بلال فرقانی
سرینگر // آج 20جولائی کو پارلیمنٹ کے مون سون سیشن کے آغاز پر نیشنل کانفرنس کے ریاستی درجہ بحالی کیلئے مجوزہ جنتر منتر احتجاج ہونے جارہا ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ ، راجوری و پونچھ میں بارشوں سے پیدا ہوئی صورتحال کے پیش نظر واپس آنے کے نتیجے میں احتجاج کی قیادت پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کریں گے۔ادھر دلی پولیس نے ایک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلی کے لوگوں کو مشورہ دیا جارہا ہے کہ وہ راجدھانی میں کسی بھی بغیر اجازت احتجاج یا اجتماع کا حصہ نہ بنیں۔ دلی پولیس نے ایک عوامی ایڈوائزی میں کہا ہے کہ دلی میں دفعہ 163نافذ ہے اور اسکے تحت کسی بھی بغیر اجازت اجتماع کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیشنل کانفرنس کو بھی جنتر منتر پر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ادھر پارٹی کے بیشتر اراکین اسمبلی و پارلیمنٹ اور سرکردہ لیڈر نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔ پارٹی ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ہر ایک قانون سازیہ ممبر،صوبائی عہدیدار،سٹیٹ لیڈران اور اراکین پارلیمنٹ کو اپنے ساتھ اپنے حلقہ انتخاب سے 5افراد کاگروپ احتجاج میں شامل ہونے کیلئے لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جنتر منتر پر پر امن احتجاج محض علامتی ہوگا اور اسی طرح کا علامتی احتجاج جموں و کشمیر کے ہرضلع ہیڈکوارٹر پر پارٹی ورکروں اور دیگر عہدیداروں کی طرف سے کیا جائیگا۔