سجاد آہنگر
محمد وسیم پچھلے چھ سال سے گلمرگ میں ایک سکی انسٹرکٹر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، “گریجویشن کے بعد میرے سامنے نہ صرف یہ پریشانی تھی کہ میں اپنی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکتا تھا بلکہ مجھے بہت کم وقت کے اندر کوئی کام بھی ڈھونڈنا تھا تاکہ میرا گھر چل سکے۔ سرکاری نوکری شاید مل بھی جاتی، تاہم اس کے لئے مہینوں پڑھائی، پھر انتظار اور پھر امتحانات میں دھاندلی کا رونا دھونا تھا، جس کے لئے میرے پاس بالکل بھی وقت نہیں تھا۔ اسی کشمکش میں میرے ایک دوست نے مجھے گلمرگ کی راہ دکھائی اور تب سے میرا پیشہ اسی جگہ سے جڑا ہے۔”
شمالی کشمیر میں واقع یہ سیاحتی مقام نہ صرف ملک بھر میں سیاحوں کی پہلی پسند ہے بلکہ دنیا بھر سے لوگوں کی ایک بھاری تعداد ہر سال یہاں کا رخ کرتی ہے۔ سیاحوں کا یہ رش بالخصوص برف کی وجہ سے موسمِ سرما میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جموں و کشمیر سرکار کی ایک حالیہ اکنامک سروے کے مطابق اس خطے کے جی ڈی پی(GDP) کا لگ بھگ 8 فیصد حصہ براہِ راست سیاحت پر منحصر ہے۔ تاہم ٹنگمرگ کے لوگوں کے لیے یہ صورت حال بہت مختلف ہے۔ یہاں کی آبادی کا ایک چوتھائی حصہ سال بھر سیاحت سے جڑے روزگار پر ہی منحصر ہے، اور سردیوں کے مہینوں میں پچاس سے ساٹھ فیصد مزدوری کرنے والے لوگ یہی پر باہر سے آنے والوں کے لیے مختلف خدمات انجام دیتے ہوئے اپنا روزگار کما لیتے ہیں۔
ریاض احمد تین بچوں کے والد ہیں اور پیشے سے ایک کارپینٹر ہیں۔ ان کا کہنا ہے، “نومبر کے مہینے سے جب کشمیر میں کنسٹرکشن کا کام ٹھپ ہو جاتا ہے تو میں ٹنگمرگ بازار میں جاکر سیاحوں کے لیے گرم دستانے، ٹوپیاں اور مفلر بیچتا ہوں اور یوں ان مہینوں میں میرا گزارا ہو جاتا ہے۔”
سیاحت سے جڑے روزگار کے یہ مواقع محض چند گنے چنے کاموں تک ہی محدود نہیں ہیں۔ جموں و کشمیر اکنامک سروے 2023ء کے مطابق، صرف ضلع بارہ مولہ میں نوجوانوں کے ذریعے ٹورازم سے منسلک اسٹارٹ اپس کی تعداد میں 28 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جن کی ایک بڑی تعداد گلمرگ سے ہی جڑی ہے۔
ہوٹل انڈسٹری: معیشت کا ستون
ٹنگمرگ میں سیاحت سے جڑی اس معیشت کا ایک بڑا حصہ یہاں موجود درجنوں ہوٹلوں، گیسٹ ہاؤسز اور ٹورازم ہٹس سے بھی آتا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹورازم گلمرگ سے حاصل کی گئی اطلاعات کے مطابق، صرف گلمرگ میں اس وقت چھیالیس ہوٹل موجود ہیں، جن میں 17 کیٹیگری اے، 21 کیٹیگری بی اور 8 کیٹیگری سی میں رکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (JKTDC) کے زیر انتظام چلنے والی 22 ٹورازم ہٹس اور 16 گیسٹ ہاؤسز بھی موجود ہیں۔ ان جگہوں پر سینکڑوں لوگ سال بھر اپنا روزگار کما رہے ہیں، جن کی اکثریت ٹنگمرگ علاقے سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ اس سب کے باوجود، پیک سیزن میں یہ جگہیں سیاحوں کے لیے بہت کم پڑ جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایم ایل اے گلمرگ پیرزادہ فاروق احمد شاہ کا کہنا تھا کہ، “ہم ٹنگمرگ ٹاؤن کے مضافات میں سیاحوں کے لئے مزید ٹھہرنے کی جگہیں بڑھا رہے ہیں۔” پچھلے کچھ برسوں سے ٹنگمرگ کے لوگ خود بھی سیاحوں کے لیے مضافاتی علاقوں میں یہ سہولیات تعمیر کر رہے ہیں۔
ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل (WTTC) کی ایک تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ٹورازم سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑی مفید ثابت ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ٹورازم سیکٹر میں دس لاکھ روپے کی سرمایہ کاری لگ بھگ 90 لوگوں کو روزگار فراہم کر سکتی ہے، جبکہ یہ تعداد زراعت اور مینوفیکچرنگ سروسز میں ادھے سے بھی کم ہے۔
ٹرانسپورٹ انڈسٹری سے جڑا روزگار
اگرچہ اس شعبے پر رفتہ رفتہ جموں و کشمیر کے باقی علاقوں کے لوگ بھی اب قبضہ جما رہے ہیں، تاہم اب بھی گلمرگ میں چلنے والی بیشتر گاڑیوں اور ٹریول ایجنسیز کے مالکان یہی کے ہیں۔ گلمرگ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ طارق حسین نائک کہتے ہیں کہ “گلمرگ میں ہر سال 16 لاکھ کے قریب سیاح آتے ہیں، یہ تعداد پیک کے دنوں میں ہر دن پندرہ ہزار تک چلی جاتی ہے”۔ ان سیاحوں کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کا کام بھی یہاں کے مقامی لوگ ہی کرتے ہیں اور ان کا روزگار اسی کام پر منحصر ہے۔
گلمرگ کیبل کار کارپوریشن اور ریاض احمد کی انوکھی کہانی
‘گلمرگ گنڈولاکے نام سے مشہور یہ کیبل کار سہولت دنیا کی سب سے اونچی اور سب سے لمبی کیبل کار ہے، جس کی اونچائی 13,780 فٹ ہے۔ فرانسیسی کمپنی پوماگالسکی (Pomagalski) اور جموں و کشمیر سرکار کے زیر انتظام چلنے والی یہ کیبل کار بھی سینکڑوں لوگوں کے روزگار کی اہم جگہ ہے۔ اس کیبل کار میں ہر دن 9000 لوگ سفر کر سکتے ہیں، جس کی وجہ سے درجنوں ٹنگمرگ کے رہائشی اپنا روزگار کما رہے ہیں۔ کیبل کار کارپوریشن ہر سال کئی سو لوگوں کو مختلف کاموں کے لیے کنٹریکٹ پر بھی لیتی ہے۔ انہی لوگوں میں پینتالیس سالہ ریاض احمد بھی ہیں، جو جسمانی طور پر ایک ہاتھ سے معذور ہیں، تاہم کیبل کار کارپوریشن ان کی زندگی کا سہارا بنی ہوئی ہے۔ ریاض کہتے ہیں، “شادی سے پہلے مجھے ہر مہینے کمانے کی ضرورت نہیں تھی، میں تھوڑا سا کام کرتا تھا اور میرا خاندان بھی مجھے ساری چیزیں مہیا کرتا تھا۔ تاہم شادی کے بعد میرے خرچے بڑھتے گئے اور میرے لیے عام لوگوں کے ساتھ مزدوری کرنا لگ بھگ ناممکن تھا۔ کسی جاننے والے نے مجھے گلمرگ گنڈولا میں کام دلایا اور تب سے میں یہی پر ہوں۔ میں ان کیبل کاروں کے شیشے صاف کرتا ہوں، جو میں ایک ہاتھ سے آسانی سے کر لیتا ہوں، اور اس کام سے مجھے اتنے پیسے ضرور ملتے ہیں جن سے میرا گھر چل سکے۔”
