روس طویل عرصے سے بھارت کا قابل اعتماد اور آزمودہ پارٹنر رہا ہے. بھارت اور روس کے درمیان رشتے میں مضبوطی بھارتی خارجہ پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔ اکتوبر 2000میں “بھارت۔روس تزویراتی شراکت داری اعلامیہ” پر دستخط کے بعد سے بھارت اور روس کے تعلقات نے معیاری طور پر نئی جہت اختیار کر لی ہے، جس میں سیاسی، سلامتی، دفاع، تجارت و معیشت، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت اور عوامی روابط یعنی تقریباً تمام شعبوں میں باہمی تعاون کی سطح پر نمایاں اضافہ ہوا ہے. دسمبر 2010 میں روسی صدر کے دورہ بھارت کے دوران تزویراتی شراکت داری کو بڑھا کر ‘خصوصی اور امتیازی تزویراتی شراکت داری کا درجہ دیا گیا۔
تزویراتی شراکت داری کے تحت سیاسی اور سرکاری دونوں سطحوں پر متعدد ادارہ جاتی مکالماتی نظام کار فرما ہیں، تاکہ باقاعدہ رابطہ اور اعانتی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے. بھارت۔روس بین الحکومتی کمیشن (IRIGC) کی دو شاخیں ہیں: پہلی شاخ تجارت، اقتصادی، علمی، تکنیکی اور ثقافتی تعاون (IRIGC-TEC) پر مشتمل ہے، جسکی مشترکہ صدارت بھارت کے وزیرِ خارجہ (EAM) اور روس کے فرسٹ ڈپٹی وزیرِ اعظم جناب ڈینس مانتوروف کرتے ہیں۔ دوسری شاخ عسکری و ملٹری۔تکنیکی تعاون (IRIGC-M&MTC) پر مشتمل ہے، جسکی سربراہی دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کے ذمے ہے. دسمبر 2021 میں باہمی تعاون میں ایک نئی جہت کی شمولیت اس وقت ہوئی جب پہلی دفعہ 2+2 ڈائیلاگ (دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ اور وزرائے دفاع) وزیرِ اعظم اور صدر پوتن کی سربراہی میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد منعقد ہوا۔
سیاسی رشتے
بھارت کے وزیرِ اعظم اور روسی فیڈریشن کے صدر کے درمیان سالانہ سربراہی اجلاس بھارت اور روس کے درمیان تزویراتی شراکت داری کا سب سے اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی مذاکراتی نظام ہے. ابھی تک، بھارت اور روس کے مابین 22 سربراہی اجلاس متبادل طور پر ہوئے ہیں. توقع ہے کہ صدر پوتن دسمبر 2025 میں ہونے والے 23ویں سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے. گزشتہ سربراہی اجلاس ماسکو میں جولائی 8-9، 2024 کو منعقد ہوا تھا. سربراہی اجلاس کے بعد “بھارت۔روس: دیرپا اور وسعت پذیر شراکت داری”کے عنوان سے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا. اس کے علاوہ 9 مفاہمتی یادداشتوں/معاہدوں پر دستخط کے علاوہ بھارت۔روس اقتصادی تعاون کے تزویراتی شعبوں کی ترقی سے متعلق قائدین کا ایک الگ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا، جو مدت 2030 تک کے لیے مرتب کیا گیا ہے. اس دورے کے دوران وزیرِ اعظم کو بھارت۔