ڈاکٹر فلک فیروز
میں غزل کی شبنمی آنکھ سے دکھوں کے موتی چنا کروں
میری سلطنت میرا فن رہےمجھے تخت و تاج خدا نے دئے
اردو غزل کا فن جس قدر تنقید کے حصار میں رہا ،اسی قدر اس نے ترقی کی بلندیوں کو چھونا شروع کیا، اعتراضات کے باوجود اس فن نے اپنی باہیں وسیع سے وسیع تر کر دیں۔ اس طرح سے ثابت ہوتا ہے کہ غزل میں ایسی گنجائش موجود ہے کہ یہ دنیا کے تمام حالات و واقعات مسائل کو اپنے بطن میں جگہ دے کر بیان کرنے کا ہنر رکھتی ہے ۔ ہر دور میں اس نے ایک اکاس کی طرح انسان اس کے راز و نیاز نشیب و فراز عارضی وسماوی حالات کو اپنے اندر سمیٹنے کی تاب پائدہ کر کے پھن کی طرح پھن کار کو اپنی زمین عطا کر کے انہیں تاریخ کا روشن باب بنا ڈالا۔ غزل میں یہ صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے کہ اس میں مشکل سے مشکل حالات آسان سے آسان واقعات کو باسانی بیان کیا جا سکتا ہے ،اس طرح سے ہر دور میں اس کی اہمیت نصرف موجود رہی بلکہ بڑھتی گئی اج کل کے جدید اور مصروف ترین دور میں بھی مختلف سماجی رابطہ گاہوں پر اردو غزل کے مشاعرے باوقار طریقے سے منعقد کئے جا رہے ہیں، انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ کوششیں تیز سے تیز تر ہوتی جا رہی ہے ۔جس کی کئی مثالیں ہمارے سامنے مختلف ادبی رویوں محرکات تحریکات اور رجحانات کے پیدا ہونے سے نظر آتی ہیں ۔ اردو غزل کی لافانی آوازوں میں میر تقی میر ،غالب ،اقبال، فیض اہم مانے جاتی ہیں اسی روایت کے ایک اہم نام کے طور پر بشیر بدر اُبھرتے ہیں۔ بشیر بدر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم رہے ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ،انہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے سر ولیم سکالرشپ سے بھی نوازا گیا، اس کے علاوہ انہوں نے اول پوزیشن حاصل کر کے گولڈ میڈل بھی اپنے نام کر دیا، ارادہ کرشن ایوارڈ بھی انہوں نے اپنی محنت سے اپنے نام کر دیا، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انہوں نے اردو ادب میں پی ایچ ڈی ڈگری بھی حاصل کی ۔ بشیر بدر کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے میگزین کی ادارت بھی کی اور غالب نمبر ترتیب دیا ،جسے یونیورسٹی نے کتابی صورت میں شائع کیا،انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی میں چند سال ملازمت بھی اختیار کی ۔ واضح رہے انھیں گورنمنٹ اف انڈیا نے شاعری کی عظمت کے تئیں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا ہے۔
بشیر بدر ثقافت کی اس مظہر مسلسل کا اہم پڑاو ہے، جس کو اہل ادب و ناقدین ادب جدید غزل کے نام سے موسوم کرتے ہیں ،یہ جدید دور کے شاعرہیں، ان کی شاعری کا ستارہ آزاد ہندوستان کی آزاد فضاؤں میں پروان چڑھا۔ ضلع فیض اباد یو پی انڈیا سے ان کا تعلق ہے۔ ’’اکائی ‘ان کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ہے جس پر انھیں اردو اکیڈمی لکھنو سے انعام ملا ہے۔ ان کے دوسری شعری مجموعے ’’امیج‘‘ کو۱۹۷۳ اردو اکیڈمی یو پی کا انعام ملا ہے۔ اس کے بعد امد اور آسمان کے نام سے دو شعری مجموعے منظر عام پر آگئے ۔
بشیر بدر کی غزلوں میں نہ صرف روایتی عاشق اور معشوق کی داستان ملتی ہے بلکہ عہد حاضر کی چیرہ دستیوں کا خوفناک منظر بھی ان کی شاعری میں جگہ جگہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ انہوں نے انسانی زندگی کی الجھنوںاحساسات درد و غم خوشی کے نغمے ساز و اواز دل کی دھڑکنیں معاشی مسائل کی بے رحمانہ تلوار انسان کی لاچارگی اجنبیت بے چہرگی شہری و دیہاتی نوجوانوں کی امنگیں دھوپ چھاؤں کے حسین احساسات اپنی ذات کے خول کے اندر کھوئے ہوئے موجودہ دور کے انسان کی عکاسی ان کی شاعری میں ملتی ہے ۔ انہوں نے انسانیت کی زوال امادہ صورتحال کو اپنی شاعری میں جگہ دی ہے۔
زندگی ایک فقیر کی چادر
جب ڈھکے پائوں ہم نے سر نکلا
زندگی تو نے مجھے قبر سے کمدی ہے زمین
پائوں پھیلائوں تو دیوار میں سر لگتا ہے
