جیوتسنا گوول
مورخہ 28فروری کو اجمیر میں وزیر اعظم کی جانب سے ایچ پی وی ویکسین پروگرام کا آغاز، سروائیکل کینسر کی روک تھام کے لیے صحتِ عامہ کے سفر میں ایک یادگار سنگ میل ہے۔ اس تقریب کو ٹیلی ویژن پر دیکھتے ہوئے مجھے خاص طور پر یہ بات متاثر کن لگی کہ جناب مودی نے کم عمر لڑکیوں سے بات چیت کرکے اس موقع کو ایک انسانی اور دل کو چھو لینے والا رنگ دیا۔
بھارت کو ماضی میں سنگین بیماریوں کے خاتمے اور کنٹرول کے لیے منظم اور مؤثر مہمات چلانے کا بھرپور تجربہ حاصل ہے۔ 1950کی دہائی میں چیچک کے خاتمے سے لے کر حالیہ پلس پولیو مہمات تک، یہ تمام پروگرام کامیابی کے لیے نہایت سوچ سمجھ کر ترتیب دیے گئے تھے۔ اب یہی نظم و ضبط اور عوامی اعتماد ایچ پی وی ٹیکہ کاری مہم کی کامیابی کا تعین کرے گا۔
میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کی اس بات کے لئے سراہنا کرتی ہوں کہ انہوں نے باہمی تعاون کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھانے کے لیے مشترکہ کوشش کی ہے۔
انڈین کینسر سوسائٹی طویل عرصے سے سروائیکل کینسر کی تباہ کاریوں پر فکرمند رہی ہے۔ ہمارے لیے فائلوں میں درج اعداد و شمار محض نمبر نہیں بلکہ حقیقی خواتین کی زندگیاں ہیں۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ایک ماں کی موت سے پورا خاندان بکھر جاتا ہے اور یہ بھی کہ خواتین کس طرح خاموشی سے اس تکلیف کو برداشت کرتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زیادہ تر خواتین کو علاج کے مراکز تک اس وقت لایا جاتا ہے جب بیماری لاعلاج مرحلے میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔
خواتین عموماً بلند آواز میں شکایت نہیں کرتیں۔ وہ اپنے جسم کے نجی حصوں میں ہونے والی تکلیف کے بارے میں آسانی سے بات بھی نہیں کر پاتیں۔ جب صرف اس بنیاد پر ’’بصری معائنہ‘‘ تجویز کیا جاتا ہے کہ یہ کم خرچ والا ہے، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس سے عورت کی عزتِ نفس متاثر ہوتی ہے۔ جبکہ زیادہ بہتر اور سائنسی طریقے، جیسے پاپ اسمیئر ٹیسٹ، 1950 کی دہائی سے یورپ اور امریکہ میں اسکریننگ، تشخیص اور علاج کے نتائج کو بدل چکے تھے، تو پھر ہم نے صرف کم لاگت کی وجہ سے کم مؤثر طریقوں پر انحصار کیوں جاری رکھا؟ کیا بھارتی خواتین کی جانیں کم قیمتی ہیں؟
انڈین کینسر سوسائٹی نے پاپ ٹیسٹنگ اور اب ایچ پی وی ڈی این اے اسکریننگ ٹیسٹ کے فروغ کے لیے فنڈز جمع کیے۔ ہم ثانوی اسکریننگ بھی کرتے ہیں تاکہ بیماری کی ابتدائی علامات (لیژن) کی نشان دہی کر کے ان کا تھرمل ایبلیشن کے ذریعے علاج کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ان خواتین کو مالی معاونت بھی فراہم کرتے ہیں جن کا کینسر ان سادہ اقدامات سے آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایک قابل علاج انفیکشن کو اتنی تباہ کن بیماری میں تبدیل ہونے ہی کیوں دیا جائے؟ ایچ پی وی ویکسین 2008سے معروف ہے اور 2010میں بھارت میں متعارف کرائی گئی۔ گجرات اور آندھرا پردیش میں مہمات کا آغاز کیا گیا، جہاں تین خوراکوں پر مشتمل شیڈیول نافذ کیا گیا۔ 9سے 14سال کی عمر کی ہزاروں لڑکیوں کو اس کے تحت ویکسین دی گئی۔
پھر ویکسین کے خلاف چلنے والی مہم سامنے آئی۔ خودکشی، ڈوبنے اور ٹرین حادثات جیسے سنسنی خیز واقعات کی کہانیاں بڑے پیمانے پر پھیلائی گئیں۔ یہ بات آج تک میرے لیے واضح نہیں کہ ان افسوسناک واقعات کا ویکسین سے کیا تعلق تھا۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر اس پروگرام کو وسیع پیمانے پر آگے بڑھانے کا عمل وقتی طور پر مؤخر کرنا پڑا۔ تاہم اس میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا اور وہ یہ کہ تحقیق پر پابندی نہیں لگائی گئی۔ چونکہ سیکڑوں لڑکیوں کو ویکسین / ٹیکہ کی نامکمل خوراکیں ملی تھیں، اس لیے محققین کو طویل مدتی مشاہدے کا ایک قیمتی موقع ملا۔ جن لڑکیوں نے صرف ایک خوراک لی تھی، وہ بھی اتنی ہی صحت مند پروان چڑھیں جتنی وہ لڑکیاں جنہوں نے دو یا تین خوراکیں حاصل کی تھیں۔ یوں آج کے سادہ ویکسینیشن شیڈیول کی بنیاد پڑی۔
