رواں مہینے (جولائی ۲۰۲۱ء) کے پہلے ہفتے میں معروف شاعر، قلمکار اور عربی زبان و ادب کے ماہر استاد جناب ڈاکٹر شمس کمال انجمؔ اپنے ایک علم دوست اور استاد جناب قمر الحسن قاسمی کے علاوہ اپنے ایک شاگرد رشید مسمی عمر کے ہمراہ میرے غریب خانہ پر تشریف آور ہوئے۔ ان کی آمد پر راقم السطور کی زبان پر مرزا غالبؔ کا یہ شعر آگیا ؎
وہ آئے گھر ہمارے خدا کی قدرت
کبھی ان کو اور کبھی اپنے گھر کو ہم دیکھتے ہیں
ایک خاص عرصہ سے میری جناب شمس کمال انجم کے ساتھ بذریعہ ٹیلیفون بات چیت ہوتی رہتی تھی ان کے اخباری مضامین اور تبصروں سے میں متاثر ہو کر ان کے ساتھ بات چیت کرنے پر میرا دل آمادہ ہوجاتا تھا۔ اس طرح باہمی طور پر ایک غائبانہ تعارف ہوا تھا۔ موصوف نے مجھے باخبر کیا تھا کہ وہ راجوری سے کبھی کبھار کشمیر بھی آتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ کسی مناسب وقت پر مجھے بھی یہاں سرینگر میں اپنی ملاقات سے مشرف فرمائیں۔ مہینے اور دن گزرتے گئے کہ اخبار میں معروف شاعر جناب پرتپال سنگھ بیتابؔ کی کتاب ’’میرے حصے کی دنیا‘‘ پر مجھے انجم صاحب کا تبصرہ پڑھنے کو ملا۔ تبصرہ پڑھنے کے بعد بذریعہ فون اور ایک بار ان کے ساتھ رابطہ ہوا اور دورانِ گفتگو معلوم ہوا کہ انجمؔ صاحب کشمیر کی طرف آرہے ہیں اور وہ مجھ سے بھی ملنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ میں نے اس مبارک سفر پر خوش آمدید کہا اور ان کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔
الغرض عربی زبان کے ایسے عالم و فاضل اور اردو زبان کے ادیب اور سخنور کی میرے گھر پر تشریف آوری کو اپنے لیے سعادت مندی تصور کرتا ہوں۔ ان کے استقبال کے لیے میں اپنے گھر سے باہر نکلا اور ہم آپس میں بغلگیر ہوگئے۔ جناب قمر الحسن قاسمی کے ساتھ تو میرے برسوں سے شناسائی تھی۔ علیک سلیک اور گفتگو کے بعد ہم آپس میں متعارف ہوگئے۔ پھر علمی اور ادبی باتوں کا ہی سلسلہ چل نکلا۔ صاحب موصوف اور ان کے ہمراہی زیادہ تر میری باتوں کی طرف ہی متوجہ رہے۔ اور میرے مزاج اور زندگی کے کئی طور طریقوں سے آگاہی پاتے رہے۔
جناب شمس کمال انجمؔ صاحب نے میری علمی اور ادبی ذوق کے پیش نظر کچھ کتابیں ساتھ رکھی تھیں اور انہوں نے یہ تصنیفات و تالیفات پورے احترام اور محبتوں کے ساتھ مجھے عنایت کیں۔ کتابوں سے بڑھ کر ناچیز کے لیے اور کیا قابل قدر تحفہ ہوسکتا تھا۔ اگرچہ زمانہ نے کروٹیں لیکر کتابی تحفہ اور تحائف کو پیش کرنا ہم سے دور کیا ہے مگر کتابوں کی اپنی اہمیت اور افادیت ہوتی ہے جو کہ کسی طرح کم نہیں ہوسکتی ہے۔ ہمارے بزرگ اور اسلاف خاص موقعوں پر ایک دوسرے کو کتابیں دیکر علم و ادب کی طرف راغب کرتے تھے۔ مطالعہ کتب کا مزہ کچھ اور ہی ہوتا ہے اور اگرچہ اب یہ کلچر محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اور موجودہ زمانے کے لوگ اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو گما پھرا کر یہ ناتسلی بخش ذوق حاصل کرنے میں لگے رہے ہیں۔ اس موقعہ پر میں انجمؔ صاحب ہی کا ایک شعر درج کرتا ہوں ؎
سمٹ گئے ہیں سبھی علم انگلیوں میں مری
اس آگہی نے تو جاہل بنا دیا ہے مجھے
