راجوری //باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے اسکول آف مینجمنٹ نے ریاستی سطح کا ایک مقابلہ جاتی پروگرام منعقد کروایا جس میں کشمیر یونیورسٹی،سینٹرل یونیورسٹی کشمیر،جموں یونیورسٹی،سینٹرل یونیورسٹی جموں اور کھٹوعہ کیمپس کے طلبہ وطالبات نے شرکت کی۔پروگرام کا بنیادی مقصد نئی تعلیم یافتہ نسل کو بزنس اور کاروباری اصول سے واقف کرانا اور انہیں عملی طور پر خود کفیل بنانا تھا۔اس اہم معلوماتی اور کاروباری پروگرام کی صدارت پروفیسر جاوید مسرت وائس چانسلر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری نے کی۔ان کے علاوہ پروفیسر اقبال پرویز رجسٹرار اور ڈاکٹر نسیم احمد ڈین اسکول آف مینجمنٹ اسڈیڈیز باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی بھی ایوان صدارت میں موجود تھے۔پروفیسر جاوید مسرت نے اپنے صدارتی خطبے میں اسکول آف مینجمنٹ کے ڈین ڈاکٹر نسیم احمد اور ان کے ساتھ کام کررہے تدریسی عملے کو مبارک بادپیش کرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے وقت اور حالات کی ایک اہم ضرورت کے پیش نظر بہتر کاروباری پروگرام منعقد کروایا۔وائس چانسلر نے یہ امید ظاہر کی کہ بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات میں کام کرنے والے اساتذہ اور دوسرے ملازمین نہایت ایمانداری اور خوش اسلوبی کے ساتھ کام کررہے ہیں اور آنے والے وقت میں یہ یونیورسٹی ہندوستان کی اہم یونیوسٹیوں میں شمار ہوگی۔رجسٹرار پرویزاقبال نے بزنس کو بہترین ذریعہ معاش قرار دیا اورکہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ترقی کی راہ پہ گامزن ہونے کے لئے نئے علوم وفنون میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ڈاکٹر نسیم احمد نے تمام حاضرین کواس پروگرام کا حصہ بننے اور اس میں شریک ہونے کے لئے خوش آمدید کہا اور پروگرام کے اغراض ومقاصد سے روشناس کرایا۔اس پروگرام میں جن اہم علمی ادبی اور انتظامیہ شخصیات نے شرکت کی ان میں محمد اسحاق کنٹرولر امتحانات،پروفیسر جی ایم ملک ڈین اسکول آف لینگویجز، خورشید احمد قریشی مشیر معاشی امور، غوث محمد ڈائریکٹر ٹورزم اینڈ ہاسپیٹلٹی،مختلف شعبہ جات کے صدور کے علاوہ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات قابل ذکر ہیں۔اس دوران طرح طرح کے اسٹال لگا کر بزنس کرنے کی عملی مشق بھی کروائی گئی۔ثقافتی پروگرام بھی اس سپارک2017کا ایک حصہ رہا۔ڈاکٹر مشتاق احمد وانی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری بھی اس پروگرام میں موجود تھے۔