روس تعلقات میں شاندار خدمات کے اعتراف میں روس کا سب سے اعلیٰ قومی اعزاز، آرڈر آف سینٹ اینڈریو دی اپوسٹل دی فرسٹ کالڈ، سے نوازا گیا. اس سال کے بعد وزیرِ اعظم نے روس کے شہر قازان میں برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر 22 اکتوبر، 2024 کو صدر پوتن سے ملاقات کی. قائدین نے حال ہی میں 01 ستمبر، 2025 کو چین کے شہر تیانجن میں ایس سی او سربراہانِ مملکت اجلاس کے موقع پر ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اور امتیازی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں ممالک کے قائدین باقاعدگی سے ٹیلیفون پر بھی رابطے میں رہتے ہیں. 17ستمبر، 2025کو صدر پوتن نے وزیرِ اعظم مودی سے ان کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر ٹیلیفون پر بات چیت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وزیرِ اعظم کی قیادت میں بھارت ایک آزاد اور خودمختار پالیسی پر عمل کر رہا ہے اور ساتھ ہی شاندار اقتصادی نتائج کا بھی مظاہرہ کر رہا ہے. اسی طرح 07 اکتوبر، 2025 کو وزیرِ اعظم نے صدر پوتن سے بات کی اور انہیں ان کی 73ویں سالگرہ پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی اور کہا کہ وہ دسمبر میں ہونے والے 23ویں سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے ان کی آمد کے منتظر ہیں. اس سے قبل 8اور 18اگست، 2025کو صدر پوتن نے وزیرِ اعظم سے گفتگو کی اور یوکرین سے متعلق تازہ ترین پیش رفت کے بارے میں امریکی۔روس الاسکا سربراہی اجلاس کے سیاق و سباق سے واقف کرایا. دونوں رہنماؤں نے 05مئی، 2025کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد بھی بات چیت کی تھی اور دہشت گردی کی تمام اقسام اور مظاہر کے خلاف لڑائی میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا تھا. 2024 میں کل مجموعی طور پر چار دفعہ ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی (15جنوری، 20مارچ، 05 جون اور 27اگست)، 2023میں دو (30 جون 30اور 28اگست) اور 2022 میں پانچ دفعہ بات چیت ہوئی۔
دونوں ممالک وزارتی سطح پر باقاعدہ رابطے میں رہتے ہیں. وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر اور وزیرِ خارجہ لاروف نے حال ہی میں 17نومبر، 2025کو وزیرِ خارجہ کے ماسکو کے دورے کے دوران ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ (CHG) اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی. وزرائے خارجہ اس سال پہلے ہی چھ دفعہ ملاقات کر چکے ہیں: 17 نومبر ماسکو (روس)، 27 ستمبر نیویارک (امریکا)، 21 اگست ماسکو (روس)، 15 جولائی تیانجن (چین)، 07 جولائی ریو ڈی جنیرو (برازیل) اور 20 فروری جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ). اپنے حالیہ روسی دورے کے دوران 17-19 نومبر 2025 کو وزیرِ خارجہ ایس جئے شنکر نے صدر پوتن سے ملاقات کی، ایس سی او، سی ایچ جی اجلاس میں حصہ لیا، وزیرِ خارجہ لاروف اور فرسٹ ڈپٹی وزیرِ اعظم مانتوروف سے ملاقات کی اور قازان اور یکاترن برگ میں بھارت کے قونصلیٹ جنرل کا افتتاح کیا. اگست میں وزیر خارجہ نے ماسکو کا دورہ کیا اور صدر پوتن سے ملاقات کی اور پہلے ڈپٹی وزیر اعظم مانتوروف اور روسی وزیر خارجہ لاروف کے ساتھ مشترکہ طور پر IRIGC-TEC کے 26ویں سیشن کی صدارت کی۔
