شفیع نقیب
بیمار ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ جسمانی عوارض انسان کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو پیچیدہ بیماریوں سے محفوظ رکھے، کیونکہ وہی جانتا ہے جس پر یہ آزمائش آتی ہے۔ جسے روز دوائی کے لئے رقم درکار ہو، جسے ڈاکٹر کی فیس ادا کرنے سے پہلے دس بار سوچنا پڑے، جس کے سامنے مہنگے ٹیسٹوں کی فہرست ہو اور جیب خالی ہو۔ وہی جانتا ہے کہ بیماری صرف جسم کو نہیں، غیرت کو بھی زخمی کرتی ہے۔آج سوشل میڈیا پر روزانہ ایسی اپیلیں گردش کرتی ہیں جنہیں پڑھ کر دل کانپ اٹھتا ہے۔ ایک بیوہ ماں اپنے اکلوتے بیٹے کے کڈنی ٹرانسپلانٹ کے لئے دامن پھیلا رہی ہے۔ کوئی باپ اوپن ہارٹ سرجری کے لئے رقم مانگ رہا ہے۔ کوئی نوجوان ڈائلیسس کے اخراجات سے نڈھال ہو چکا ہے۔ کینسر کے مریض کی کیموتھراپی،مہنگی دوائی، جگر یا گردے کی پیوندکاری، مہنگے آپریشن، لیبارٹری ٹیسٹ، بیرونِ ریاست علاج ، یہ سب ایسے الفاظ ہیں جو اب ہمارے معاشرے میں عام ہو چکے ہیں، مگر ان کے پیچھے جو اذیت چھپی ہے وہ ناقابلِ بیان ہے۔اکثر یہ لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے دیتے ہیں۔ کوئی بیٹی باپ کے علاج کے لئے آنسو بہاتی ہے، کوئی ماں اپنے بچے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھاتی ہے۔ آتش زدگی کے متاثرین ہوں یا غریب بیٹیوں کی شادی کا مسئلہ ، ہر طرف فریاد ہے، ہر طرف دستِ سوال دراز ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اتنا بے حس ہو چکا ہے کہ ہم ان آنسوؤں کو معمول سمجھنے لگے ہیں؟
وادی کشمیر سے روزانہ مریض جموں اوردہلی سمیت دیگر ریاستوںکا رخ کرتے ہیں۔یہاں سے مریض جموں کے کٹرہ کا رُخ کرتے ہیں، جہاں ویشنو دیوی شرائن بورڈکے زیر انتظام ایک باقاعدہ اسپتال نارائنا کٹرہ میں قائم ہے۔ وہاں نذرانوں اور چندوں سے ایک ایسا طبی نظام کھڑا کیا گیا ہے جس سے ہزاروں لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک منظم اجتماعی شعور کا نتیجہ ہے۔اسی طرح سکھ کیمونٹی نے دہلی ،پنجاب اور ممبئی میں ڈائلسس مراکز اور مفت ایکسرے پلانٹ قائم کئے ہیں اور ہر مذہب کے لوگ مفت اور سستے علاج سے مستفید ہورہے ہیں ۔ہماری زیارت گاہوں میں بھی سالانہ کروڑوں روپے نذر و نیاز کی صورت میں جمع ہوتے ہیں۔وادی مذہبی اداروں کے پاس وسائل کی کمی نہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کوئی کام نہیں ہو رہا، لیکن کیا یہ کافی ہے؟ کیا ان وسائل سے ایک مربوط، بااعتماد اور جدید طبی امدادی نظام قائم نہیں کیا جا سکتا؟ کیا کم از کم ایک بڑا خیراتی اسپتال یا ضلعی سطح کے ڈائلیسس مراکز قائم نہیں کئے جا سکتے؟
وادی کے مقتدر مذہبی و سماجی قائدین سے مؤدبانہ مگر دوٹوک گزارش ہے کہ اس سمت میں پہل کیجئے۔ آپ حضرات کو بہر صورت اس سلسلے میں پہل کرنی ہوگی۔ قوم کی نظریں آپ پر لگی ہوئی ہیں۔ آپ کے خطبات میں سماجی اصلاح، اخوت اور ہمدردی کا ذکر بارہا ہوتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ یہ الفاظ ایک منظم عملی منصوبے کی صورت اختیار کریں۔ اگر ہندو برادری نذرانوں سے اسپتال قائم کر سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟ اگر دیگر اقوام منظم فلاحی نظام بنا سکتی ہیں تو ہم کیوں دستِ سوال پھیلائے رہیں؟ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ایسا سماج تشکیل دیا جائے جس میں کوئی بھائی یا بہن علاج کے لئے بھیک نہ مانگے۔ اگر ہم واقعی’’ہم سب بھائی بھائی ہیں‘‘ کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر یہ دعویٰ عملی صورت بھی اختیار کرے۔ کیا ہم اپنے ہی جیسے کسی انسان کے آنسو نہیں پونچھ سکتے؟ کیا ہماری غیرت اس بات کو گوارا کرتی ہے کہ ایک بیوہ ماں سوشل میڈیا پر فریاد کرے اور ہم محض شیئر اور لائک تک محدود رہیں؟
