میر شوکت
ایران کی سرزمین ضد کی وہ خاموش آگ ہے جو صدیوں کی آندھیوں میں بھی نہیں بجھتی۔ جب سکندر کے لشکر پرسپولیس کی طرف بڑھے تو قدیم ستون لرز اٹھے، مگر ایرانیوں کی آنکھوں میں ایک ایسی چنگاری تھی جو آج بھی سلگ رہی ہے۔ منگولوں کے گھوڑوں نے تہران کی وادیوں کو لہو سے رنگ دیا، باغ جل اٹھے، گھر کچل گئے، پھر بھی ماں باپ بچوں کو سینے سے لگائے، آنسو تھام کر بھی کہتے رہے کہ ہمارا سر نہیں جھکے گا۔ عربوں کی تلواریں چمکیں، برطانوی سازشوں نے رات کے اندھیرے میں سلطنتوں کی جڑیں ہلا دیں، روسی دباؤ شمال کی پہاڑیوں سے اترا اور شاہ کی چمکدار آمریت نے تہران کے محلات کو تو جگمگا دیا مگر گلیوں میں غریبوں کی آنکھیں بجھا دیں۔ پھر بھی یہ سرزمین جھکی نہیں۔ زخموں کی گرد اڑاتی ہوئی، سیدھی کھڑی رہی۔پھر 1979 کا انقلاب آیا۔ تہران کی گلیاں لاکھوں لوگوں سے بھر اٹھیں۔ ’اللہ اکبر‘ کی آوازیں آسمان کو چھو رہی تھیں، امام خمینی کی آواز ریڈیو پر گونج رہی تھی، شاہ کا تخت لرز اٹھا تھا۔ آزادی اسکوائر پر جھنڈے لہرا رہے تھے، خواتین چادروں میں ملبوس، مردوں کے چہروں پر عزم کی لہریں، بچوں کے ہاتھوں میں پھول۔ ایک قوم نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب اپنا مقدر خود لکھے گی۔ اس کے فوراً بعد ایران اور عراق کے درمیان آٹھ سالہ آپسی جنگ ہوئی۔یہی ضد، یہی برداشت، 2026 کی جنگ میں ایک بار پھر زندہ ہو اُٹھی۔ فروری کے آخر میں جب امریکہ اور اسرائیل نے آپریشن ایپک فیوری شروع کیا تو تہران کی فضا بموں کی گڑگڑاہٹ سے بھر گئی۔ نیلوفر اسکوائر کے قریب کیفے میں چائے پیتے لوگ اچانک اٹھ کھڑے ہوئے۔ خون دیواروں پر، شیشے بکھرے مگر لوگ بھاگے نہیں، ایک دوسرے کو تھام کر کھڑے رہے۔ تہران کی تنگ گلیوں میں چیک پوائنٹس لگ گئے، مسلح فوجی اور باسیج کے نوجوان اٹمی تنصیبات کے گرد انسانی ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے۔ رات کے اندھیرے میں سرخ روشنیاں، فضائی حملوں کی سیٹیاں بجیں مگر گھروں کی چھتوں پر لوگ دعائیں مانگتے رہے، بچوں کو سینے سے لگائے رہے۔ صنعتی علاقے تباہ ہوئے، بندرگاہیں زخمی ہوئیں، فضائی دفاع کو نقصان پہنچا مگر ریاست کی کمر نہ ٹوٹی۔ حکومت باقی رہی، فوج باقی رہی، میزائل باقی رہے۔ سب سے بڑھ کر عوام کی برداشت باقی رہی۔ بازار کھلے تھے، روٹی کی دکانوں پر قطاریں لگی تھیں، سکولوں میں بچوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، رات کو آسمان دیکھ کر آنکھیں نم ہو جاتی تھیں۔