اس میدان میں کئی ممتاز ماہرین نے اہم کردار ادا کیا ہے، جن میں ڈاکٹر پرتھا باسو بھی شامل ہیں، جو انٹرنیشنل ایجنسی فارریسرچ آن کینسر / ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ بھارت میں ایچ پی وی ٹیکہ کاری کا آغاز مستقبل میں تقریباً دس لاکھ سروائیکل کینسر کے کیسز کو روک سکتا ہے۔ بھارت میں 17,729 لڑکیوں پر 15 سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی طویل مدتی تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ ویکسین نہایت محفوظ ہے اور اس کی ایک خوراک ہی مضبوط تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق، اگر آسان طریقۂ کار کے ساتھ وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری کو یقینی بنایا جائے تو بھارت مستقبل میں سروائیکل کینسر کے بوجھ کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔
آنجہانی ڈاکٹر شنکر نارائن کو میرا خراجِ عقیدت، جن کی برسوں کی خاموش تحقیق آج رنگ لا رہی ہے اور ڈاکٹر پرتھا باسو کو بھی خراجِ تحسین، جنہوں نے ان طویل مدتی مطالعات کو مستقل مزاجی سے جاری رکھا۔ ان کی کاوشیں، نیز پاتھ (PATH) اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ساتھ قومی محققین کی تحقیقات نے اس ویکسین کی مؤثریت اور حفاظت پر اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔
عالمی تجربہ بھی اس اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔ آسٹریلیا میں 2007میں سرکاری سطح پر اسکولوں کے ذریعے ایچ پی وی ٹیکہ کاری کا آغاز ہوا، جسے بعد میں لڑکوں تک بھی توسیع دی گئی اور 2023میں اسے ایک خوراک کے شیڈول میں تبدیل کر دیا گیا۔ جیسا کہ پروفیسر دیبورہ بیٹسن نے نشان دہی کی ہے۔ 2021میں پہلی بار ریکارڈ کے آغاز کے بعد 25 سال سے کم عمر خواتین میں سروائیکل کینسر کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ یہ کامیابی بڑی حد تک مسلسل اور وسیع پیمانے پر ٹیکہ کاری کی بدولت ممکن ہوئی۔
ہانگ کانگ ایک اور عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔ اسکولوں کے ذریعے ٹیکہ کاری، کیچ اَپ پروگرامز اور خود نمونہ لینے (سیلف سیمپلنگ) پر مبنی جدید اسکریننگ اقدامات کے ذریعے کوریج میں مسلسل بہتری آئی ہے۔ کیتھرینا ریمر اور ڈاکٹر کیرن چان نے وضاحت کی ہے کہ پرائمری اسکول کی بچیوں کے لیے مفت ٹیکہ کاری، مضبوط عملی تحقیق اور اسکریننگ سہولیات کی توسیع نے ہانگ کانگ کو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مقرر کردہ خاتمے کے اہداف کے قریب لا کھڑا کیا ہے۔
آئیے ہم بھی ان کامیابیوں میں اپنا حصہ ڈالیں۔ آئیے بیٹیوں کو ٹیکہ لگوائیں اور ماؤں کی اسکریننگ کروائیں۔ مؤثر منصوبہ بندی، وسیع کوریج اور عوامی اعتماد کے ذریعے ہم بھی عالمی ادارۂ صحت کی اس اپیل کا جواب دے سکتے ہیں کہ سروائیکل کینسر کو ایک بڑے عوامی صحت کے خطرے کے طور پر ختم کیا جائے۔
بھارت میں قومی حفاظتی ٹیکہ کاری نظام میں نئے ٹیکوں کو شامل کرنے کا عمل عموماً وقت طلب ہوتا ہے، کیونکہ اس میں سائنسی جانچ پڑتال، ٹیکہ کی مسلسل فراہمی کی ضمانت اور پروگرام کے مکمل طور پر تیار ہونے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ تاہم اس کے لیے درکار بنیادی ڈھانچہ نہایت سوچ سمجھ کر تیار کیا جاتا ہے، تاکہ ایک بار نفاذ کے بعد یہ پروگرام مضبوطی سے جاری رہ سکے۔
کینسر کے آغاز سے پہلے ہی اس کی روک تھام کرنا غیر معمولی دور اندیشی کی علامت ہے اور اس حوالے سے حکومتِ ہند اپنی اخلاقی وضاحت اور عزم کے لیے قابل تحسین ہے۔ آگے بڑھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ ٹیکہ کاری، اسکریننگ اور آگاہی کا نعم البدل نہ بنے بلکہ ان کا تکملہ ہو اور آنے والی نسلیں اس لمحے کو اس طور پر یاد کریں کہ جب بھارت نے روک تھام کو ترجیح دی اور جیسے پولیو اور چیچک کے خلاف کامیابی حاصل کی، ویسے ہی اس میدان میں بھی ایک کامیاب مثال قائم کی۔
(مضمون نگار چیئرپرسن انڈین کینسر سوسائٹی دہلی شاخ ہیں)