راجوری//سرمائی زون کے دسویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات شروع ہونے سے قبل ہی راجوری میں قوانین کی خلا ف ورزیوں کا معاملہ سامنے آیاہے جس پر ضلع انتظامیہ کی جانب سے چیف ایجوکیشن افسر راجوری اور پرنسپل ڈائٹ کے نام اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیاگیاہے ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ دسویں اور بارہویں جماعتوں کے امتحانات لینے والے عملہ نے بڑے پیمانے پر قوانین کی خلاف ورزیاں کی ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ہونے جارہے امتحانات میں نقل ہوسکتی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ اگرچہ ضلع انتظامیہ کی طرف سے محکمہ تعلیم کو ہدایت دی گئی تھی کہ امتحانات لینے کیلئے موزوں سپرینڈنٹ اور ڈپٹی سپرینڈنٹ کی تعیناتی کی خاطر افسران کا ایک پینل پیش کیاجائے تاہم محکمہ تعلیم نے ہدایات کو نظرانداز کرتے ہوئے قوانین کی خلاف ورزی کی اور اس سلسلے میں کوئی پینل پیش نہیں کیا ۔ذرائع نے یہ بھی بتایاکہ اگست کے مہینے میں ڈپٹی کمشنر راجوری کی طرف سے ایک سرکولر جاری کیاگیا جس میں بورڈ سکول آ ف ایجوکیشن کو ہدایت دی گئی کہ امتحانات ڈیوٹی کیلئے مجسٹریٹس ، فلائنگ سکواڈ اور عملہ کی تعیناتی کو امتحان شروع ہونے سے پندرہ روز قبل ڈپٹی کمشنر دفتر سے منظوری لی جائے تاہم ان ہدایات کو نظرانداز کردیاگیا اور ڈپٹی کمشنر کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی منظوری نہیں لی گئی ۔ذرائع کاکہناہے کہ یہی نہیں بلکہ ڈپٹی کمشنر سے امتحانی مراکز کے قیام کے لئے بھی منظوری نہیں لی گئی جس کے بارے میں ماضی میں ہدایات جاری کی گئی تھیں ۔ذرائع نے بتایاکہ منعقد ہونے جارہے امتحانات میں کچھ ایسے افسران کو بھی ڈیوٹی پر تعینات کیاگیاہے جو نقل کرانے کیلئے مشہور سمجھے جاتے ہیں ۔ذرائع کاکہناہے کہ یہ ہدایت جاری کی گئی تھی کہ جس نے سابق تین برسوں کے دوران ڈیوٹی انجام دی ہو ،اسے اس بار تعینات نہیں کیاجاسکتالیکن محکمہ نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسا کردکھایاہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ اس طرح سے محکمہ تعلیم کے احکامات کی خلاف ورزی بھی کی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر راجوری کے دفتر سے چیف ایجوکیشن افسر اور ڈائٹ پرنسپل راجوری کے خلاف اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیاگیاہے ۔انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایاکہ لاپرواہی والے رویہ پر چیف ایجوکیشن افسر اور ڈائٹ پرنسپل راجوری کے خلاف اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے دو دن کے اندر جواب طلب کیاگیاہے نہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ایک دوسرے ذرائع نے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ محکمہ تعلیم کے افسران کی طرف سے ضلع انتظامیہ کی ہدایات کو نظرانداز کیاگیاہے اور نہ ہی منظوری حاصل کی گئی ہے ۔ذرائع نے بتایاکہ ضلع انتظامیہ نے چیف ایجوکیشن افسر راجوری کے دفتر کے کچھ ملازمین کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دیاہے جو اس معاملے میں ملوث ہیں ۔