گرنا مقدر نہیں بلکہ مہینوں سے اشارے دینے والےجسم کا آخری پیغام ہوتا ہے
ڈاکٹر زبیر سلیم
گزشتہ دس دنوں میں ہی مجھے تین ایسے فون آئے جن میں ہر بار یہ اطلاع دی گئی کہ ایک بزرگ شخص گرنے کے بعد شدید درد کے ساتھ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہا۔ جانچ پرکھ کے بعد تینوں میں کولہے کے فریکچر کی تشخیص ہوئی۔ ایک اور معاملہ ایک جاننے والے کا تھا، جو چند دن پہلے تک متحرک تھا، اور اب اچانک بستر تک محدود ہو چکا ہے، چھت کو گھورتا ہوا بار بار ایک ہی سوال دہرا رہا ہے’’بس باتھ روم میں ذرا سا پھسل ہی تو گیا تھا، ہڈی کیسے ٹوٹ گئی؟‘‘۔ایک معمولی سی پھسلن نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
بزرگوں میں گرنا محض حادثہ نہیں ہوتا۔ یہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہوتے ہیں، خاص طور پر سردیوں میں۔ سردی بڑھاپے کے جسم پر سخت اثر ڈالتی ہے۔ جوڑ اکڑ جاتے ہیں، ردِعمل سست پڑ جاتا ہے، پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اور توازن متاثر ہوتا ہے۔ فرش پھسلن والے ہو جاتے ہیں، باتھ روم نم رہتے ہیں، قالین ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور جوتے قابلِ اعتماد نہیں رہتے۔ روشنی کم ہونے سے نظر مزید کمزور ہو جاتی ہے اور آنکھوں پر دھند چھا جاتی ہے۔ بلڈ پریشر میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ سرد موسم میں دوائیں بھی مختلف انداز میں اثر دکھاتی ہیں۔ جو چیز نوجوان کے لئے ایک معمولی غلط قدم ہوتی ہے، وہ بزرگ کےلئے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
بزرگوں میں گرنا اکثر ایک سلسلہ وار بگاڑ کی شروعات ہوتا ہے۔ اس کا سب سے خوفناک نتیجہ کولہے کا فریکچر ہے۔ نوجوانوں کے فریکچر کے برعکس، بزرگ میں کولہے کا فریکچر محض ہڈی کی چوٹ نہیں بلکہ زندگی بدل دینے والا واقعہ ہوتا ہے۔ اکثر سرجری کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے بعد طویل بستر نشینی آتی ہے۔ پیچیدگیاں خاموشی سے سر اٹھاتی ہیں،بستر کے زخم، سینے کے انفیکشن، پیشاب کی نالی کے انفیکشن، خون کے لوتھڑے، ذیابیطس کا بگڑ جانا، بلڈ پریشر کا قابو سے باہر ہونا، ڈپریشن اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی۔ بہت سے بزرگ دوبارہ گرنے سے پہلے والی خودمختاری حاصل نہیں کر پاتے۔ کچھ دوبارہ کبھی نہیں چل پاتے۔ چند کے لئے یہ گرنا نسبتاً مستحکم حالت سے ناقابلِ واپسی زوال کا موڑ بن جاتا ہے۔ اور بہت سے لوگ پیچیدگیوں اور خون کےجم جانے کے باعث جان بھی گنوا دیتے ہیں۔
بزرگ آسانی سے کیوں گر جاتے ہیں؟
اس کی وجوہات شاذ و نادر ہی ایک ہوتی ہیں۔ عمر کے ساتھ پٹھے کمزور اور ہڈیاں بھربھری ہو جاتی ہیں۔ کان کے اندر موجود توازن کے نظام متاثر ہو جاتے ہیں۔ نظر کے مسائل جیسے موتیا، گلوکوما اور میکیولر ڈی جنریشن گہرائی کے اندازے کو بگاڑ دیتے ہیں۔ ذیابیطس جیسی دائمی بیماریاں اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہیں جس سے پاؤں میں سن پن آ جاتی ہے۔ پارکنسنز بیماری حرکت کو سست کر دیتی ہے۔ گٹھیا جوڑوں کی حرکت محدود کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ نیند کی گولیاں، اینٹی اینگزائٹی ادویات اور بلڈ پریشر کی دوائیں چکر یا بلڈ پریشر میں اچانک کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔
سردی ایک اور خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ سرد موسم میں پیاس کم لگتی ہے، اس لئے پانی کی کمی عام ہو جاتی ہے۔ پانی کی کمی بلڈ پریشر کم کرتی ہے اور چکر آتے ہیں۔ لوگ رات کو نیم غنودگی میںٹھنڈے کمرے اور اندھیرے فرش پر ٹوائلٹ جاتے ہیں۔ ایک غلط قدم کافی ہوتا ہے۔
بچاؤ (Prevention)
بچاؤ کےلئے کسی پیچیدہ ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں۔ اس کےلئے شعور، پیش بندی اور بروقت چھوٹی تبدیلیاں درکار ہیں۔پہلا قدم خطرے کو پہچاننا ہے۔ جو بزرگ ایک بار گر چکا ہو، اس کے دوبارہ گرنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ عدم توازن، چکر، ٹانگوں کی کمزوری، کمزور نظر یا گرنے کا خوف۔ان سب کو ’’عام بڑھاپا‘‘ کہہ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ انتباہی نشانیاں ہیں۔
گھروں کو بزرگ دوست بنانا ضروری ہے، خاص طور پر سردیوں میں۔ مناسب روشنی، بالخصوص رات کے وقت نہایت اہم ہے۔ ڈھیلے قالین ہٹا دئے جائیں۔ باتھ روم کے فرش خشک رکھے جائیں، اینٹی سکیڈ میٹس اور پکڑنے کے لئے گرِیب بارز لگائے جائیں۔ جوتوں میں مضبوط گرفت ہو، ڈھیلی چپلوں سے پرہیز کیا جائے۔ روزمرہ استعمال کی چیزیں آسانی سے ہاتھ کی پہنچ میں ہوں تاکہ چڑھنے یا زیادہ کھنچاؤ سے بچا جا سکے۔
صحت کی بہتری اہم ہے۔ نظر اور سماعت کے باقاعدہ معائنے جگہ کے ادراک کو بہتر بناتے ہیں۔ ڈاکٹر کے ساتھ ادویات کا جائزہ لینے سے غیر ضروری دوائیں کم کی جا سکتی ہیں جو گرنے کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔ بلڈ پریشر، شوگر اور خون کی کمی (انیمیا) کا مناسب علاج طاقت اور توازن بہتر کرتا ہے۔ بزرگوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی کمی عام ہے۔ ہڈیوں کی صحت کےلئے اس کی اصلاح ضروری ہے۔
حرکت، بظاہر متضاد ہونے کے باوجود، حفاظتی کردار ادا کرتی ہے۔ گرنے کے خوف سے بزرگ سرگرمیاں کم کر دیتے ہیں، جس سے پٹھے مزید کمزور اور توازن مزید خراب ہو جاتا ہے۔ نگرانی میں کی جانے والی سادہ ورزشیں،ٹانگوں کی طاقت اور توازن پر توجہ دینے والی چہل قدمی، کرسی پر بیٹھ کر ورزش، ہلکی سٹریچنگ گرنے کے خطرے کو نمایاں طور پر کم کرتی ہیں۔ روزانہ 10سے 20منٹ بھی فرق ڈال سکتے ہیں۔
سردیوں کے لئے مخصوص احتیاطیں نہایت ضروری ہیں۔ پٹھوں کی اکڑن سے بچنے کے لئے گرم کپڑوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ پیاس کم لگنے کے باوجود مناسب پانی پینے کو یقینی بنائیں۔ رات کے وقت ٹوائلٹ تک جانے کا راستہ صاف اور روشن ہو۔ ضرورت پڑنے پر بستر کے پاس چھڑی یا کموڈ رکھنا کمزوری کی علامت نہیں،یہ حفاظت کا ذریعہ ہے۔
شاید سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا پہلو گفتگو ہے۔ بزرگ اکثر گرنے کے واقعات چھپا لیتے ہیں،کمزور کہلانے کے خوف سے، خودمختاری کھو دینے کے ڈر سے، بوجھ بن جانے کے خدشے سے۔ اگر گھر میں کوئی بزرگ اچانک حرکت کے قابل نہ رہے یا کولہے میں درد ہو تو اہل ِ خانہ نرمی سے، بار بار پوچھیں}}کیا کہیں پھسلنے، چکر آنے یا گرنے کا کوئی واقعہ تو پیش نہیں آیا؟‘‘
سننا اگلے فریکچر کو روک سکتا ہے۔ گرنا مقدر نہیں ہوتا۔ یہ اکثر اُس جسم کا آخری پیغام ہوتا ہے جو مہینوں سے اشارے دے رہا ہوتاہے اور ہم نے اُنہیں نظر انداز کر دیا ہوتا ہے۔