سری نگر//عالمی سطح پراب یہ سمجھا جارہا ہے کہ ہندوستان کی حکومت اگرچہ انتخابات کے ذریعے منتخب کی جاتی ہے ،لیکن اُ سی قدر وہ غیرجمہوری ہوتی جارہی ہے،گویا وزیراعظم نریندر مودی کے تحت ہندوستان ایک غیرجمہوری ملک بن گیا ہے۔ان باتوں کااظہار سابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوز نے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا،’’یہ بات بڑی اہمیت کی ہے کہ امریکہ کے مشہور زمانہ جمہوری قدروں کے ترجمان ادارہ واچ ڈاگ نے ہندوستان کو کم تر جمہوریت قرار دیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے وزیراعظم کے دفتر میںپرنسپل سیکریٹری ایس ۔کے ۔سنہا، مشہور کالم نویس ،سیاسی مبصر اور اشوکا یونیورسٹی کے پروفیسرپرتاپ بانو مہتا ،اور عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات اروند سبرامنیم جو ہندوستان میں اعلیٰ عہدوں پر کام کر رہے تھے، نے ان عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے ، جو پورے ملک کیلئے افسوسناک بات ہے۔سوزنے کہا،’’ اس سے پہلے امریکہ میں ایک اور عالمی درجہ کے مبصر ادارہ ہنلی پاسپورٹ انڈیکس میں ہندوستان کو افریقہ کے ایک ملک سنیگل کے ساتھ 84 ویں نمبر پر دکھایا گیا تھا۔ یہ عالمی درجہ کے اداروں کے مشاہدات ہندوستان کے حق میں نہیں ہیں۔اس طرح عالمی سطح پر ہندوستان کا درجہ گر گیا ہے‘‘۔ ڈاکٹرسبرامنیان عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادات نے اس حوالے سے بتایا ہے ،’’ چونکہ میں شخصی آزادی کی قدر کرتا ہوں اور آئینی اصولوں کا طرفدار ہوں جن کے تحت ہر شخص کو اظہار خیال کی آزادی ہونی چاہئے ، اس لئے میرے خیالات کو پورے نظام کیلئے ایک خطرہ سمجھا گیا اور اسی بنا پر میں نے استعفیٰ دیا ہے۔‘‘ان بڑی شخصیات کے استعفیٰ سے مودی حکومت کی شبیہ بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان تینوں کے استعفیٰ سے دُنیا پر یہ صورتحال پھر سے آشکارہ ہوئی ہے کہ آج کے ہندوستان میں حکومت کی رائے سے مختلف رائے دینا تقریبا ناممکن ہے۔ گویا ہندوستان میں اب حکومت کے خلاف رائے دینا غلط خیال کیا جاتا ہے اور اس صورت حال سے دنیا بھر کے آزادی پسند اور جمہور نواز لوگ کافی دُکھی ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان خیالات کی روشنی میں ہندوستان کے بارے میں عالمی رائے عامہ کافی متاثر ہوئی ہے اور اُسی قدر ہندوستان کی جمہوریت کا گراف بڑی حد تک گر گیا ہے۔اب عالمی سطح پر یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ہندوستان کی حکومت حالانکہ انتخابات کے ذریعے چنی جاتی ہے، لیکن اُسی قدر وہ غیر جمہوری ہوتی جا رہی ہے۔ گویا وزیر اعظم مودی کے تحت ہندوستان ایک غیر جمہوری ملک بن گیا ہے۔سوزنے کہا کہ میں ایسے حالات سے کافی اُداس ہوں ،مگر میں اُن کروڑوں لوگوں میں شامل ہوں جو ہندوستان میں موجودہ جمہوریت کے گراف کو گرتے ہوئے دیکھ کر دُکھی تو ہو سکتے ہیں ، مگر کچھ نہیں کر سکتے۔