وزیرِ دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے 26جون، 2025کو چین کے شہر چنگڈاؤ میں ایس سی او وزرائے دفاع کے اجلاس کے موقع پر روسی وزیرِ دفاع جناب آندرے بیلوسوف کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کی. وزیرِ دفاع نے پہلے 08-10 دسمبر 2024 کو ماسکو میں IRIGC-M&MTC اجلاس کے 21ویں سیشن کی مشترکہ صدارت کے لیے روس کا دورہ کیا تھا. اس دورے کے دوران وزیر دفاع نے صدر پوتن سے بھی ملاقات کی تھی. مملکتی وزیر برائے دفاع جناب سنجے سیٹھ نے 09 مئی، 2025 کو ماسکو میں عظیم محبِ وطن جنگ (1941-45) میں فتح کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منائے جانے والے یومِ فتح کی تقریبات میں بھارت کی نمائندگی کی۔
قومی سلامتی کے مشیر جناب اجیت ڈوبھال نے 07-08 اگست، 2025 کو بھارت۔روس لیول کے این ایس اے تزویراتی مکالمے کے لیے ماسکو کا دورہ کیا. اس دورے کے دوران قومی سلامتی کے مشیر نے صدر پوتن سے ملاقات کی اور روسی سلامتی کونسل کے سکریٹری جناب سرگئی شوئیگو، صدر پوتن کے معاون جناب نکولائی پاتروشیف اور فرسٹ ڈپٹی وزیرِ اعظم جناب ڈینس مانتوروف سے ملاقاتیں کیں. ستمبر 2024 میں قومی سلامتی کے مشیر نے این ایس اے کے اجلاس میں شرکت کے لیے سینٹ پیٹرز برگ کا دورہ کیا، جس دوران انہوں نے صدر پوتن سے ملاقات کی اور اپنے ہم منصب جناب سرگئی شوئیگو سے ملاقات کی. صدر پوتن کے معاون جناب نکولائی پاتروشیف نے 17-19 نومبر 2025 کو بحری تعاون اور بحریہ کے تعاون پر روس۔بھارت مشاورتی اجلاس کے لیے بھارت کا دورہ کیا. اس دورے کے دوران انہوں نے وزیرِ اعظم مودی، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، بندرگاہوں، شپنگ اور آبی راستوں کے وزیر سربانند سونووال اور دیگر سینئر حکام سے ملاقاتیں کیں۔
خارجہ سکریٹری جناب وکرم مسری نے مورخہ 07مارچ، 2025کو ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب، ڈپٹی وزیرِ خارجہ جناب آندرے روڈینکو کے ساتھ دو طرفہ دفتر خارجہ مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا. دسمبر 2024میں سکریٹری (مغرب) جناب تنمے لال نے ماسکو کا دورہ کیا اور اپنے ہم منصب ڈپٹی وزیرِ خارجہ جناب سرگئی ورشینن سے چھٹی بھارت۔روس مشاورت برائے اقوام متحدہ امور اور 13ویں بھارت۔روس ورکنگ گروپ اجلاس برائے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں ملاقات کی۔
تجارت اور اقتصادیات کے شعبے میں باہمی تعاون
تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کی غرض سے سرکاری سطح پر بنیادی میکانزم بھارت۔روس بین الحکومتی کمیشن برائے تجارت، اقتصادی، علمی اور ثقافتی تعاون (IRIGC-TEC) ہے، جسکی مشترکہ صدارت بھارتی طرف سے وزیرِ خارجہ اور روسی طرف سے فرسٹ ڈپٹی وزیرِ اعظم جناب ڈینس مانتوروف کرتے ہیں. IRIGC-TEC کے 26ویں سیشن کا انعقاد 20اگست، 2025کو ماسکو میں ہوا، جس میں تجارتی محصولات اور غیر محصولات سے متعلق رکاوٹیں دور کرنے، لاجسٹکس میں رکاوٹوں کے ازالے، رابطے کو فروغ دینے، ادائیگی کے طریقہ کار کو ہموار کرنے، اقتصادی تعاون کے پروگرام کو 2030 تک بروقت حتمی شکل دینے اور اس پر عمل درآمد، بھارت۔یوریشین اکنامک یونین FTA کے جلد از جلد اختتام کے لیے اقدامات، جن کی شرطوں کا تعین کر لیا گیا تھا، اور دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے درمیان باقاعدہ رابط کرنے پر مرکوز رہا، تاکہ 2030تک دوطرفہ تجارتی ہدف 100ارب امریکی ڈالر کو بروقت حاصل کیا جا سکے. ابتدائی نشست کے بعد IRIGC-TEC کے 26ویں سیشن کے پروٹوکول پر مشترکہ صدور نے دستخط کیے. IRIGC-TEC کا 25واں سیشن 12نومبر، 2024کو نئی دہلی میں منعقد ہوا. اس دورے کے دوران فرسٹ ڈپٹی وزیرِ اعظم مانتوروف نے وزیرِ اعظم سے ملاقات کی، ساتھ ہی وزیرِ خزانہ اور قومی سلامتی کے مشیر سے بھی ملے۔
تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا دونوں رہنماؤں کے لیے ایک ترجیحی شعبہ قرار پایا ہے، جنہوں نے دو طرفہ سرمایہ کاری کو $50 ارب (تک 2025) اور دو طرفہ تجارت کو $100 ارب (تک 2030) تک بڑھانے کا ہدفات مقرر کیا تھا. بھارت اور روس کے درمیان دو طرفہ تجارت مالی سال 2024-25 میں ریکارڈ سطح 68.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی. اس میں بھارت کی برآمدات کی مالیت 4.9 ارب امریکی ڈالر اور روس سے درآمدات کی مالیت 63.8 ارب امریکی ڈالر شامل ہے. بھارت کی اہم برآمدات میں ادویات، نامیاتی اور غیر نامیاتی کیمیکلز، لوہا اور اسٹیل، اور بحری مصنوعات شامل ہیں، جبکہ روس سے اہم درآمدات میں تیل اور پیٹرولیم مصنوعات، خوردنی تیل (خصوصا سورج مکھی تیل)، کھاد، کوکنگ کوئلہ، قیمتی پتھر اور دھات شامل ہیں. 13-14 نومبر سے، سکریٹری کامرس جناب راجیش اگروال نے روسی نائب وزیر برائے اقتصادی ترقی جناب ولادیمیر الیچیو کے ساتھ مل کر بھارت۔روس ورکنگ گروپ برائے تجارت اور اقتصادی تعاون کے 26ویں سیشن کی مشترکہ صدارت کے لیے ماسکو کا دورہ کیا. 1-3 اکتوبر 2025 کو معزز وزیر مملکت برائے خارجہ امور اور ٹیکسٹائل، جناب پبترا مارگریٹا نے ہینڈلوم ایکسپورٹ پرموشن کونسل کی جانب سے ماسکو میں منعقدہ بھارتی ملبوسات اور ٹیکسٹائل میلے سے خطاب کرنے کے لیے ماسکو کا دورہ کیا. ریلوے، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی، اور انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ کے وزیرِ جناب اشونی ویشنو اور نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر سومن بیری نے 18-21 جون، 2025 کو روس کا دورہ کیا اور سینٹ پیٹرز برگ بین الاقوامی اقتصادی فورم (SPIEF) کے 28ویں اجلاس میں شرکت کی۔
روس کی طرف سے اعلیٰ سطحی دوروں میں نائب وزیرِ اعظم دمتری پتروشیف کا بھارت فوڈ ورلڈ 2025 (25-28 ستمبر) کے موقع پر نئی دہلی کا دورہ شامل ہے. اس دورے کے دوران نائب وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی، وزیرِ کیمیکلز و کھاد جناب جے پی نڈا، وزیرِ زراعت جناب شیوراج سنگھ چوہان اور وزیرِ تجارت جناب پیوش گوئل سے زراعت، خوراک کی سلامتی، تجارت، صنعتی تعاون اور پائیدار زراعت کے اقدامات میں تعاون کے مواقع پر بات چیت کرنے کے لیے ملاقات کی. روس کے توانائی وزیر جناب سرگئی سیویلیوف نے فروری 2025 میں بھارت کا دورہ کیا اور وزیرِ پٹرولیم و قدرتی گیس جناب ہردیپ سنگھ پوری سے ملاقات کی؛ اس موقع پر روسی وفد کی قیادت نائب وزیر توانائی جناب پاول سوروکِن نے کی اور انہوں نے11-14 فروری، 2025کو منعقدہ بھارت انرجی ویک 2025 میں شرکت کی۔
گزشتہ چند سالوں کے دوران سروسز کے شعبے میں دو طرفہ تجارت مستحکم رہی ہے. یہ مالی سال 2021 میں $1.021ارب تک پہنچ گئی. دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری مضبوط رہی ہے، جس کا ہدف 2025 تک $50ارب سرمایہ کاری ہے. روس کی طرف سے بھارت میں بڑی دو طرفہ سرمایہ کاری تیل و گیس، پیٹرو کیمیکلز، بینکنگ، ریلوے اور اسٹیل کے شعبوں میں ہوئی ہے، جبکہ بھارت کی سرمایہ کاری روس میں بنیادی طور پر تیل و گیس اور ادویات کے شعبوں میں ہے۔
