بے زمینوں کا بھولا ہوا ریکارڈ شناخت کا مٹتا ہوا ثبوت
معلومات
محمد امین میر
کچھ دیہات میںپٹواری خانے کو معلوم ہی نہیں کہ یہ رجسٹر کبھی موجود تھے،گرداور کے پاس کوئی انوینٹری نہیں،تحصیل میں کوئی سراغ نہیں،ضلع ریکارڈ روم میں کوئی نقل نہیں۔کہیںدفاتر کی منتقلی میں ضائع ہو گئیں،سیلاب میں بہ گئیں،آگ میں جل گئیں،حلقوں کی تقسیم میں گم ہو گئیں،پرانے ویڈنگ ڈرائیوز میں ختم کر دی گئیں۔یہ محض حادثاتی نقصان نہیں،یہ ادارہ جاتی غفلت ہے۔اگر جمعبندیاں ڈیجیٹل ہو سکتی ہیں توبکرمی چولا کیوں نہیں؟اگر ملکیتی ریکارڈ اسکین ہو سکتے ہیں توشناختی ریکارڈ کیوں سڑنے دیے گئے؟اگر زمین محفوظ ہے تولوگ کیوں نظرانداز ہوئے؟گم شدہ رجسٹر کی انسانی قیمت ہر غائب رجسٹر کے پیچھے ایک ٹوٹی ہوئی درخواست ہے۔ایک طالب علم جسے اسکالرشپ نہیں ملی۔ایک کسان جسے ریزرویشن فائدہ نہیں ملا۔ایک یومیہ مزدور جسے زمرہ جاتی حیثیت نہیں ملی۔ایک بیوہ جسے فلاحی مدد نہیں ملی۔ایک خاندان جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔
انہیں کہا جاتا ہے:’’تمہاری ذات ثابت نہیں۔‘‘،’’تمہاری رہائش تصدیق شدہ نہیں۔‘‘،’’تمہارے آباء درج نہیں۔‘‘حالانکہ سچ یہ ہے کہ ان کے آباء درج تھے،ان کی ذات لکھی گئی تھی،ان کی رہائش رجسٹرڈ تھی،صرف رجسٹر غائب ہے،دستاویز شہری نے نہیں کھوئی،ریاست نے کھوئی ہےاور قیمت شہری ادا کر رہا ہے۔
سرٹیفکیشن کے لیے بکرمی چولا بطور ثبوت:جس شخص کے پاس مالکانہ زمین نہیں اسے فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔قانون یہ نہیں کہتا کہ شناخت کے لیے ملکیت لازم ہے۔شہری کو ایکڑ سے نہیں ناپا جاتا۔رہائشی کو کنال سے نہیں تولا جاتا۔ذات خسرہ نمبر سے طے نہیں ہوتی۔بے زمین خاندانوں کے لیے بکرمی چولا بنیادی ریکارڈ ہے۔
بکرمی چولا کا اقتباس، ساتھ میںشجرۂ نسب،ووٹر لسٹیں،پرانے راشن کارڈ،اسکول ریکارڈ،پنچایت سرٹیفکیٹس،مسجد یا مندر کے ریکارڈ،کافی اور وافر ثبوت ہیں۔محکمہ مال کو بکرمی چولا کے اقتباس کو جمعبندی کے برابر تسلیم کرنا چاہیے—کیونکہ تاریخی طور پر وہ ہمیشہ برابر تھا۔
ریکارڈ مینجمنٹ کی اخلاقی ناکامی : زمین کے ریکارڈ محفوظ کیے جاتے ہیں کیونکہ زمین کی قیمت ہے۔مگر انسانی ریکارڈ نظرانداز ہوتے ہیں کیونکہ لوگوں کو قابلِ بدل سمجھا جاتا ہے۔
ہم کھیت بچاتے ہیں۔ہم خاندان بھول جاتے ہیں۔ہم خسرے اسکین کرتے ہیں۔ہم گھرانے نظرانداز کرتے ہیں۔ہم ملکیت بچاتے ہیں۔ہم شناخت چھوڑ دیتے ہیں۔جو ریاست اپنے غریب ترین شہریوں کی تاریخ محفوظ نہ رکھ سکے وہ خود کو جامع نہیں کہلا سکتی۔سماجی ریکارڈ کے بغیر ڈیجیٹلائزیشن نامکمل حکمرانی ہے،اگر ہم فخر سے کہتے ہیں۔ڈیجیٹل جمعبندی،آن لائن میوٹیشن،GIS میپنگ،ریونیو پورٹل،والہرس سسٹم،تو ڈیجیٹل بکرمی چولا کہاں ہے؟
