڑھتے ہوئے تجارتی توازن کے فرق کو کم کرنے کے لیے، ایتھوپیا کی جانب سے بھارتی حکومت سے درخواست کی گئی ہے کہ ایتھوپیا کی بھارت کو برآمد ہونے والی اہم مصنوعات کو ڈی ایف ٹی پی فہرست میں شامل کیا جائے۔دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور فنی تعاون کو متنوع اور مضبوط کرنے کی باہمی دلچسپی اور خواہش موجود ہے۔
ایتھوپیا میں ہندوستانی سرمایہ کاری
بھارتی کمپنیاں ایتھوپیا میں تین بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں میں شامل ہیں، جبکہ نئی بھارتی کثیر قومی کمپنیاں بھی ایتھوپیا میں اپنی موجودگی ظاہر کر رہی ہیں۔ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کے لیے کمیشن میں 675سے زیادہ بھارتی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں، جن کی سرمایہ کاری کی مالیت امریکی ڈالر 6.5بلین سے زیادہ ہے۔ بھارتی سرمایہ کاروں نے 17,000سے زیادہ ملازمتیں پیدا کی ہیں. بھارتی سرمایہ کاری کا تقریبا 48.3فیصد مینوفیکچرنگ شعبے میں ہے۔اکیلے2024میں 11بھارتی کمپنیوں نے ایتھوپیا میں سرمایہ کاری کی ہے۔ان بھارتی کمپنیوں نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جن میں زراعت، آٹوموبائل، لوہا اور اسٹیل، انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) وغیرہ شامل ہیں۔ایف ڈی آئی کے حوالے سے ٹیکسٹائل سیکٹر میں بھارتی سرمایہ کاری سب سے آگے رہی ہے۔ایتھوپیا میں اس شعبے میں کام کرنے والی ہندوستانی کمپنیوں میں بولیمی لیمی انڈسٹریل پارک میں اروند لائف اسٹائل، جے جے ٹیکسٹائلز اور ایشٹن اور ہواسا انڈسٹریل پارک میں اروند لائف اسٹائل، بیسٹ اینڈ ریمنڈز/سلور اسپارک شامل ہیں۔بھارت کو دواسازی کے شعبے میں بھی سب سے بڑے سرمایہ کاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔پہلی بھارتی خود مختار دواسازی فیکٹری (گلوکیئر فارما) نے مارچ 2022 میں کلینٹو انڈسٹریل پارک میں اپنی سرگرمیاں شروع کی۔مشترکہ منصوبے جیسے کیڈیلا فارماسیوٹیکلز، جولفر فارما سیوٹیکلز پی ایل سی، افریکیور فارما اور کلیچ ایسٹرو بھی دواسازی کے شعبے میں سرگرم کمپنیاں ہیں۔
بھارتی کمیونٹی
ایتھوپیا میں ہندوستانی کمیونٹی کے ابتدائی آباد کار 19ویں صدی کے آخری برسوں میں گجرات سے آئے تھے۔سامراجی دور میں، پورے ایتھوپیا کے اسکولوں میں ہزاروں ہندوستانی اساتذہ بھی تھے، یہاں تک کہ انتہائی دور دراز علاقوں میں بھی۔آج، ایتھوپیا کے تعلیمی شعبے میں ہندوستانی برادری کی نمایاں موجودگی ہے. ایتھوپیا کی مختلف یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تقریبا 80-90بھارتی فیکلٹی موجود ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ایتھوپیا میں بھارتی تارکین وطن افراد کی تعداد تقریبا 2500 ہے۔اس ملک میں بھارتی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ متعدد ایتھوپیا کمپنیاں بھی ہیں جن میں ہندوستانی کارکنان کام کرتے ہیں۔
(مضمون بشکریہ وزارت خارجہ ،حکومت ہند)