شبنم بنت رشید
رات دیر گئے تک عابدہ کی باتوں نے میرے دل کے اندر طوفان سا اٹھا رکھا لیکن صبح مجھے اس کی بہت یاد آئی۔ اس کا اور میرا ساتھ کافی مدت تک رہا۔ پہلی جماعت سے لے کر کالج تک اور کالج کے بعد بھی ہم دونوں ایک ہی پیشے سے جڑ گئے۔ پھر کچھ سالوں بعد اس کی اور میری شادی بھی ایک دوسرے کے بعد ایک ہی سال میں ہوئی۔ مگر اس کے اور میرے سسرال میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اس کے سسرال والے کافی روشن خیال اور اثر رسوخ والے لوگ تھے۔ شاید اسی لئے انہوں نے شادی ہوتے ہی عابدہ کا تبادلہ شہر کی طرف کرایا تاکہ وہاں اس کے بچوں کی پرورش، تعلیم اور تربیت جدید اور بہتر ڈھنگ سے ہو جائے، جس سے ان کا مستقبل بھی محفوظ رہے۔ جبکہ میرے سسرال والے سیدھے سادھے محنتی اور مخلص لوگ تھے۔ مجھے کبھی بھی ان کے اندر کوئی برائی نظر ہی نہ آئی۔ خاص کر اپنی ساسو ماں کے اندر جسے میں پیار سے امی کہہ کے بلاتی تھی۔ مجھے پہلے دن سے اپنے سسرال کے اندر محبت کی خوشبو مہکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ خیر جب عابدہ شہر کی طرف چلی گئی تو پھر نہ کبھی ہماری ملاقات ہوئی اور نا ہی کوئی رابطہ رہا۔ مگر سننے میں آیا اس کے بچے پڑھائی کے بعد اب فارین جانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔
خیر میں بھی اپنی روز مرہ کی زندگی میں مصروف تھی کیونکہ میرے میاں روزگار کے چکر میں ہمیشہ گھر سے باہر ہی رہتے تھے۔ اس لئے مجھے بھی کسی کے بارے میں سوچنے یا کسی سے ملنے کی کم ہی فرصت ملتی تھی۔ وقت کی رفتار اپنی رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی۔ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وقت ایسے کروٹ بدلتا ہے کیونکہ بڑی مدت کے بعد سال کے آخری مہینے میں، میرا اور عابدہ کا آمنا سامنا اس طرح ہوا کہ ایک نئی جگہ میری اور عابدہ کی پوسٹنگ ایک ساتھ ہوئی۔ نئی جگہ پر پرانی یادیں زندہ ہونے لگیں۔ خالی وقت میں ہم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کچھ وہ اپنی سناتی اور کچھ میں بتاتی لیکن میں اس بات پر حیران تھی کہ عابدہ کے چہرے اور وجود پر عمر کا کوئی اثر نہ تھا۔ بلکہ وہ پہلے سے زیادہ سمارٹ اور خوبصورت نظر آرہی تھی۔ خیر ہمارا وقت ایک ساتھ پھر گزرنے لگا کہ اچانک میرا وقت میرے سامنے بت کی طرح ساکت کھڑا ہوا۔ میرے گھر میں ایک پریشانی نے ڈھیرا ڈال دیا۔ اس پریشانی سے گھر کا ماحول تتر بتر ہو گیا۔ پریشانی ویسے بھی نہ موقع دیکھتی ہے اور نا ہی ماحول۔
میری امی کی کمر میں درد شروع ہوا جو روز بہ روز بڑھتا ہی گیا۔ وہ چلنے پھرنے سے بالکل قاصر ہوئی۔ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا تو دور کی بات وہ تو کھانا کھانے کے لئے بھی اپنی کمر پر سیدھے بیٹھ بھی نہ پاتی تھی۔ دیکھتے دیکھتے وہ صاحب فراش ہو گئی۔ اس کا صحت مند وجود آدھا رہ گیا۔ بے بسی اور لاچاری سے ہم سب کو اس کی تکتی ہوئی آنکھیں کوئی اور ہی داستان سنا رہی تھی۔ باہر ہرا بھرا پر رونق موسم اور اندر چار پائی پر کمبل کے نیچے پڑا اس کا ٹھنڈا وجود جو کہ شاید برف سے بھی زیادہ سرد تھا۔ اپنی ماں کے بارے میں سن کر میرے شوہر دوڑے دوڑے چلے آئے۔ اپنی ماں کی خستہ حالت دیکھ کر کافی دنوں تک ماں کے سرہانے بیٹھے رہے۔ جبکہ میں اور میرا بیٹا بھی اپنا احساس ذمہ داری لئے ہوئے اس کی خدمت کرتے رہے۔ خیر اس میں تو کسی کا کوئی قصور نہ تھا بلکہ یہ تو ظالم بڑھاپے کا اثر تھا۔ بڑھاپے کا سفر ویسے بھی فطری طور پر بڑا مشکل اور برا ہی ہوتا ہے۔ مانو تو دردوں کے مجموعے کا دوسرا نام بڑھاپا ہے۔ عمر بھر اس کی ساری کمیاں اور تھکان ایک ساتھ گھیر لیتی ہیں۔ پھر وہی تھکان دھیرے دھیرے انسان کی جان لیتی ہے۔ جب میرے میاں واپس کام پر چلے گئے تو امی کی دیکھ ریکھ اور گھر کا سارا بوجھ میرے کندھوں پر آگیا۔