دفاع کے شعبے میں تعاون:
بھارت اور روس کے درمیان طویل مدتی اور وسیع پیمانے پر عسکری تکنیکی تعاون کا دائرہ خریدار-فروش کے فریم ورک سے بڑھتے ہوئے جدید دفاعی ٹیکنالوجیز اور نظامات کی مشترکہ تحقیق، ترقی اور پیداوار کے ماڈل تک پہنچ گئی ہے. روس دفاعی سازوسامان، انجن، پرزے اور اجزاء کی فراہمی کا بھی ایک اہم سورس ہے. بھارت میں کئی دفاعی پلیٹ فارم جیسے ٹی-90ٹینک اور ایس یو-30 MKI طیارے بھی اسمبل یا تیار کیے جاتے ہیں. فریقین دفاعی سازوسامان اور پلیٹ فارموں کی مشترکہ ترقی اور پیداوار کے امکانات پر بھی غور کر رہے ہیں، جس میں برہموز سسٹم دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات شامل ہیں. وزیرِ دفاع جناب راجناتھ سنگھ نے دسمبر 2024میں روس کا دورہ کیا اور IRIGC-M&MTC کے 21ویں اجلاس کی مشترکہ صدارت کی، اس کے علاوہ کالننگراڈ میں فرگیٹ ‘آئی این ایس تُشیل کی کمشننگ میں بھی حصہ لیا. 01جولائی، 2025کو کالننگراڈ میں جدید ترین سٹیلتھ کثیرالمقاصد فرگیٹ آئی این ایس تمل کو بیڑے میں شامل کیا گیا۔
اکتوبر 28-29، 2025 کو نئی دہلی میں بھارت۔روس بین الحکومتی کمیشن برائے عسکری و عسکری تکنیکی تعاون (IRIGC-M&MTC) کے ورکنگ گروپ برائے عسکری تعاون کا 5 واں اجلاس منعقد ہوا. 29اکتوبر، 2025 کو نئی دہلی میں سنجیو کمار، سکریٹری (دفاعی پیداوار) کی قیادت میں بھارتی وفد نے ماسکو میں بھارت۔روس بین الحکومتی کمیشن برائے عسکری تکنیکی تعاون اور دفاعی صنعت کے 23ویں ورکنگ گروپ کے اجلاس میں شرکت کی.
بھارت۔روس کے مشترکہ تربیتی مشق اندرا-2025کا 14واں ایڈیشن 6-15اکتوبر 2025سے راجستھان کے شہر بیکانیر میں منعقد ہوا، جس میں دونوں طرف سے 250سے زائد سروس مین نے حصہ لیا. 10-16 ستمبر، 2025 کو بھارت کی افواج کے 65 اہلکاروں پر مشتمل دستہ، جو آرمی، ایئر فورس اور نیوی سے تعلق رکھتے تھے، نے روس کے نژنی نووگورود میں زپاڈ-2025 ملٹری ایکسرسائز میں حصہ لیا. 2025 میں 02 مارچ سے 28 اپریل تک، بھارتی اور روسی بحریہ کے درمیان دو طرفہ بحری مشق اندرا 2025 دو مراحل، یعنی ہاربر مرحلہ چنئی میں اور سمندری مرحلہ بنگال کی خلیج میں منعقد ہوئی۔
پارلیمانی تعاون:
بین ایوان کمیشن، لوک سبھا اور روسی ریاستی ڈوما (ایوان زیریں) کے درمیان پارلیمانی تعاون کو سہولت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے. اس کے قیام کے بعد سے پانچ بار (2000, 2003, 2015, 2017, 2018) اجلاس کا انعقاد ہو چکا ہے. کمیشن کی مشترکہ صدارت لوک سبھا کے اسپیکر اور اسٹیٹ ڈوما کی چیئرپرسن کرتے ہیں. بھارت میں بھارت۔روس بین الحکومتی پارلیمانی کمیشن کا 5 واں اجلاس 09 دسمبر، 2018 کو منعقد ہوا۔