دنیا کے موجودہ منظر نامے میں اشرف المخلوقات کہے جانے والے آدم ابن آدم یا حضرات کو یہی صورتحال درپیش ہے جو اپنے تمام تر ایمان ایقان عقیدت نظریہ اور قدرت کی لافانی طاقتوں کا ناشکرا بن کر زندگی گزار رہا ہے۔ جس کے لیے اب کوئی عقیدہ کوئی معنی نہیں رکھتا، اس کے لیے اب تحفظ دینے والے مذہب کے ادارے ڈراونی خواب لگ رہے ہیں۔ اب اس کی عبادت گاہیں خالی ہو گئی ہے اور اس کے اندر پنپنے والی روح اب اپنے سائے سے ڈر رہی ہے ،اس نے اپنے لیے دنیا کا ایک ایسا نظام پیدا کر دیا ہے۔ ایک ایسا جال پھیلا دیا ہے جس نے اس کی جیتی جاگتی زندگی اور قبر کے درمیان کا فاصلہ مٹا دیا ہے۔ اب اسے زندگی دنیا اپنی محدود جگہیں قبر سے بھی کم لگ رہی ہے اور اس کا خوبصورت اظہار بشیر بدر کے مذکورہ اشعار میں ملتا ہے۔ جس میں بلا کا طنز ہے جس میں فصاحت ہے بلاغت ہے ظرافت ہے ،چوٹ ہے، طنز ہے مگر حق تو یہی ہے کہ موجودہ دور کے ابن ادم کی یہ سچی تصویر ہے ۔ اس تصویر کشی میں جو چوٹ دیکھنے کو ملتی ہے وہ کل ہم طور پر زندگی، خواہشات، مہد سے لحد تک کے حالات کا ایک خوبصورت اور دلچسپ بیان ہے جس میں بظاہر پریشانی کو ظاہری سطح پر ان الفاظ کے ذریعے سے دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو صبح سے شام تک انسانی تجربات میں شامل رہتے ہیں جن میں چادر پاؤں سر زمین دیوار جیسے الفاظ شامل ہیں اور ان تمام کا خاتمہ قبر میں ہوتا ہے اور یہاں زندگی اور قبر کے فاصلے کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا تجربہ حسین پیرائے اظہار میں ملتا ہے۔
دنیا میں اب ایسی جگہ ڈھونڈنا خواب رہ گیا ہے جہاں مکمل سطح پر امن و امان کی فضائیں قائم ہوں چاہے وہ مغربی ممالک کے خطے ہوں یا مشرقی اقوام کی سرزمین ہو ہر جگہ آدمی کا قتل ہورہا ہے ۔ طاقتور کمزور پر مغلوب ہے۔ زور بازو کا تماشہ ہر سو نظر ارہا ہے جس کے ہاتھ جہاں پہنچتے ہیں وہ وہاں لوٹ مار شروع کرتا ہے۔ نہتے عوام کو سرعام مار ڈالا جاتا ہے۔ عورتوں کی عزت محفوظ نہیں ہے شیر خوار بچوں کو قتل کر دیا جاتا ہے ۔ کبھی نیوکلیئر پاور کا استعمال کیا جاتا ہے کبھی زمینی فوج کا استعمال کیا جاتا ہے کبھی نامعلوم وائرس کو پھیلایا جاتا ہے ۔ لوگوں کے گھروں کو تہس نہس کر ڈالا جاتا ہے ،موجودہ دور میں ہر دن ایسی بے شمار خبریں پڑھنے کو ملتی ہے جن میں ایسے واقعات درج ہوتے ہیں کہ آج فلاں بستی کو جلا ڈالا گیا ،آج اتنے مکانوں کو خاکستر کیا گیا ہے۔ آج اتنی بڑی بڑی عمارتوں کو طاقتور لوگوں نے گرا دیا، مظلوموں اور نہایتوں کے گھر ڈہے جاتے ہیں اور ان تمام حالات و واقعات یا مسائل کا ذکر بشیر بدر کی شاعری میں ملتے ہیں، جہاں عام مجبور لوگوں کی فریاد ان کی زبانی سے اشعار میں پیش کیے جاتے ہیں اور انسانیت شرم سار ہو جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں عشق، محبت، دوستی، جدائی اور انسانی تعلقات نہایت لطیف انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ انھوں نے بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں، تنہائی، بے اعتمادی اور شہری زندگی کے مسائل کو اپنی غزل کا موضوع بنایا۔
ان کے اشعار میں نئے استعارے، تازہ خیالات اور عصری شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ بشیر بدر کی غزلوں میں نغمگی، روانی اور دل کش آہنگ پایا جاتا ہے جو قاری اور سامع دونوں کو متاثر کرتا ہے۔غم اور محرومی کے باوجود ان کی شاعری میں امید، حوصلہ اور زندگی سے محبت کا عنصر موجود رہتا ہے۔وہ کم الفاظ میں بڑی بات کہنے کا ہنر رکھتے ہیں، جس سے ان کے اشعار ضرب المثل بن جاتے ہیں۔
نظر سے گفتگو خاموش لب تمہاری طرح
غزل نے سیکھے ہیں انداز سب تمہاری طرح
اب خاک اڑ رہی ہے گلابوں کے شہر میں
وہ لو، چلی ہے اب کے پتھر جھلس گئے
موصوف کی شاعری محبت، انسان دوستی، عصری شعور، سادہ زبان اور فنی لطافت کا دل آویز نمونہ ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو جدید احساسات سے ہم آہنگ کرکے اسے نئی معنویت عطا کی، جس کی وجہ سے وہ عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہیں۔
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
خدا ایسے احساس کا نام ہے
رہے سامنے اور دیکھایی نہ دے
رابطہ۔ 8825001337