میں نے پہلے ایک ہفتے کی لیو رکھ لی، پھر پندرہ دن لیکن جب امی کی صحت میں کوئی بہتری نظر نہ ائی تو میں نے اپنی ذمہ داری نبھانے کے لئے چھ ماہ کی لیو کے لئے عرضی ڈال دی۔ جب میری چھٹی منظور ہوئی تو عابدہ کو جیسے شاک لگ گیا۔ اس نے ٹوکتے ہوئے لہجے میں مجھ سے کہا کہ مجھے تو آپ کے گھریلو مسئلوں میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں مگر میرا دل جو ہے بڑا صاف ہے اور میں تمہاری دوست بھی ہوں۔ اس لئے دوست ہونے کے ناطے تمہیں سمجھانے کی کوشش کروں گی کہ اتنی لمبی چھٹی لینا کوئی آسان بات نہیں۔ تم نہیں جانتی اس سے تمہاری نوکری پر آنے والے دنوں میں کیا اثر پڑے گا۔ موت اور حیات اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن کبھی کبھار یہ بڑھاپہ اتنا تول پکڑ لیتا ہے کہ تیماردار کی زندگی کا اہم اور قیمتی حصہ نکل جاتا ہے۔ اسے تو ہر دن تل تل کر مرنا پڑتا ہے۔ اتنا بھاری بوجھ اکیلے اپنے کندھوں پر لینا کوئی آسان کام نہیں۔ اس سے اچھی اور سوجھ بوجھ والی بات یہ ہے کہ آپ اپنی ساسو ماں کے لئے اچھی سی تنخواہ دے کر ایک میڈ رکھ لو یا اس کا داخلہ میرا مطلب ہے ۔۔۔۔۔ ہم نے بھی تو گاؤں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔! آج کل تو انسان پیسے سے سب کچھ تو خرید سکتا ہے حتا کہ دل کا سکون اورآرام بھی۔ کیا تمہاری ساسو ماں کی کوئی بیٹی وغیرہ میرا مطلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ عابدہ نے مجھے اپنی طرف سے سمجھاتے ہوئے مشورہ دیا لیکن اس کے اس مشورے نے میری روح کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔ ایسے لگا جیسے کسی نے میرے دل کے اندر دہکتے ہوے انگارے ڈال دیئے، جس سے میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ میرا بس چلتا تو میں عابدہ کو پیٹ ہی لیتی مگر میں نے خود پر قابو پا لیا اور بڑے نرم لہجے میں جواب دیا کہ میری یہ بات ہمیشہ یاد رکھنا کہ دوبارہ ایسا مشورہ کسی کو نہ دینا۔ کیا پتہ تمہارے اس مشورے سے کسی کا دماغ خراب ہو جائے کیونکہ ہرسننے والا سمجھدار ہو یہ ضروری نہیں۔ خیر چھوڑ دو کیا پتا کسی کے لئے یہ تمہاری رائے صحیح بھی ہو مگر میں تمہاری اس رائے کو رد کرتی ہوں۔ ہاتھ تھامنے والی تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے انسان تو بس ایک بہانہ اور ایک ذریعہ ہے۔ اگر میں اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ کر اپنا پلہ جھاڑدوں تو سوچو اس ماں کا کیا حال ہوگا جس نے اپنی چھوٹی سی زندگی کا قیمتی حصہ اپنی اولاد پر خرچ کیا ہو۔ ماں باپ اگر دنیا میں جیتے ہیں تو صرف اپنی اولاد کی خاطر۔ کیا انہیں نظر انداز کر کے ایک اولاد کبھی خوش رہ پائے گا؟ اپنے جذبات پر قابو پا کر میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہ میرے خوابوں کے شروعاتی دن تھے جب میری شادی ہوئی تب سے لے کر امی نے آج تک مجھے اپنی بیٹی کی طرح رکھا۔ مجھ کو میرا برابر کا حق دیا۔ ایک ماں کی طرح مجھ سے محبت کی۔ محبت کی حد یہ نہیں کہ انسان محبت اپنی ذات کے علاوہ اپنی اولاد سے محبت کرے بلکہ محبت کی حقدار گھر میں لائی ہوئی بہو بھی ہوتی ہے۔ اس کی مجبوری کو سمجھنے کو بھی محبت کہتے ہیں۔ شادی سے لے کر آج تک جب بھی دن بھر تھک ہار کر گھر لوٹتی ہوں تو اپنی امی کو اپنا منتظر پاتی ہوں جس سے میرے دن بھر کی تھکن اتر جاتی ہے۔ کتنا غنیمت اور اچھا لگتا ہے جب تھک ہار کر گھر پہنچے تو کوئی اپنا آپ کو محبت سے ٹھنڈے پانی کا گلاس یا چائے کا ایک کپ پلائے؟ میں نے اپنی بات کو طول دے کر کہا جب میرا بچہ ہوا تو اس کی پیدائش پر مجھ سے زیادہ خوشی امی نے منائی۔ اس نے اس کی نظر اتار کر اس کے دونوں ہاتھوں میں چاندی کے کنگن پہنائے۔ پھر عقیقہ کے بعد اسے پوری طرح اپنا لیا۔ وہ مجھ سے زیادہ اپنی دادی کی آغوش میں پل کر اتنا بڑا ہوا کہ وہ اسکول جانے لگا تو تب جا کر امی نے اطمینان کی سانس لی اور اس کی ناز برداری کرتی رہی۔ اس کے علاوہ ہمیشہ سے گھر کی رکھوالی کرنا، نظم و ضبط کے ساتھ گھر کو سنبھالنا، سمیٹنا، گھر کی چیزوں کو ترتیب سے رکھنا اپنا ہی فرض سمجھتی تھی۔ میری جاب کی وجہ سے امی کو ہر دن نئے نئے مشکلات سے گزرنا پڑتا تھا۔ تب بھی اس کے ماتھے پر کوئی شکن نہ آئی۔ ورنہ وہ بھی روایتی ساسوں کی طرح مجھے اور میرے بچے کو جھلستی دھوپ میں چھوڑ سکتی تھی یا تنگ کرنے کے لیے میری راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کر سکتی تھی۔ میں نے اپنی ماں کو نہیں دیکھا ہے اس لئے جب جب میں اپنی ماں کے بارے میں سوچتی ہوں تو ذہن میں صرف ساسو ماں کا ہی دھندلا عکس ابھر کر آتا ہے۔ خیر اس کے علاوہ ماں باپ کے بے شمار احسانات ہوتے ہیں۔ چاہے وہ ماں باپ اپنے ہوں یا شوہر کے۔ وقت کے چلتے جب ماں باپ کی جوڑی بکھر جاتی ہے پھر وقت کے لمحوں کی ڈور ڈھیلی پڑ جاتی ہے تو ان کی زندگی میں ایک خلا، خالی پن اور ادھورا پن آجاتا ہے تو جسم کے اندر توانائی بھی کم ہوتی ہے۔ تو اس وقت ان کو نظرانداز کرنا کہاں کی سمجھداری ہوئی۔ انکو بھی تو اپنی ریاضت کا پھل اسی جنم میں ملنا چاہیے۔ میڈ یا اولڈ ایج ہوم تو مغربی تہذیب کہ چونچلے ہیں۔ وہ تو بزرگوں کو اپنے پاؤں کی زنجیر سمجھتے ہیں۔ خیر مغربی لوگوں کے الگ معاملات ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں تو بزرگوں کی عزت کی جاتی ہے۔ ان سے دعائیں لی جاتی ہیں۔ انہیں تو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ اگر ہم انھیں میذ وغیرہ کے حوالے کریں تو کیا وہ میڈ ان کے کپ کپاتے ہاتھوں میں چھپی صلاحیتوں، محنت اور محبت کی خوشبو کو محسوس کر پائے گی؟ اور یہ دنیا کا دستور ہے کہ جو ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے ا سے بھی کبھی نہ کبھی چھوٹے بچے کی طرح ہی ہمارے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کچھ وقت کے لئے میں ٹھہری میرا حلق خشک ہو گیا۔ پانی کا ایک گھونٹ پی کر عابدہ سے کہا میں آپ کو نیچا نہیں دکھانا چاہتی ہوں۔ اگر آپ کو میری بات بری لگی ہو تو معاف کرنا۔ نہیں نہیں اس میں بری لگنے والی کونسی بات ہے۔ عابدہ مزید کچھ بتائے بغیر میری طرف دیکھ کر خاموش ہو گئی۔ میں نے خدا حافظ کہہ کر ہاتھ ملایا اور برق رفتاری سے گھر کی طرف چل پڑی جہاں امی دروازے کی طرف ٹکٹکی باندھے میرا انتظار کر رہی ہوگی۔
مجھے بعد میں سنبھالو پہلے یہ حساب تو لگا لو
میں بکھر گیا ہوں کتنا تجھے جمع کرتے کرتے
���
پہلگام اننت ناگ ، کشمیر
موبائل نمبر؛9419038028