گِگ کلچر کی طرف نیا رجحان
پچھلے کئی سالوں سے گلمرگ میں ٹنگمرگ کے درجنوں نوجوان آئی فون(iphone) ڈی ایس ایل آر(DSLR) کیمرے اور لیپ ٹاپ(laptop) لے کے نظر آتے ہیں۔ یہ نوجوان ریئل (ویڈیو) بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ہم نے کئی غیر ملکی اور ہندوستان بھر سے آئے ہوئے سیاحوں سے اس بارے میں بات کی۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والی نیہا تین بار گلمرگ آئی ہیں۔ انہوں نے بتایا، “جب میں پہلی بار یہاں آئی تھی تو میرے ساتھ مجھے بہت اچھی تصویر کھینچنے والا کوئی نہیں تھا۔ میں نے کئی لوگوں سے اپنی تصویریں کھنچوائیں، تاہم میں مطمئن نہیں ہوئی تھی۔ جب میں دوسری مرتبہ یہاں آئی، تو میں نے کچھ لوگوں کو سیاحوں کی تصویریں اور ویڈیوز بناتے دیکھا۔ دریافت کرنے پر مجھے پتہ چلا کہ یہ ایک پوری ٹیم کی صورت میں کام کرتے ہیں اور سارے بڑے تجربہ کار ہوتے ہیں۔ ان کے پاس مہنگے کیمرے موجود ہیں، یہ روشنی کا بہترین استعمال کرنا جانتے ہیں اور سیاحوں کو اچھا پوز لینے میں مدد بھی کرتے ہیں۔ اس سے دونوں کام ہو جاتے ہیں: یہ لوگ روزگار بھی کما لیتے ہیں اور سیاحوں کو بھی اپنی یادیں اچھی طرح محفوظ کرنے میں مدد ملتی ہے۔”
خاتمہ
کل ملا کر، ٹنگمرگ کی کل معیشت میں ٹورازم کا ایک بڑا اور ناگزیر کردار ہے۔ سیاحوں کی آمد کی وجہ سے اس علاقے کے لوگوں کو وادی کے اکثر علاقوں کی طرح سردیوں کے مہینوں میں گھر نہیں بیٹھنا پڑتا، بلکہ کام کی صرف نوعیت بدل جاتی ہے۔ یہاں کی معیشت کا پہیہ سیاح کی ہر سانس، ہر قدم اور ہر تصویر کے ساتھ گردش کرتا ہے۔ محمد وسیم، ریاض احمد اور ان جیسے ہزاروں افراد کی کہانیاں محض روزگار کے اعداد و شمار نہیں، بلکہ انسانی عزم اور مقامی وسائل کے درمیان ایک حسین ہم آہنگی کی داستان ہیں۔ گلمرگ کی برفانی چوٹیاں اور سرسبز وادیاں نہ صرف سیاحوں کے لیے فطری حُسن کا مرقع ہیں، بلکہ ٹنگمرگ کے باسیوں کے لیے زندگی کی حرارت اور استحکام کا سرچشمہ بھی ہیں۔ یہ رشتہ ایک ایسی معاشی اکائی کو جنم دیتا ہے جو رسمی اعدادوشمار سے کہیں زیادہ گہری، انسانی اور پائیدار ہے، جہاں فطرت کی دی ہوئی نعمت، انسانی ہنر اور خواہشِ زیست کے امتزاج سے ایک ایسی زندہ تہذیب پھلتی پھولتی ہے جو موسمی تبدیلیوں کو اپنے حق میں موڑنا جانتی ہے۔
فیچر نگار کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے طالب علم ہیں اور فی الوقت کشمیر عظمیٰ میں انٹرن شپ کررہے ہیں۔