اِکز اقبال
رمضان المبارک آتے ہی فضا میں ایک عجیب سی نرمی گھل جاتی ہے۔ مساجد کی رونق بڑھ جاتی ہے، اذانوں کی آواز میں ایک اضافی تاثیر محسوس ہوتی ہے، اور گھروں میں سحر و افطار کی تیاری کے ساتھ ایک روحانی ترتیب جنم لیتی ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنے نفس کو قابو میں رکھ کر اپنے رب کے قریب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔ صبر، شکر، ایثار، خیرات، ہمدردی—یہ سب الفاظ محض لغت کا حصہ نہیں رہتے بلکہ زندگی کا عملی عنوان بننے لگتے ہیں۔
لیکن اسی فضا کے بیچ ایک اور منظر بھی آہستہ آہستہ سر اٹھاتا ہے۔ بازاروں کی گہماگہمی بڑھتی ہے، مگر اس کے ساتھ قیمتوں کی پرواز بھی شروع ہو جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے رمضان کا چاند صرف عبادت کی خبر نہیں لاتا بلکہ نرخ ناموں کے لیے بھی ایک اشارہ ہوتا ہے کہ اب اوپر کی سمت سفر شروع کیا جائے۔
یہ برکتوں کی بہار ہے یا مہنگائی کی مار؟
رمضان کا فلسفہ ہمیں سکھاتا ہے کہ بھوک کو محسوس کرو تاکہ بھوکے کا درد سمجھ سکو۔ پیاس کو برداشت کرو تاکہ پیاسے کی تڑپ جان سکو۔ مگر جب افطار کی میز تک پہنچنے کے لیے ہی انسان کو مہنگائی کی دیواریں عبور کرنی پڑیں تو یہ احساسِ ہمدردی کہاں باقی رہتا ہے؟ جب آٹا، چاول، دال، گوشت، سبزی، پھل—سب کی قیمتیں ایک دم سے بڑھ جائیں تو عبادت کی یکسوئی بھی متاثر ہوتی ہے۔
میں نے خود بازار میں وہ مناظر دیکھے ہیں جہاں ایک مزدور اپنی جیب ٹٹول کر سبزی والے سے قیمت کم کرنے کی التجا کر رہا ہوتا ہے، اور جواب میں اسے صرف ایک بے بسی بھری مسکراہٹ ملتی ہے—”بھائی، ہمیں بھی مہنگا پڑ رہا ہے۔”
یہ جملہ شاید سچ بھی ہو، مگر سوال یہ ہے کہ آخر یہ زنجیر کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اور کہاں ٹوٹتی ہے؟
رمضان کو ہم نے ایک عجیب تضاد میں بدل دیا ہے۔ ایک طرف تراویح میں لمبے قیام، آنکھوں میں آنسو، زبان پر دعائیں؛ اور دوسری طرف تول میں کمی، دام میں زیادتی اور ذخیرہ اندوزی۔ عبادت اور تجارت دونوں اپنی جگہ درست ہیں، مگر جب تجارت عبادت کے مہینے میں انصاف سے خالی ہو جائے تو پھر سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم صرف رسم ادا کر رہے ہیں؟
اسلامی تعلیمات تجارت کو عبادت کا درجہ دیتی ہیں—مگر شرط دیانت ہے۔ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ یہ معمولی مقام نہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ تجارت محض لین دین نہیں بلکہ اخلاق کا امتحان ہے۔ اور رمضان اس امتحان کا سب سے اہم پرچہ ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں جیسے ہی رمضان قریب آتا ہے، کچھ عناصر مصنوعی قلت پیدا کرنے لگتے ہیں۔ گودام بھر دیے جاتے ہیں، سپلائی روک لی جاتی ہے، اور پھر قیمتیں بڑھا کر مارکیٹ میں سامان اتارا جاتا ہے۔ اسے کاروباری حکمت عملی کہا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک سماجی جرم ہے۔ اس جرم کا شکار وہ سفید پوش طبقہ بنتا ہے جو نہ مانگ سکتا ہے، نہ لڑ سکتا ہے، نہ احتجاج کر سکتا ہے۔
ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ ہم صارفین بھی کبھی کبھی اس صورتحال کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ جیسے ہی رمضان کا اعلان ہوتا ہے، ہم ضرورت سے زیادہ خریداری شروع کر دیتے ہیں۔ گھروں میں ذخیرہ اندوزی کی ایک خاموش دوڑ لگ جاتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طلب بڑھتی ہے اور رسد کم پڑ جاتی ہے۔ مارکیٹ کا توازن بگڑتا ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
کیا واقعی ہمیں اتنا سب کچھ درکار ہوتا ہے؟
یا ہم نے افطار کو بھی ایک مقابلہ بنا دیا ہے—کہ کس کے دسترخوان پر زیادہ تنوع ہے؟