اسٹیٹ ڈوما (روسی پارلیمنٹ کی ایوان زیریں) کے چیئرمین جناب ویاچیسلاف وولودین نے 02-04 فروری، 2025 کو بھارت کا سرکاری دورہ کیا. اس دورے کے دوران وولودین نے صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ سے ملاقات کی اور لوک سبھا کے اسپیکر کے ساتھ دو باہمی میٹنگ کی. روسی وفد نے اس وقت جاری دونوں راجیہ سبھا اور لوک سبھا کے 2025 بجٹ اجلاس میں شرکت کی. جولائی 2024 میں لوک سبھا کے اسپیکر جناب اوم بیرلا نے سینٹ پیٹرز برگ میں 10 ویں برکس پارلیمانی فورم کے لیے بھارتی وفد کی قیادت کی اور روسی چیئرمین وولودین اور روسی فیڈریشن کونسل (پارلیمنٹ کی ایوان بالا) کی اسپیکر محترمہ ویلنٹینا میٹویینکو کے ساتھ باہمی ملاقات کی۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے اور بھارت کے آپریشن سندور کے بعد بھارت کے متحد عزم اور دہشت گردی کی تمام اقسام و مظاہر کے خلاف زیرو ٹالرنس موقف کو اجاگر کرنے کے لیے محترمہ کنیموجھی کروناندھی کی قیادت میں تمام جماعتوں پر مشتمل ایک وفد، جس میں 5 اراکینِ پارلیمنٹ اور سینئر سفارتکار سفیر منجیو پوری شامل تھے، 22-24 مئی 2025 سے روس کا دورہ کیا. 21-26 جون 2025 کو ڈاکٹر ششی تھرور، رکنِ لوک سبھا، جو اپنے ذاتی دورے پر تھے، نے جناب کانسٹنٹن کوساسچیو (وفاقی کونسل کے نائب چیئرمین) اور جناب لیونِڈ سلٹسکی (اسٹیٹ ڈوما کمیٹی برائے بین الاقوامی امور کے چیئرمین) سے ملاقات کی. 29-30 اکتوبر سے معزز اراکینِ پارلیمنٹ جناب راجکمار چہر، ڈاکٹر سی۔این۔ منجوناتھ (لوک سبھا) اور ڈاکٹر وی سیوا دسان (راجیہ سبھا) پر مشتمل بھارتی پارلیمانی وفد نے ماسکو میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے سماجی و ثقافتی امور کے اجلاس میں شرکت کی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں باہمی تعاون:
سائنس و ٹیکنالوجی نے بھارت۔روس دو طرفہ شراکت داری میں، خصوصا بھارت کی آزادی کے ابتدائی دنوں میں اہم کردار ادا کیا تھا. آج بھارت اور روس بنیادی علوم، مٹیرئل سائنس، ریاضیات اور جدید شعبوں جیسے بھارت کے انسانی خلائی پروگرام (گگنیان)، نینو ٹیکنالوجی وغیرہ میں مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں، اتنا ہی نہیں بھارت کا واحد جوہری بجلی گھر جو کسی دوسرے ملک کے تعاون سے تیار کیا گیا ہے، تمل ناڈو کے کوڈنکولم میں واقع ہے، جسے روس کی مدد سے تیار کیا گیا تھا. دو طرفہ تعاون کی رہنمائی نئی سائنسی، تکنیکی اور جدت طرازی کے روڈ میپ سے ہوتی ہے، جس پرنئی دہلی میں دسمبر 2021 میں 21ویں سالانہ سربراہی اجلاس کے دوران دستخط کیے گئے تھے. توقع ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان جدت سے متعلق تعلقات کو فروغ دے گا اور ٹیکنالوجیز کی تجارتی کاری اور اقتصادی و سماجی اثرات والے مشترکہ پروجیکٹس کے لیے مکمل سپورٹ پر توجہ مرکوز کرے گا. روس۔بھارت ورکنگ گروپ برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے اجلاس IRIGC-TEC میکانزم کے تحت باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں، جس میں متعلقہ وزراتوں، جامعات اور دونوں ممالک کے سائنسدانوں کے نمائندے شرکت کرتے ہیں۔
تعلیم :