واشنگٹن والے سوچ رہے تھے کہ چند دنوں میں تہران کے بازاروں میں ہنگامے ہو جائیں گے، لوگ سڑکوں پر اتریں گے مگر ایسا نہ ہوا۔ تنگ گلیوں میں دُھواں اُٹھ رہا تھا، لوگ روٹی کی قطار میں کھڑے ، بچوں کو سکول بھیجتے، رات کو دعائیں مانگتے رہے۔ دیوار پر کوئلے سے لکھا تھا کہ ہم نے دشمن کو شکست نہیں دی، بس یہ سمجھا دیا کہ ہمیں مٹانا آسان نہیں۔ یہ وہی ضد تھی جو 1979 سے چلتی آ رہی ہے، پابندیاں، سائبر حملے، سائنسدانوں کے قتل، جرنیلوں کی شہادت ،سب برداشت کیا مگر جھکا نہیں۔ دل میں وہ آگ تھی جو سکندر کے زمانے سے جل رہی تھی۔پھر وہ لمحہ آیا جب ایران نے ہرمز کی تنگہ کو اپنے ہاتھ میں تھام لیا۔ نیلے پانیوں پر لہریں اٹھ رہی تھیں، جہاں دنیا کا بیس فیصد تیل گزرتا ہے۔ جہاز رُک گئے، کیپٹن ایرانی فوج کی اجازت کا انتظار کرنے لگے، کچھ کو اجازت ملتی، کچھ واپس لوٹ جاتے۔ مائنز کی دھمکی، نئی راہیں، عالمی معیشت کی سانس تھم سی گئی۔ سمندر کی لہریں ایرانی جھنڈوں کو چھو رہی تھیں، جہازوں کے ڈیک پر ملاح خوفزدہ، مگر ایران کی نگرانی میں سب چل رہا تھا۔ ایرانی کشتیاں گشت کرتیں، لہریں انہیں سلام کرتیں، جیسے سمندر بھی ان کی ضد کا احترام کر رہا ہو۔
اپریل 2026 میں پاکستان کی ثالثی سے دو ہفتوں کی جنگ بندی ہوئی۔ اسلام آباد میں بات چیت شروع ہوئی، مگر ہرمز اب بھی ایرانی نگرانی میں تھا۔ جہازوں کو ایرانی فوج سے رابطہ کرنا پڑتا، شرائط ماننی پڑتیں۔ یہ کوئی مکمل امریکی فتح نہ تھی، بس ایک سودے بازی تھی۔ ایران نے اپنی ضد سے ثابت کر دیا کہ وہ صرف لڑتا نہیں، باقی بھی رہتا ہے۔
مگر اب یہ بات چیت فی الحال ناکام ہو چکی ہے۔ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان 21 گھنٹے کی طویل مذاکرات کے باوجود کوئی معاہدہ نہ ہو سکا۔ اصل رکاوٹ لبنان تھا ۔پاکستان نے جنگ بندی کو تمام محاذوں پر، لبنان سمیت، قرار دیا تھا، مگر اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے، جسے ایران نے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ایران نے اپنا 10 نکاتی منصوبہ پیش کیا جس میں پابندیوں کا مکمل خاتمہ، جوہری حقوق کی تسلیم، علاقائی امن اور جنگی نقصانات کا معاوضہ شامل تھا، جبکہ امریکہ جوہری پروگرام پر پابندیاں اور تصدیق شدہ حدود چاہتا تھا۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں نے مذاکرات کو سبوتاژ کر دیا اور ایران نے وارننگ دی کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ جنگ بندی سے بھی دستبردار ہو سکتا ہے۔ پاکستان نے دونوں فریقوں سے جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے، مگر فی الحال بات چیت رک گئی ہے۔
جنگ کی ایک تصویر نے پوری انسانیت کو شرمندہ کر دیا۔ میناب کے اسکول پر 28 فروری کو ہونے والے حملے میں 168 معصوم بچے اور اساتذہ شہید ہو گئے۔ ایرانی وفد، جسے ’’میناب 168‘‘کا نام دیا گیا، اسلام آباد مذاکرات کے لیے آتے ہوئے ان شہید بچوں کے خون آلود سکول بیگ، جوتے، سفید گلاب کی کلیاں اور ان کی تصاویر اپنے ساتھ لایا۔ طیارے کی سیٹوں پر یہ بیگ رکھے گئے، جیسے وہ بچے اب بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ سفر کر رہے ہوں۔ وزیراعظم پاکستان نے بھی انہیں دیکھا اور انسانیت کے نام پر خاموش احتجاج کیا۔ یہ بیگ صرف کپڑے اور کتابوں کے نہیں تھے ۔ یہ معصومیت پر ڈالے گئے ظلم کی گواہی تھے۔ یہ منظر دیکھ کر دل پتھر ہو جاتا ہے کہ کس طرح ایک سکول، جہاں بچے خواب دیکھتے تھے، اچانک قبرستان بن گیا۔تہران کی دیواروں پر اب بھی وہ لکھا جا رہا ہے۔ ہرمز کی لہریں ایرانی جھنڈے کی عکاسی کرتی ہیں۔ یہ ملک زخمی ہے، تھکا ہوا، تباہ حال، مگر باقی ہے۔ باقی رہنا ہی ایسی جنگ میں سب سے بڑی فتح ہے۔ تہران کی چھت پر کھڑا نوجوان ستاروں کو دیکھ کر مسکراتا ہے۔ کل کی صبح یہ سرزمین پھر اٹھے گی، مزید مضبوط، مزید ضد والے دل کے ساتھ۔ یہ ایران کی کہانی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، ہر نئی صبح میں نئی شکل پا لیتی ہے۔
جنگ بندی کے بعد تہران کی فضا میں امید کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔ چھوٹے پارک میں بچے کھیل رہے ہیں، ماں باپ بیٹھے ماضی کی باتیں کرتے کہ ہم نے لڑا، ہم نے برداشت کیا، ہم اب بھی یہاں ہیں۔ ہرمز پر ایرانی کشتیاں گشت کرتی ہیں، لہریں جھنڈوں کو چھوتی ہیں، جیسے سمندر گواہ بن گیا ہو کہ یہ سرزمین کبھی نہیں جھکی۔ اسلام آباد میں ایرانی سفارت کار شرائط پیش کرتے، جوہری حق، پابندیوں کا خاتمہ، علاقائی امن ۔ سب اپنی ضد کی زبان میں۔
یہ ضد صرف لڑائی نہیں زندہ رہنے کا نام ہے۔ تاریخ کی کتابیں کھولو تو ہر صفحے پر یہی کہانی ملتی ہے۔ سکندر کے بعد پرسپولیس دوبارہ کھڑا ہوا، منگولوں کے بعد باغ دوبارہ سبز ہوئے، انقلاب کے بعد قوم نے نئی راہ بنائی۔ یہ جنگ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ تہران میں دُھواں اب بھی ہے مگر اس میں امید کی خوشبو ہے۔ لوگ کہتے ہیں ہم نے دشمن کو نہیں دیکھا، ہم نے اپنے آپ کو دیکھا اور ہم اب بھی کھڑے ہیں۔ یہ منظر، یہ جذبہ، یہ برداشت، یہ ایران ہے۔رات ڈھلتی ہے تو تہران کی پہاڑیوں پر چاند کی روشنی پھیل جاتی ہے۔ لگتا ہے پوری تاریخ ایک ساتھ سانس لے رہی ہو۔ ضد کی یہ آگ جو کبھی نہیں بجھتی، آج بھی جل رہی ہے۔راحت اندوری صاحب فرماتے ہیں ۔
جنگ میں کاغذی افراد سے کیا ہوتا ہے
ہمتیں لڑتی ہیں، تعداد سے کیا ہوتا ہے
امریکہ اور اسرائیل کے پاس جدید طیارے، میزائل، سیٹلائٹ اور کاغذوں پر لکھی لاکھوں فوجی طاقت تھی۔ مگر ایران کے پاس وہ ہمتیں تھیں جو تاریخ کی آگ میں تپ کر نکلی تھیں۔ کاغذی پلانز بم برسا سکتے ہیں، شہروں کو زخمی کر سکتے ہیں مگر قوم کے دل کو نہیں توڑ سکتے، ایران نے یہی ثابت کیا۔ اس کی ضد، برداشت اور لوگوں کا عزم ، یہ سب کاغذ پر نہیں لکھا جا سکتا۔ یہ وہی آگ ہے جو سکندر کے زمانے سے جل رہی ہے، 1979 میں بھڑکی تھی اور 2026 میں بھی روشن ہے۔ایران باقی ہے۔ زخمی، تھکا ہوا، مگر فاتح۔ کیونکہ جنگ جیتنے والے وہ نہیں ہوتے جو کاغذ پر بڑے ہوں بلکہ وہ جو دل میں ضد رکھتے ہوں۔