عیدالاضحی
اِکز اِقبال
عید صرف ایک تہوار نہیں ہے، یہ احساسات کی ایک مکمل تہذیب ہے۔ عید خوشیوں کی محض ایک تاریخ نہیں بلکہ یادوں، رشتوں، قربانیوں اور محبتوں کا ایسا سلسلہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔ میرے لیے عید کی صبح کا پہلا منظر ہمیشہ ماں کے چہرے سے شروع ہوتا ہے۔ عیدگاہ جانے سے پہلے، تکبیروں کی صداؤں سے پہلے، نئے لباس کی خوشبو سے پہلے، عید کی اصل ابتدا ماں کو عید مبارک کہنے سے ہوتی ہے۔ شاید دنیا میں اس سے بڑی کوئی عید نہیں کہ انسان اس ہستی کے سامنے کھڑا ہو جس نے اپنی زندگی کی خوشیاں، نیندیں، خواہشیں اور جوانی اولاد کے نام کر دی ہو۔
عید الاضحیٰ کے دن جب میں ماں کو مبارکباد دیتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے برسوں کی محبت ایک لمحے میں سمٹ آئی ہو۔ ان کی آنکھوں میں چمک، دعاؤں سے لبریز ہاتھ اور چہرے پر سکون کی وہ کیفیت ۔یہی میری اصل عیدی ہےاور پھر ہمارے گاؤں کی وہ خوبصورت روایت، صبح سویرے ماں کا ہمسایوں کے گھروں تک اپنے گھر کی گائے کا دودھ پہنچانا۔ یہ دودھ صرف دودھ نہیں ہوتا، یہ محبت کی سفارت ہوتا ہے۔ یہ اس تہذیب کی خوشبو ہوتی ہے جہاں دروازے صرف لکڑی کے نہیں بلکہ دلوں کے بھی کھلے ہوتے تھے۔ آج جب دنیا ترقی کے نام پر تنہائی کی طرف بڑھ رہی ہے، ہمارے بزرگوں کی یہ روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خوشیاں صرف اپنے لیے جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ بانٹنے کا نام ہیں۔ عید کا اصل حسن بھی شاید یہی ہے کہ آپ کی دسترخوان کی خوشبو آپ کے پڑوسی کے گھر تک پہنچے۔
عید کی صبحوں میں ایک اور چیز ہمیشہ سے میرے دل کے بہت قریب رہی ہے؛ لپٹن چائے اور بسکٹ۔ بظاہر یہ ایک معمولی سی چیز لگتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی خوشیاں اکثر بہت سادہ ہوتی ہیں۔ چائے کے اُس کپ میں صرف ذائقہ نہیں ہوتا تھا، اس میں بچپن کی شرارتیں گھلی ہوتی تھیں۔ خاندان کے افراد کے قہقہے، بہن بھائیوں کی نوک جھونک، بزرگوں کی نصیحتیں اور عید کے منصوبے۔سب کچھ اُس بھاپ کے ساتھ اُڑتا محسوس ہوتا تھا، شاید اسی لیے انسان جتنا بھی بڑا ہو جائے، عید اسے واپس بچپن میں لے جاتی ہے۔میرے لیے عید بچپن میں چاند رات سے شروع ہو جاتی تھی۔ جونہی آسمان پر چاند نظر آتا، دل میں عجیب سی بے قراری جاگ اٹھتی۔ رات بھر نیند کم اور خوشی زیادہ ہوتی۔ صبح ہوتے ہی ایک الگ ہی مہم شروع ہوتی؛ عیدی جمع کرنے کی مہم۔
ہم سب بزرگوں کے پاس جاتے، عید مبارک کہتے اور پھر جیب میں رکھے نوٹ کو بار بار نکال کر گنتے۔ اُس وقت عیدی کی رقم اہم نہیں ہوتی تھی، خوشی اہم ہوتی تھی۔ ہر بڑے سے ملنا، دعائیں لینا اور اپنی جمع پونجی کو سنبھال کر رکھنا ایک الگ ہی دنیا تھی۔ آج بھی عیدی کی روایت زندہ ہے مگر وقت نے اسے بدل دیا ہے۔ بزرگوں کی قوتِ خرید کم ہوئی ہے اور بچوں کی خواہشات بڑی۔ پہلے بچے دس روپے میں خوش ہو جاتے تھے، آج ہزاروں بھی بعض اوقات مسکراہٹ نہیں لا پاتے۔ شاید مسئلہ رقم کا نہیں، زمانے کا ہے۔