بھارت اور روس کے مابین تعلیم کے شعبے میں باہمی تعاون کثیر جہتی اور طویل مدتی نوعیت کا ہے. اس تعاون کا ایک سب سے نمایاں پہلو روسی اداروں میں تقریباً 20,000 بھارتی طلباء موجود ہیں، جو طب، انجینئرنگ، معیشت، سائنسز اور دیگر مضامین کے کورسز میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں. روس میں تعلیم حاصل کرنے والے بھارتی طلباء میں سب سے بڑی تعداد میڈیکل طلباء کی ہے. علاوہ ازیں، روس کی کئی جامعات میں ہندوستانیات (Indology) بھی پڑھائی جاتی ہے، اس کے علاوہ ہندی، سنسکرت اور پالی جیسی بھارتی زبانیں بھی سکھائی جاتی ہیں۔ اسکولی سطح پر بھارت کا اٹل انوویشن مشن اور SIRIUS سینٹر مشترکہ طور پر ایک ایسے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں جس کا تصور وزیرِ اعظم اور صدر پوتن نے دیا تھا. اعلیٰ تعلیمی شعبے بشمول جامعات/اداروں کے تناظر میں دونوں حکومتوں کے درمیان تعلیمی تبادلہ پروگرام (EEP)، بھارت اور روس کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کا نیٹ ورک (جسے آر آئی این کہا جاتا ہے)، تعلیمی اور تحقیقی تعاون کو فروغ دینے کا منصوبہ (SPARC)، اور گلوبل انیشیٹیو آف اکیڈمک نیٹ ورکس (GIAN) پروگرام جیسے اہم میکانزم فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
روس ITEC اسکالرشپ کا فعال شراکت دار ملک رہا ہے. -252024 میں تقریباً 17 روسی شہریوں نے ITEC میں حصہ لیا، جبکہ 2023-24 میں تقریباً 23 روسی شہریوں نے ITEC اسکالرشپ حاصل کی، جبکہ کووِڈ سے پہلے کے برسوں میں یہ تعداد 100+ تھی. 19 ستمبر کو سفارتخانے نے 2025 ka ITEC ڈے منایا۔
ثقافتی شعبے میں تعاون:
بھارت اور روس کے درمیان گہرے اور تاریخی ثقافتی روابط قائم ہیں. متعدد مصنفین، فلسفیوں، مفکرین اور فنکاروں نے ایک دوسرے کے فنون، ثقافت اور معاشرے پر باہمی طور پر اثرات مرتب کیے ہیں. جواہر لال نہرو کلچرل سینٹر (JNCC)، ماسکو، روس کے ممتاز اداروں کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھتا ہے. متعدد روسی جامعات اور اداروں میں بھارتی زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے. سوویت یونین کے دور میں بھارتی سینما خاص طور پر مقبول تھا اور زیادہ تر بڑے شہروں اور شہری مراکز میں اس کی نمائش ہوتی تھی. یوگا بھی پورے روس میں بیحد مقبول ہے۔
دوسرا بھارتی فلم فیسٹول 04-15 اکتوبر، 2025 کو روس کے پانچ شہروں یعنی ماسکو، سینٹ پیٹرزبرگ، قازان، یاکوتسک اور ولادی ووستوک میں منعقد ہوا۔ ایک 9 روزہ ثقافتی تہوار ‘ہندوستان کے بازار اتسو فیسٹول ماسکو شہر کے مرکزی علاقے میں پہلی بار 13-5 جولائی، 2025 کو منعقد کیا گیا تھا۔ اس فیسٹول میں 120 سے زائد پروگرامز ہوئے، اور بھارت سے 100سے زیادہ فنکاروں اور دستکاروں نے شرکت کی اور وہ انتہائی کامیاب ثابت ہوا، جسے 8,50,000ماسکو باشندوں نے دیکھا. گیارہواں بین الاقوامی یوگ دیوس(2025) کی تقریب روس کے 60 سے زائد علاقوں میں منعقد کی گئی. ماسکو کے وی ڈی این ایچ (VDNKH) کامپلیکس میں (جون 21) یوگا ڈیمونسٹریشن اور آیوروید و مراقبہ کی ماسٹر کلاسز میں 1000 سے زیادہ افراد نے حصہ لیا۔
7.3ستمبر، 2025 کو ماسکو انٹرنیشنل بک فیئر کا انعقاد کیا گیا اور بھارت 2025 میں وہاں مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھا. سفیر نے بھارتی پویلین کا افتتاح کیا اور میلے میں بھارت اور روس کے سینئر حکام کے علاوہ ممتاز ادبی شخصیات بھی شریک ہوئیں. مورخہ 11اکتوبر کو بھگوان بدھ کے مقدس آثار ایلیسٹا، جمہوریہ کالمیکیا زیارت کے لیے لائے گئے. مقدس آثار کے ساتھ اتر پردیش کے معزز نائب وزیراعلیٰ جناب کیشو پرساد موریہ بھی روس گئے اور واپس بھارت لانے کے لیے جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا بھی ہمراہ موجود تھے۔
