سیاستدان، سائنسدان، کاروباری اور با رسوخ افراد کے کرتوت
حال و احوال
مدثر مرچال
سکینڈل ، سکیم (SCAM) ، گھوٹالہ جیسی اصطلاحیں اب روزانہ کسی نہ کسی اخبار میں پڑھنے کو یا خبروں کے کسی بلیٹن میں سُننے کو ملتی ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں سے دنیا کے کئی ممالک میںبڑے بڑے سکینڈل طشت از بام ہوئے،جن میںپاناما لیکس، واٹر گیٹ سکینڈل، کیمبرج ڈیٹا اینلٹکاسکینڈل، کیتھولک چرچ جنسی سکینڈل، تسکیگی سپھلس تجربہ(Tuskegee Syphilis Study)، والکسویگن ایمیشن سکینڈل (Wolksvagon Emission Scandal)وغیرہ، سر فہرست ہیں۔ (Watergate Scandal)واٹرگیٹ سکینڈل 1972 میںطشت از بام ہوا، جس کے مطابق اُس وقت کے امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اپنے سیاسی مخالفین کی جاسوسی کے لئے ان کے دفاتر میں Bugging Devices نصب کرائے تھے ۔ صدر موصوف نے FBI تک کی کاروائی میں روکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی تھی۔ بات پاناما لیکس (Panama Leaks) کی کریں تو اس کے دوران 11.5 ملین دستاویزات منظر عام پر آئے ،جن سے یہ معلوم ہو پایا کہ کس طرح کئی ممالک کے صدور، وزرائے اعظم اور تاجروں نے قانون کو بالائے طاق رکھ کر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری کے سارے ریکارڈ توڑ کر بے تحاشہ دولت حاصل کرنے میں اپنے تمام تر وسائل استعمال کئے تھے۔ کیمبرج ڈیٹا اینلٹکا (Cambridge Data Analytica) سیکنڈل میں کروڑوں فیسبُک صارفین کا ڈیٹا اُن کی اجازت کے بغیر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا گیاتھا۔ کیتھولک چرچ جنسی سکینڈل میں عوام کے ہوش تب اُڑ گئے، جب معلوم ہوا کہ دنیا بھر کے گرجاگھروں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی رہی، لیکن ان واقعات کو دہائیوں تک چھپایا گیا۔ اسی طرح ٹکسیگی آتشک تجربہ کا حیران کُن معاملہ سامنے آیا تھا ،جس میں معلوم ہوا کہ کس طرح ا نسانیت اور انسان دوستی پر بڑی بڑی باتیں کرنے والے ملک امریکہ میں سیاہ فام لوگوں پر ایک طبی تجربہ کیا گیا، جس میں انہیں جان بوجھ کر آتشک کے علاج سے محروم رکھا گیا تاکہ مرض کے مختلف اثرات کا مشاہدہ کیا جائے۔ ان جیسے تمام تر سکینڈلوں نے کئی نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کے چہرے سے نقاب توہٹایا ہی، ساتھ میں یہ بھی واشگاف کیا کہ کس طرح ایک عام شہری کی حیثیت کو سائنس لیبارٹری میں تجربے کی خاطر رکھے چوہے سے زیادہ نہیں ہے، جس پر جب چاہا کسی نہ کسی نئی فارمولہ کا تجربہ شروع کیا۔ اِس وقت یعنی سال2026 ء کے آغاز میں پوری دنیا کی نظریں جس بد ترین سکینڈل پر ٹکی ہوئی ہیں، وہ ہے ایپسٹین فائلز نامی سکینڈل۔ قارئین اس بات سے بخوبی واقف ہوں گے کہ جیفری ایپسٹین نامی ایک امریکی شخص پر الزام ہے کہ اس کے ملکیتی جزیرے پر انسان سوز حرکتیں اور جرائم جیسے جنسی زیادتی، قتل اور اغوا کاری، کئی دہائیوں سے جاری تھے۔ اس بات کا انکشاف حال ہی میں ہوا جب ایپسٹین فائلز نام سے ہزاروں تصاویر اور دستاویزات امریکی حکومت کے ذریعے انٹرنیٹ پر جاری کئے گئے۔ اس معاملے کی خاص نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کئی ممالک کے سیاستدان بشمول امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور سابقہ صدر بِل کلِنٹن، بزنس ٹائکون بشمول بِل گیٹس ، سائنسدان بشمول سٹیفن ہاکنزاور کئی دوسری بڑی شخصیات کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس سے قبل کہ ایپسٹین فائلز پہ مزید بات کی جائے، یہاں اس سنسنی خیز اور سنگین جرم کے اصلی مجرم جیفری ایپسٹین Jaffery Epstine کے بارے میں کُچھ بنیادی باتوں کا ذکر لازمی بنتا ہے۔