ایسے ہی دروان نشست راقم الحروف نے ’’کتابیں ہمنشین میری‘‘ عنوان کے تحت اپنی طویل ترین نظم مہمانوں کے گوش گزار کی اور سبھی حضرات میری اس کتابی نظم کو سنتے ہوئے ہمہ تن گوش ہوگئے۔ نظم کے اختتام پر ڈاکٹر انجمؔ نے اس کے بارے میں زریں خیالات اور تاثرات کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ بھی اور دو نظمیں بعنوان مزار مولانا اشرف علی تھانویؒ پر حاضری اور لاہور والی معروف ادیبہ سلمیٰ اعوان کے نام بھی میں نے اس رنگین ادبی محفل میں پیش کیں۔ ایسے ہی یہ سطریں قلمبند کرتے ہوئے مجھے کتاب سے متعلق سیفی سرونجنی کے یہ کچھ اشعار یاد آرہے ہیں۔
لایا ہے رنگ زیست میں پڑھنا کتاب کا
دیکھا عجیب ہم نے کرشمہ کتاب کا
رکھا ہے میرے پاس حفاظت سے آج بھی
اس نے دیا تھا جو کبھی تحفہ کتاب کا
٭٭٭
کیا پوچھتے ہو راز میری شہرتوں کا تم
جو کچھ ملا ہے مجھ کو ہے صدقہ کتاب کا
تنہائیوں کی جنگ میں ہتھیار ہے یہی
تلوار سے بلند ہے درجہ کتاب کا
یہاں یہ لکھنا بھی غالباً مناسب رہے گا کہ پانچ سال قبل یعنی ۲۰۱۶ء میںتیسری بار لاہور گیا تھا اور اس وقت مجھے علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ صلاح الدین کے ساتھ ملاقات نصیب ہوئی تھی۔ مہمان نوازی کے طور پر دیگر لوازمات کے ساتھ موصفہ نے احتراماً مجھے پشمینہ کا ایک دوشالہ پیش کیا تھا اور میری عزت افزائی کی تھی۔ وفورِ شوق میں راقم نے یہ دوشالہ مہمانوں کو دکھایا اور اپنے اس یادگار سفر کی مختصر داستان سنائی۔ علامہ اقبالؒ کے مرقدِ منور پر اپنی حاضری کے بارے میں بتایا۔ اور اس حوالے سے اپنی نوشتہ نظم کے کچھ اشعار سنائے۔ فرزند اقبال جسٹس جاوید اقبال کے ساتھ ان کی حیات میں ملاقات کا کچھ تذکر ہوا۔ حسب مقدور خوردو نوش سے قبل یا اس کے بعد میں نے بھی معزز مہمان کی خدمت میں اپنی کچھ کتابیں پیش کیں۔ اور کتابیں لیتے وقت اور دیتے وقت ہم نے ان مبارک ساعتوں کی تصویریں لیکر عکس بندی کی۔
مہمانِ ذی وقار دراصل اتر پردیش میں پیدا ہوئے ہیں۔ اب دہلی میںسکونت پذیر ہیں۔ سرکاری ملازمت کے سلسلے میں بابا غلام شاہ بادشاہ راجوری یونیورسٹی میں عربی شعبہ کے سربراہ ہیں۔ ان کا خاندان ہی علم و ادب سے وابستہ رہا ہے۔ موصوف کے والد مرحوم ابو حامد انصاری خود بھی صاحب قلم اور شاعر تھے۔ ان کے دیگر برادران اور افراد خانہ بھی اردو زبان و ادب کے سرپرستوں میں شمار ہوتے ہیں۔ غرض این خانہ ہمہ افتاب است۔
اس مختصر سی گھریلو ادبی نشست کے اختتام سے پہلے معزز مہمانان گرامی نے میرے سجے سجائے کتابوں کے کمرے میں آکر اس کا مشاہدہ کیا اگرچہ یہاں میری کتابیں خاص ڈھنگ اور لائبریری قواعد و ضوابط کے مطابق ترتیب نہیں دی گئی ہیں۔ میں نے مشاہدین کو کئی مستند تفاسیر قرآن کے ساتھ ساتھ کچھ نایاب اور نادر کتابیں بھی دکھائیں۔ میرے اس حجرئہ علم و ادب میں مہمانوں کے ساتھ کچھ تصویریں بھی لی گئیں۔ ادھر سے ظہر کی نماز کا وقت بھی ہوگیا تھا تو ہم نے نشست والے کمرے میں جناب قمر الحسن قاسمی کی اقتدا میں باجماعت نماز ادا کی۔ دُعا وغیرہ کے بعد مہمانوں نے رخصت لی اور وہ اپنی جائے قیام کی طرف روانہ ہوگئے۔ اس یادگاری تقریب نے مضمون نگار کے دل و دماغ پر کچھ انمٹ نقوش چھوڑے۔ ایسی دلنواز اور دلفریب ساعتوں کا نصیب ہونا بسا غنیمت ہوتا ہے۔
نوشہرہ سرینگر
رابطہ ۔ 9419674210