میں ایک منظم نظام کا خاکہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ابتدا بلاک سطح سے کی جا سکتی ہے۔ ہر بلاک میں ایک’’مرکزی امدادی کمیٹی‘‘ قائم ہو، جس کے ساتھ مساجد اور مقامی تنظیموں کے اکاؤنٹس منسلک ہوں۔ وہاں جمع ہونے والی رقوم شفاف طریقے سے درج ہوں۔ اس کے بعد یہی نظام تحصیل سطح پر مربوط کیا جائے، جہاں ایک مرکزی اکاؤنٹ کے تحت بلاک کمیٹیوں کی نگرانی ہو۔ بعد ازاں ضلع سطح پر ایک جامع بورڈ تشکیل دیا جائے جو مالیاتی نگرانی، آڈٹ اور شفافیت کو یقینی بنائے۔یہ مساجدکمیٹیاں اکائی کے طور پر کام کریں۔ بااثر علما اور سماجی شخصیات ڈونیشن جمع کرنے کی نگرانی کریں۔ ہر تین ماہ بعد عوام کے سامنے حساب پیش کیا جائے تاکہ اعتماد بحال ہو۔ ایک جدید آن لائن سسٹم بھی متعارف کیا جا سکتا ہے جس میں مستحقین کی تصدیق، علاج کی نوعیت اور اخراجات کی تفصیل واضح ہو۔
اسلام نے زکوٰۃ اور صدقات کو انفرادی خیرات نہیں بلکہ اجتماعی نظام کے طور پر پیش کیا تھا۔ جب زکوٰۃ منظم طریقے سے جمع اور تقسیم کی جاتی ہے تو غربت کم ہوتی ہے اور معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں صاحبِ حیثیت افراد کی کمی نہیں۔ تاجر، زمیندار، ملازمین، پنشنرز ، اگر اپنی آمدنی کا معمولی حصہ بھی باقاعدگی سے مختص کریں تو کسی کو ڈائلیسس کے لئے دربدر نہ ہونا پڑے۔میں نے ذاتی طور پر ایک یتیم خانے کا مشاہدہ کیا ہے جہاں الزام تراشیوں کے باوجود ذمہ داران خاموشی سے بچوں کی کفالت کر رہے تھے۔ وہاں صفائی، تعلیم، خوراک اور تربیت کا باقاعدہ انتظام تھا۔ اس تجربے نے مجھے یہ سکھایا کہ تنقید آسان ہے، نظام بنانا ذراصبرآزمائ مگر ناممکن نہیں۔
دنیا کے ہر معاشرے کی بقا ہمدردی اور باہمی تعاون پر قائم ہے۔ اگر ہم نے جان بوجھ کر ان بے کسوں سے آنکھیں چرا لیں تو ہمارا اخوت کا دعویٰ کھوکھلا ہو جائے گا۔ بیمار ہونا جرم نہیں، مگر علاج کے لئے بھیک مانگنا ہمارے اجتماعی نظام کی ناکامی ہے۔وقت آگیا ہے کہ ہم آگے بڑھیں۔ اوقاف، مذہبی تنظیمیں، سماجی ادارے اور صاحبِ ثروت افراد ایک میز پر بیٹھیں اور ایک مستقل’’ہیلتھ ریلیف فنڈ‘‘ قائم کریں۔ اگر نیت صاف ہو اور نظام شفاف ہو تو چند سالوں میں وادی کشمیر میں ایک ایسا ماڈل قائم ہو سکتا ہے جو پورے ملک کے لئے مثال بن جائے۔
شاید اس بات کو دہرانے کی ضروت نہیںکہ بیمار انسان کی آہ عرش تک جاتی ہے۔ اگر ہم نے اس آہ کو نہ سنا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہمیں اپنی ذات سے نکل کر اجتماعی شعور کو بیدار کرنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے کوئی ماں اپنے بچے کے علاج کے لئے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور نہیں ہوگی۔قوم انتظار میں ہے۔ فیصلہ ہمارے مقتدر حضرات کے ہاتھ میں ہے۔
رابطہ9622555263
[email protected]