یواین آئی
واشنگٹن//امریکہ نے شام کو دوبارہ تسلیم کرنے کے حوالے سے عرب لیگ کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بدترین خانہ جنگی کے بعد صدر بشار الاسد تعلقات بحال کیے جانے کے حق دار نہ تھے ۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ شام کو اس وقت عرب لیگ میں دوبارہ شمولیت کا حق حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہم بشار الاسد حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر نہیں لائیں گے اور ہم ایسا کرنے والے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کی بھی حمایت نہیں کرتے ۔کانگریس کے اہم ارکان نے اس حوالے سے بہت سخت لہجہ اختیار کیا اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ اسد کے ساتھ تعلقات معمول پر آنے سے روکنے کے لیے پابندیوں کی طاقت کا استعمال کرے ۔ایوان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک میکول اور پینل پر سرفہرست ڈیموکریٹ گریگوری میکس کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ بشارالاسد کو عرب لیگ میں دوبارہ شامل کرنا ایک سنگین اسٹریٹجک غلطی ہے جو بشار الاسد، روس اور ایران کی جانب سے شہریوں کا قتل عام جاری رکھنے اور مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کرنے کے عمل کی حوصلہ افزائی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ بشار الاسد تبدیل نہیں ہوئے ، وہ اپنے مظالم جاری رکھیں گے جبکہ ایک عالمی نظیر بھی قائم ہو گی کہ بے رحم آمر اپنے جرائم کے لیے احتساب کا انتظار کر سکتے ہیں۔