روس کی وزیر ثقافت محترمہ اولگا لیوبیمووا نے مئی 2025میں ممبئی میں منعقدہ ورلڈ آڈیو ویژوئل اینڈ انٹرٹینمنٹ سمٹ 2025(WAVES 2025) کے لیے بھارت کا دورہ کیا اور وزیرِ اطلاعات و نشریات جناب اشونی ویشنو سے ملاقات کی، جس میں سینماٹوگرافی میں دوطرفہ تعاون پر بات چیت کی گئی۔
ڈائسپورا اور عوام سے عوام رابطے:
عوام سے عوام کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور دو طرفہ سیاحت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں ممالک کے لیے ای ویزا کی سہولت نے اس عمل کو مزید سرعت بخشی ہے۔ بھارت کی اہم شخصیات کو روس۔بھارت سیاسی، علمی اور ثقافتی تعلقات کو قائم کرنے اور مضبوط کرنے میں ان کے کردار کے لیے روسی ریاستی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔
کثیر جہتی شعبوں میں باہمی تعاون:
بھارت اور روس کئی کثیر الجہتی پلیٹ فارموں جیسے اقوامِ متحدہ، جی 20، برکس اور ایس سی او میں قریبی تعاون رکھتے ہیں. اس باہمی تعاون سے بھارت کی 2023 میں جی20 اور ایس سی او کی صدارت کے دوران اور روس کی 2024 میں برکس صدارت کے دوران باقاعدہ تبادلہ خیال اور باہمی سپورٹ کے ذریعے مزید استحکام ملا ہے. روس نے مسلسل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کی مستقل رکنیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے. ریو ڈی جنیرو (برازیل) میں منعقدہ XVII برکس سربراہی اجلاس اور جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ) میں منعقدہ 2025 جی20 سربراہی اجلاس اور تیانجن (چین) میں منعقدہ 2025 ایس سی او چوٹی اجلاس میں بھارتی وفد کی قیادت وزیر اعظم نے کی۔
لب لباب :
گزشتہ 78سالوں کے عرصے میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات مضبوط اور مستحکم ہوئے ہیں. بھارت-روس شراکت داری موجودہ دور میں سب سے مستحکم شراکت داریوں میں سے ایک ہے، جس میں کثیر قطبی دنیا کے لیے مشترکہ عزم اور روایتی عسکری، جوہری اور خلائی تعاون سے آگے بڑھ کر تعلقات کو فروغ دینے کا عزم شامل ہے. گزشتہ دو سالوں میں دو طرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے. بھارت سے برآمدات میں اضافہ کرنے اور باہمی تعاون کے نئے ماڈلز تیار کرنے کے طریقوں پر بات چیت کا عمل جاری ہے. دونوں ممالک بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون کو مضبوط کرنے، خصوصا روسی رُخِ والے مشرقی علاقوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے اور بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور، چنئی-ولادی ووستوک ایسٹرن میری ٹائم کوریڈور اور نادرن سی روٹ جیسے رابطہ کاری کے اقدامات کو فروغ دینے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں. روس کا مشرق کی جانب جھکاؤ، اس کے وسائل اور ٹیکنالوجی اور بھارت کے اہم پروجیکٹس جیسے آتم نربھر بھارت اور میک ان انڈیا کے درمیان ہم آہنگی موجود ہے۔
بشکریہ یوریشیا ڈویژن ،وزارتِ خارجہ حکومت ہند