سماجی رجسٹر کے بغیر ڈیجیٹل گاؤں کا نقشہ کھوکھلا ہے۔ایسا نظم و نسق جو ہر کھیت کو جانتا ہو مگر ہر خاندان کو بھول جائے،نامکمل ہے۔حقیقی ڈیجیٹل گورننس میں شامل ہونا چاہیے۔
بکرمی چولا کی ڈیجیٹلائزیشن،گھرانوں کی انڈیکسنگ،آدھار اور ووٹر لسٹ سے ربط،زمرہ جاتی سرٹیفکیشن پورٹلز کے ساتھ انضمام،ورنہ ڈیجیٹلائزیشن جاگیردار مرکز حکمرانی بن کر رہ جائے گی۔محکمہ مال کی قانونی ذمہ داری،ریونیو حکام ریکارڈ کے مالک نہیں امین ہیں۔وہ عوامی دستاویزات کے ٹرسٹی ہیں،بکرمی چولا کا غائب ہونا محض کلریکل غلطی نہیں،یہ عوامی اعتماد کی خلاف ورزی ہے۔
ضروری اقدامات: یو ٹی بھر میں بکرمی چولا کا آڈٹ،پٹواری خانوں سے گم شدہ رجسٹر کی بازیابی،سیٹلمنٹ نقول سے ضائع شدہ رجسٹر کی بحالی،تمام موجود رجسٹر کی ڈیجیٹلائزیشن،بکرمی چولا کو سرٹیفکیشن کے لیے معتبر عوامی ریکارڈ قرار دینا،تحصیلداروں کے لیے SOPs جاری کرنا،عملے کی تربیت،ضلع ریکارڈ رومز میں بیک اپ آرکائیوز،
گم شدہ تاریخ کی بحالی: یہ اب بھی ممکن ہے۔جہاں رجسٹر ضائع ہو چکے ہیں وہاں بھی بحالی ممکن ہے۔سیٹلمنٹ دفاتر کے پاس موجود ہیں۔فیلڈ بکس،گھرانوں کی فہرستیں،کرمچاری ڈائریاں،مردم شماری ربط ریکارڈ،پرانے گاؤں کے نقشے،نذول فائلیں،شاملات فہرستیں،ان کی مدد سے عوامی تصدیق کے بعد نیا بکرمی چولا تیار کیا جا سکتا ہے—بالکل اسی طرح جیسے،جمعبندی کی تصحیح،شجرہ کی ترمیم،گاؤں کی حدبندی،میں کیا جاتا ہے،ضرورت صرف عزم کی ہے۔ایک سوال جس کا جواب ضروری ہے،بکرمِی چولا کہاں گئے؟کون انہیں بحال کرے گا؟کیونکہ جب تک وہ بحال نہیں ہوتے، ہزاروں شہری سرکاری طور پر غیر مرئی رہیں گے۔
تاریخ کے دوسرے نصف کی بحالی: ریکارڈ آف رائٹس اور بکرمی چولا کبھی ایک دوسرے کے مقابل نہیں تھے۔وہ ایک دوسرے کی تکمیل تھے۔ایک نے زمین درج کی۔
دوسرے نے زندگی۔ایک نے ملکیت محفوظ کی۔دوسرے نے لوگوں کو۔آج صرف ایک باقی ہےاور لوگوں کے بغیر گاؤں صرف ایک نقشہ ہے۔بے زمین شہری تاریخ میں بے زمین نہیں۔وہ صرف جمعبندی میں بے زمین ہے۔اس کے آباء زندہ رہے۔انہوں نے کام کیا۔انہوں نے خدمت کی۔وہ یہاں کے تھےاور ان کے نام لکھے گئے تھے۔
ریاست نے رجسٹر کھو دیا۔شہری نے اپنا ثبوت کھو دیا۔اب دونوں کو بحال کرنے کا وقت ہے۔کیونکہ حکمرانی صرف کھیتوں اور فائلوں کا نام نہیں۔یہ لوگوں اور یادداشت کا نام ہےاور جو ریاست اپنے غریب ترین شہریوں کو بھول جائے وہ اپنی روح کو بھول جاتی ہے۔بکرمِی چولا کو سائے سے واپس آنا ہوگا۔بے زمین کو ریکارڈ میں واپس آنا ہوگااور انصاف کو سرٹیفکیشن میں واپس آنا ہوگا،تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ ہمارا نظم و نسق واقعی جمہوری ہے،تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ تاریخ سب کی ہے،تب ہی ہم کہہ سکیں گے کہ کوئی شہری غیر مرئی نہیں۔(ختم شد)