پرویز احمد
سرینگر //سرینگر میں 25منٹ کی موسلا دھار بارش میں 2500کروڑ روپے کی لاگت سے بنائی گئی سمارٹ سٹی ڈوب گئی ۔ سیول لائنز کے علاوہ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں موسلا دھار بارش کا پانی ہر طرف جمع ہوگیا اور عوامی نقل و حرکت بند ہوگئی۔ سمارٹ سٹی سرینگر کے بیشتر علاقوں میں ڈرینیج سسٹم بیکار ہوگیاپانی سڑکوں پر جمع ہوگیا۔ شہر خاص کے نوپورہ ، خانیار، بابہ ڈیمب، فور شو روڑ اور دیگر علاقوں میں جگہ جگہ پانی کے تالاب بن گئے۔ لال چوک تک کادی کدل بابہ ڈیمب روڑ دونوں طرف پانی میں ڈوب کر تالاب کا منظر پیش کررہا تھا۔ بابہ ڈیمب میں اتنا پانی جمع ہوگیا تھا کہ کوئی گاڑی نہیں چل سکی اور سمارٹ سٹی کی دو گاڑیاں بھی پانی میں کئی گھنٹوں تک پھنسی رہیں۔ ہر جگہ ڈرینیج سسٹم بلاک ہونے کی وجہ سے درگاہ، رعناواری اور خانیار روڑ بھی بند ہوگیا ۔لوگوں نے کہا کہ 2500کروڑ روپے ڈرینیج سسٹم پر خرچ کرنے کے باوجود سمارٹ سٹی 25منٹ کی موسلا دھار بارش میں ڈوب گئی۔ درگاہ سے شالیمار جانے والے فور شو روڑ پر جگہ جگہ پانی جمع ہوا جس سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ نشاط، شالیمار اور دیگر مغل باغات کی سیرپر آئے سیاحوں نے بتایا کہ ڈگہ پارک کے نزدیک پانی جمع ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک انہیں انتظار کرنا پڑ ا ، کیونکہ ڈرنیج سسٹم بلاک ہوا تھا۔خانیار اور بابہ ڈیمب کا علاقہ سب سے زیادہ متاثر رہا جبکہ لالچوک میں بھی بارش کا پانی جمع ہوا تھا۔
۔23جولائی تک موسلا دھار بارشوں کا امکان
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//موسمیاتی مرکز سرینگر نے اگلے پانچ دنوں کے دوران جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر بارش کی پیش گوئی کی ہے، خاص طور پر جموں ڈویژن میں موسلادھار سے بہت تیز بارش، گرج چمک اور تیز ہوائوں کی وارننگ دی ہے، جس میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے، شوٹنگ سٹون اورنالوں کے قریب علاقوں میں جولائی کے آخر تک سیلاب کے خطرے کا الرٹ جاری کیا ہے۔ اگلے دو دنوں کے دوران موسم میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر درمیانی سے موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ کشمیر اور جموں دونوں ڈویژنوں میں 23 جولائی تک بڑے پیمانے پر بارش جاری رہے گی اور 24 جولائی سے بتدریج کم ہو جائے گی۔ 20 اور 22 جولائی کے درمیان راجوری، ریاسی، رام بن، ادھم پور، کٹھوعہ اور سانبہ کے کچھ حصوں میں سب سے زیادہ بارش کا امکان ہے۔ ادھرضلع انتظامیہ گاندربل نے موسم کی ایک ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں رہائشیوں، سیاحوں اور امرناتھ یاترا کے زائرین سے کہا گیا ہے کہ وہ 19 جولائی سے 23 جولائی تک محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے بعد چوکس رہیں۔ضلع مجسٹریٹ گاندربل کی ایڈوائزری کے مطابق، لوگوں کو احتیاطی اقدام کے طور پر اگلے احکامات تک ڈھلوانوں، پہاڑی علاقوں یا برفانی تودے اور سیلاب کے خطرے سے دوچار مقامات کی طرف نہ جانے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ادھربارہمولہ انتظامیہ نے فلڈ الرٹ جاری کیاہے۔بھاری بارش کی پیشین گوئی کے درمیان، بارہمولہ ضلع انتظامیہ نے اتوار کو ایک موسمی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے مکینوں پر زور دیا کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں سے دور رہیں اور موسمی حالات بہتر ہونے تک غیرضروری مقامات پر سفر سے گریز کریں۔ڈپٹی کمشنر بارہمولہ کی طرف سے جاری کردہ ایک ایڈوائزری کے مطابق محکمہ موسمیات نے 19 جولائی سے 23 جولائی تک پورے خطے میں خراب موسم کی پیش گوئی کی ہے۔
انتظامیہ نے خاص طور پر ٹنگمرگ، گلمرگ، اوڑی، بونیار، شرپورہ گاوگرین، چندوسہ، ڈنڈ موہ، حاجی بل، شملوران، کلانترا، رام پور راج پور، شتلو اور گلی بل رفیع آباد کے رہائشیوں کو خبردار کیا ہے۔