اور پھر عید کی خریداری ۔کیا خوب زمانہ تھا! بازار جانا، کپڑوں کی دکانوں پر گھنٹوں کھڑے رہنا، ہر لباس کو پسند کرنا اور آخر میں بابا کا مسکرا کرکہنا،’’رکھ دو ابھی، ہم بعد میں آئیں گے‘‘یہ جملہ اُس وقت شاید مایوسی دیتا تھا مگر آج سمجھ آتا ہے کہ بابا صرف چیزیں نہیں خریدتے تھے، وہ اپنے حالات سے لڑ رہے ہوتے تھے۔ ہم اکثر یہ نہیں جانتے کہ والدین اپنی خواہشات کو مار کر ہماری خواہشات زندہ رکھتے ہیں۔
عید الاضحیٰ قربانی کا نام ہے اور قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں۔ قربانی دراصل اپنی انا، خودغرضی، لالچ اور بے حسی کو ذبح کرنے کا نام ہے۔حضرت ابراہیمؑ نے ہمیں صرف ایک واقعہ نہیں دیا بلکہ زندگی کا ایک اصول دیا کہ اللہ کی رضا کے لیے سب کچھ قربان کیا جا سکتا ہے۔ ليکن آج ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہماری قربانی صرف رسم رہ گئی ہے؟ کیا ہم نے کبھی اپنی ضد قربان کی؟ اپنی نفرت قربان کی؟ اپنی خودپسندی قربان کی؟عید الاضحیٰ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسان کی عظمت اس کے لباس، دولت یا حیثیت میں نہیں بلکہ اس کے ایثار میں ہے۔ مجھے عید کی ایک اور خوبصورتی ہمیشہ متاثر کرتی ہے، کسی محنت کش سے بغیر ضرورت کے بھاؤ تاؤ نہ کرنا۔ وہ سبزی فروش، وہ قصائی، وہ کپڑوں والا، وہ مزدور۔ جو اپنے بچوں کی عید کے لیے دن رات محنت کرتا ہے، اس سے چند روپے کم کروانے میں آخر کیسی خوشی؟
عید ہمیں صرف لینے کا نہیں بلکہ دینے کا سبق دیتی ہے۔ اور سچ یہ ہے کہ جب آپ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے ہیں تو جو سکون دل میں اترتا ہے، وہ کسی خریداری سے نہیں ملتا۔
عید الاضحیٰ کی خوشیوں کے درمیان ہمیں اُن گھروں کو بھی یاد رکھنا ہوگا جہاں شاید اس بار قربانی نہ ہو سکے۔ وہ بچے بھی ہمارے منتظر ہیں جن کی عید اور عام دن میں کوئی فرق نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے کتنے ہی لوگ ہیں جو عید کے دن بھی خاموشی سے اپنے حالات کا بوجھ اٹھائے رہتے ہیں۔ اگر ہماری پلیٹ میں گوشت زیادہ ہے تو اس میں کسی اور کا حصہ بھی ہونا چاہیے۔ اگر ہمارے گھر میں خوشی زیادہ ہے تو اس میں کسی اور کی مسکراہٹ بھی شامل ہونی چاہیے۔ کیونکہ عید کا اصل حسن نئے لباس میں نہیں، نئے دل میں ہے۔ آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، رشتے کمزور اور تہذیبیں مدھم پڑ رہی ہیں، عید ہمیں دوبارہ جوڑنے آتی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم صرف افراد نہیں، ایک خاندان، ایک معاشرہ اور ایک امت ہیں۔ اس عید الاضحیٰ پر آئیے صرف قربانی نہ کریں بلکہ اپنے اندر کے انسان کو بھی جگائیں۔
ماں کی خدمت کو عبادت بنائیں، والد کی خاموش قربانیوں کو سمجھیں، پڑوسی کے دروازے تک محبت پہنچائیں، یتیم بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ سجائیں اور اپنے دل کو نفرتوں سے خالی کریں۔ کیونکہ عید صرف منائی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے،’’ کیونکہ جب آپ کی خوشی میں کسی اور کی مسکراہٹ شامل ہو جائے، تو وہی اصل عید ہے۔‘‘
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ ۔ 7006857283
[email protected]