جیفری ایپسٹین1953 ء میں نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، ایک ریاضی کا استاد تھا۔ لیکن 90کی دہائی تک وہ بے شمار دولت حاصل کر چکا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ کئی با اثر لوگوں کے ساتھ اپنی جان پہچان بنا چُکا تھا۔ ان میں سیاستدان ہی نہیں بلکہ سائنسدان، کاروباری اور دیگر اثر ورسوخ والے افراد شامل تھے۔ ایپسٹین نے بے انتہا دولت حاصل کر کے ایک جزیرہ بھی خرید لیاتھا جس میں وہ ان ہی اثر و رسوخ والے لوگوں کو بلایا کرتا تھا اور اسی جزیرے پر دنیا بھر سے مبینہ طور پر چھوٹی عمر کی لڑکیوں اور کمسن بچوں کی سمگلنگ کر کے لایا جاتا تھا اور انکے ساتھ انسان سوز جرائم کئے جاتے تھے۔ جس میں قتل، جنسی زیادتی اور کئی دوسری چیزیں شامل ہیں۔ مذکورہ جزیرے پہ لڑکیوں کو قید رکھا جاتا تھا تاکہ ان کی رسائی قانونی اداروں تک نہ ہو۔ ایپسٹین کے خلاف پہلی بار پولیس تحقیقات2005 میں شروع ہوئی ،جب ایک ۱۴ سالہ لڑکی نے ایپسٹین پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا۔ جس کے بعد 2006سے 2008ء کے بیچ ایپسٹین کو معمولی سزا ملی اور باقی معاملے کو دبانے کی پوری کوشش کی گئی۔ لیکن جب 2018ء میں Julie K Brownنامی ایک خاتون صحافی نے Miami Herald نامی اخبار میں ایپٹین کی کالی کرتوت کا پردہ فاش کرتے ہوئے ایک تحقیقی رپورٹ شایع کی تو لڑکیوں کی سمگلنگ سے متعلق معاملہ چھُپ نہ سکا ۔ لہٰذا مجبوراً 2019ء میں مذکورہ مجرم کو دوبارہ گرفتار کیا گیا اور وفاقی سطح پر تحقیقات شروع کی گئی ۔ 10 اگست 2019ءکو جیفری ایپسٹین کی ذیر حراست پُراسرار طور موت واقع ہوئی، جس کے بعد جیفری کیس کی تحقیقات میں سامنے آئے ،ان دستاویزات اور تصاویر کو انٹرنیٹ پر جاری کیا گیاجو کسی بھی مردِ ہوشمند کو انگشت بدنداں ہونے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
70–78 ایکڑ پر پھیلے ایپسٹین کے ذاتی ملکیت والے جزیرے Little Saint James یعنی Epstine Islandپر کیا کیا ہوتا رہا سوال یہ نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ کن کے ہاتھوں ہوتا رہا؟ جو دنیا کو یہ بتاتے نہیں تھکتے تھے کہ مذہب بالخصوص اسلام انسان کو اندھا کر دیتا ہے اور ایک دوسرے کا دشمن بنادیتا ہے۔ جو دنیا کو یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ تاریخ میں جب جب بھی خون بہایا گیا، وہ مذہب کے نام پہ ہی بہایا گیا۔ جو اس بات پہ اسلام پر طنز کستے تھے کہ عید پہ قربانی کے لئے بے قصور و بے زباں جانوروں کی زندگی چھین لی جاتی ہے۔ ایپسٹین فائلز محض ایک مجرم کی داستان نہیں ہے ،بلکہ ایک ایسے طاقتور عالمی اشرافیہ کے چہرے پر ایک دھبہ ہے جو خود کو ترقی پسند، روشن خیال اور مذہب سے آزاد قرار دیتے رہے۔ نہتے ، کمزور اور بے گناہوں کے قتل کی سنسنی خیز تصاویر اور انکشافات یہ چیخ چیخ کر بتاتے ہیں کہ مذہب و ملک کی تقسیم سے بالاتر یہ بہروپئے، آزاد خیال اور ترقی پسند لوگ دنیا کے بد ترین دہشت گرد ہیں جو بدنام زمانہ جزیرے پر جرائم کے سارے ریکارڈ توڑنے میں ملوث رہے۔ حالانکہ تہذیب یافتہ ہونے کی ان کی دعویداری اس سے پہلے بھی ہزار بار کھوکھلی ثابت ہوچکی ہے۔ شیرخوار بچوں پر گولے برسانے والے ، غزہ میں قیامت ڈھانے والے، کھانا پانی روک کر نہتے لوگوں کو بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال کر کے قتل کرنے والے، اسکولوں اور اسپتالوں پر بمباری کرنے والے بھی یہی تہذیب یافتہ زندیق ہیں۔ لیکن جو لوگ اِنہی مکاروں کے لئے نوبل انعام کی وکالت کرتے تھے ،ان کے لئے ایپسٹین فائلز کاطشت از بام ہونا چشم کُشا ہے۔