رمضان سادگی کا پیغام دیتا ہے، مگر ہم نے اسے نمود و نمائش کی دوڑ میں بدل دیا ہے۔ افطار کی میزیں لمبی ہوتی جا رہی ہیں، مگر دل چھوٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ پکوانوں کی اقسام بڑھ رہی ہیں، مگر برداشت کم ہو رہی ہے۔ اور اسی ماحول میں مہنگائی کو بھی جواز مل جاتا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرے، مصنوعی قلت کا سدباب کرے، اور ناجائز منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ انتظامیہ اگر فعال ہو، مارکیٹ چیکنگ باقاعدہ ہو، اور ذخیرہ اندوزوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تو صورتحال کافی حد تک بہتر ہو سکتی ہے۔ مگر صرف سرکاری اقدامات کافی نہیں ہوتے جب تک سماجی شعور بیدار نہ ہو۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ رمضان صرف عبادات کا مہینہ نہیں، بلکہ معاشرتی اصلاح کا بھی مہینہ ہے۔ اگر اس مہینے میں بھی ہم اپنی نیتوں کو درست نہ کر سکے تو پھر کب کریں گے؟ اگر روزہ ہمیں خود غرضی سے نہیں روک سکتا تو پھر کون سی عبادت روکے گی؟
میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر ہر دکاندار یہ نیت کر لے کہ اس رمضان وہ کم منافع پر زیادہ برکت کمائے گا، تو منظر بدل سکتا ہے۔ اگر ہر تاجر یہ فیصلہ کر لے کہ وہ کسی غریب کو خالی ہاتھ واپس نہیں جانے دے گا، تو کئی گھروں میں چراغ جل سکتے ہیں۔ برکت ہمیشہ حساب سے نہیں آتی، نیت سے آتی ہے۔
اور یہ بھی سچ ہے کہ معاشرے میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خاموشی سے خیر بانٹتے ہیں، قیمتیں کم رکھتے ہیں، اور کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح نہیں ہونے دیتے۔ یہی لوگ دراصل رمضان کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ ہمیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، ان کا ذکر کرنا چاہیے، تاکہ مثبت مثالیں سامنے آئیں۔
رمضان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل دولت دل کی وسعت ہے۔ اگر جیب بھری ہو مگر دل خالی ہو تو وہ خوشحالی نہیں، محض فریب ہے۔ اور اگر جیب محدود ہو مگر نیت وسیع ہو تو وہی حقیقی برکت ہے۔
آج جب دنیا معاشی دباؤ، بے یقینی اور مہنگائی کی عالمی لہر سے گزر رہی ہے، تو ایسے میں ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے، نہ کہ ایک دوسرے پر بوجھ۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ صرف بھوک برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے رویوں کو بھی قابو میں رکھنے کا نام ہے—لالچ کو، خود غرضی کو، اور بے حسی کو۔
اگر ہم نے رمضان کو صرف ایک موسمی سرگرمی بنا دیا—چند دعائیں، چند پکوان، چند خریداریوں تک محدود کر دیا—تو ہم اس کی روح سے محروم رہ جائیں گے۔ مگر اگر ہم نے اسے اپنے کردار کی اصلاح کا ذریعہ بنا لیا، تو واقعی یہ برکتوں کی بہار بن سکتا ہے۔
رمضان کا چاند ہر سال آتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر سال بدلتے بھی ہیں؟ اگر ہماری مارکیٹیں وہی رہیں، ہمارے رویے وہی رہیں،اور ہماری ترجیحات وہی رہیں، تو پھر رمضان صرف کیلنڈر کی تبدیلی ہے، کردار کی نہیں۔
آئیے اس بار فیصلہ کریں کہ رمضان کو مہنگائی کی مار نہیں، برکتوں کی بہار بنائیں گے۔ کم کمائیں گے مگر صاف کمائیں گے۔ کم خریدیں گے مگر ضرورت کے مطابق خریدیں گے۔ اور سب سے بڑھ کر—کسی کی مجبوری کو اپنا فائدہ نہیں بنائیں گے۔
کیونکہ جب نیت درست ہو جائے تو بازار بھی عبادت گاہ بن سکتا ہے۔ اور جب دل وسیع ہو جائے تو دسترخوان خود بخود بابرکت ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی اصل روح سمجھنے، اس پر عمل کرنے، اور اپنے معاشرے کو انصاف، دیانت اورہمدردی کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ۔ 7006857283
[email protected]