ایپسٹین فائلز کے ظاہر ہونے کے بعد سے ہی اس معاملے پر طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہوئیں۔ کُچھ قیاس آرائیوں کے مطابق ایپسٹین آئی لینڈ پر شیطانی کلیسا بھی موجود تھا جہاں’’بعل ‘‘نامی بُت کو خوش کرنے کے لئے بچوں کی قربانی دی جاتی تھی۔ اس قیاس آرائی پر اگرچہ سوفیصدیقین نہیں کیا جا سکتا ،لیکن اس امکان سے کُلی طور پر صرفِ نظر بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کیو نکہ جس طرح ابھی تک Illuminati ارو الحاد کا جال قریہ قریہ میں پھیلا ہوا ہے شیطانی کلیسا کے ایپسٹین آئی لینڈ پہ ہونے کے امکانات کو یکسر خارج کرنا صحیح نہیں۔بہر حال ایپسٹین آئی لینڈ پر شیطانی کلیساکے ہونے یا نہ ہونے سے معاملے کی نوعیت پہ خاص فرق نہیں پڑتا، لیکن اگر ایسا ہے تو ہمارے سماجی ڈھانچے، مذہبی اداروں اور سماج کے ذمہ داران پر ، بلکہ ہم سب پر خاص ذمہ داری عاید ہوتی ہے ۔
کون سی ذمہ داری؟ یہ سمجھنے کے لئے پہلے اس بات پر غور کرنا لاذمی ہے کہ ایپسٹین آئی لینڈ سے لگ بھگ 14000کلومیٹر دور ایک گاؤں ، قصبے یا شہر میں رہنے کے باوجود ہمارا ایپسٹین معاملے سے کیا تعلق ۔ہزاروں میل دور اُس جزیرے پر موجود شیطانی کلیساؤں یا شیطان کے پُجاریوں سے ہمارے سماج کو کیسا خطرہ ؟
سوال یہ ہے کہ کیا ایپسٹین آئی لینڈ قرۂ عرض کا واحد ایسا رقبہ ہے جہاں یہ گھناؤنا کھیل چل رہا تھا یا پھر دنیا کے کسی اور خطے میں بھی انسانی جانوں کا زیاں ہو رہا ہے؟ Human Traffickingکی بات کریں تو دوشیزائیں اور بچے تو یہاں بھی اغوا ہو رہے ہیں ۔NCRBکی ایک اعداو شمار کے مطابق 2023ء میں صرف بھارت میں اغواکاری کےایک لاکھ ۱۳ ہزار معاملے پیش آئے، جن میں سے 66,268کی بازیابی ہنوز باقی ہے۔ بھارت میں ہی 2020ء سے تاحال غائب ہونے والے بچوں میں سے 36000بچوں کا سُراغ اب بھی ملنا باقی ہے۔اگر چہ بچوں کے غائب ہونے کے زیادہ تر معاملے دہلی، میسور اور کرناٹک جیسی ریاستوں میں پیش آئے ہیںلیکن ان سنگین جرائم سے کشمیر بھی اچھوتا نہیں ہے۔ کشمیر میں بھی ابھی تک ہزاروں بچے اور عورتیں غائب ہوئے ہیں جن کی اکثریت ابھی تک Untraced ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیسفری ایپسٹین جیسے ہی کئی چھوٹے بڑے ایپسٹین ہمارے یہاں بھی تیار ہو چُکے ہیںجو یا تو اپنے Sadistic Pleasure کے لئے یا کسی شیطانی کلیسا ء میں اپنی رسائی حاصل کرنے کے لئے نہتے بچوں کا خون بہا رہے ہوں؟ نوجوان لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان کا بھی وہی حشر کر رہے ہوں ،جو ایپسٹین آئی لینڈ میں تہذیب یافتہ شیاطین کر رہے تھے؟ کہیں آنے والے کل میں یہاں بھی ایسی سنسنی خیز خبریں تو نہیں مِلنے والی؟ ایسے میں اپنے بچوں کے تئیں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ بنتی ہے کہ بچوں کو دولت، شہرت اور دنیاوی معاملات کے اعتبار سے اعتدال اور صبر کا سبق پڑھا کر انہیں سستی شہرت یا بے تحاشہ دولت حاصل کرنے کے تمام تر Shortcuts سے بعض رکھیں۔ کیوں کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ ان بچوں کو یا ان دوشیزاؤں کو بہ آسانی شکار بنایا جاتا رہا ہے، جنہیں دولت اور اثرورسوخ کی بھوک نے پہلے ہی Vulnerableبنایا ہو۔ ہمارے بچے کتنے Vulnerable بلکہ غیر محفوظ ہیں ،وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ کس طرح سستی شہرت کے لئے نیم عریاں ہو کر ویڈیو بنائے جاتے ہیں ، یا آسان دولت حاصل کرنے کی خاطر فحاشی کے مرکز چلائے جاتے ہیں ،یہ غالباً ہم سب کے علم میں ہے۔ ایسے بچوں یا لڑکیوں کو اگر کثیر رقم کی لالچ دی جائے تو وہ کتنی آسانی سے کسی ایپسٹین کے جال میں پھنس سکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں۔ لہٰذا اپنے بچوں بالخصوص بیٹیوں کو اس سستی شہرت اور آسان دولت کے دلدل سے محفوظ رکھنا ایپسٹینی شیاطین سے ان کو بچانے کا پہلا اور اہم قدم ہے۔
(رابطہ۔9149468735)