سہیل انجم
پہلے یہ چند واقعات ملاحظہ فرمائیں جو ہمارے علاقے میں مشہور ہیں۔ ان واقعات کی تفصیلات متاثرین کے بعض اعزا اور باخبر افراد نے راقم الحروف کے گوش گزار کی ہیں۔ لیکن رازداری کی وجہ سے گاوں اور متاثرین کے نام ظاہر نہیں کیے جا رہے ہیں۔ ایک نوجوان ممبئی میں کوئی کام کرتا تھا۔ اس کے کسی دوست نے اس کو آن لائن گیمنگ کے بارے میں بتایا اور اس نے ہاتھ آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے متعلقہ ایپ ڈاون لوڈ کی اور کھیلنا شروع کیا۔ پہلے اس نے کوئی معمولی رقم جیتی۔ اس کا حوصلہ بڑھا اور اس نے بڑی ر قم داو پر لگائی۔ اس بار بھی کچھ یافت ہوئی۔ اس نے زیادہ بڑی رقم لگائی اور ہار گیا۔ پھر وہ اس کھیل میں پھنستا چلا گیا۔ چند ماہ کے اندر وہ لاکھوں روپے ہار گیا۔ وہ ڈپریشن میں چلا گیااور خود کشی کے بارے میں سوچنے لگا۔ بہرحال اس کی مشکوک حالت میں موت ہو گئی۔ اسی گاوں سے متصل ایک دوسرے گاوں کا ایک نوجوان جو خلیج میں برسرروزگار تھا اس لت میں مبتلا ہو گیا۔ وہ بھی رفتہ رفتہ چند ماہ کے اندر تیس لاکھ سے زائد ہار گیا۔ اس کے دو پلاٹ اور بیوی کے زیورات تک بک گئے۔ وہ دانے دانے کو محتاج ہو گیا۔ اس کے اہل خانہ نے اسے گھر بلا لیا اور اس کا موبائل چھین لیا۔ وہ بھی ڈپریشن میں چلا گیا۔ بال بچوں سے بے پروا ہو گیا اور اس کے اندر بھی خودکشی کا رجحان پنپنے لگا۔ اس گاوں سے چند کلومیٹر کی مسافت پر واقع ایک بڑی مسلم آبادی کے رہنے والے دو بھائی خلیج میں برسرکار تھے۔ وہ بھی آن لائن جوئے میں پھنس گئے اور لاکھوں گنوا بیٹھے۔ پھر ان کو عقل آگئی، انھوں نے توبہ کر لی اور اب لاکھوں روپے کا قرض ادا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ان میں سے اول الذکر نوجوان غیر مسلم اور باقی تینوں مسلمان ہیں۔
اب کچھ دیگر ریاستوں کے کچھ تشویش ناک واقعات ملاحظہ فرمائیں۔ ریاست مدھیہ پردیش میں آن لائن جوئے بازی کی وجہ سے نوجوان اور یہاں تک کہ بچوں کی خودکشی کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ ’فری پریس جرنل‘ کی آٹھ جولائی 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق بھوپال میں گزشتہ چند سالوں میں ہزاروں نوجوان بڑی رقموں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سائبر کرائم کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اگر چہ جوئے اور سٹے بازی پر پابندی ہے تاہم آن لائن گیمنگ ایپس ڈاون لوڈ کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ ایک آٹو ڈرائیور اندراراج سنگھ نے بڑی رقم ہارنے کے بعد اسی سال مئی میں زہر کھا لیا۔ بی ٹیک کے ایک اسٹوڈنٹ ونے نامدیو نے بھی خودکشی کر لی۔ ستمبر 2022 میں بی کام کے ایک اسٹوڈنٹ منوج وانکھیڈے نے اپنے روم میں پھانسی لگا لی۔ اسی طرح منیش نائک اور انکت چورا نے بھی لاکھوں روپے گنوانے کے بعد خودکشی کر لی۔ اسی سال بی اے ایم ایس کے ایک اسٹوڈنٹ نے پپلانی علاقے میں ایک بینک لوٹنے کی کوشش کی۔ اس کے مطابق وہ اپنے کالج کی فیس آن لائن جوئے میں ہار گیا اس لیے بینک لوٹنا چاہتا تھا۔ جموں و کشمیر میں بھی یہ لعنت بری طرح پھیلتی جا رہی ہے۔ سری نگر کے کثیر الاشاعت اخبار ’گریٹر کشمیر‘ کی سات اگست 2025 کی ایک رپورٹ کے مطابق کشمیر میں بے روزگاری اور ہزاروں ڈگری یافتہ طلبہ کے لیے کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے ان کے اندر آن لائن جوئے بازی کا رجحان تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ ’کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری‘ کے چیئرمین جاوید ٹینگا کا کہنا ہے کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوان آن لائن گیمنگ میں پھنستے چلے جا رہے ہیں۔ پہلے منشیات اور اب جوئے بازی کی لعنت نے ان کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے اور یہ لعنت وبا کی طرح پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ نوجوان اپنی موٹر بائک بیچ رہے ہیں، اسٹوڈنٹس اپنے ہم جماعتوں سے قرض لے رہے ہیں، دکانداروں کا بینک اکاونٹ خالی ہو رہا ہے، بہت سے لوگ اپنے گھر اور املاک فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک مقامی ماہر نفسیات کے مطابق یہ ’ڈیجیٹل وبا‘ ہے جو تیزی سے پھیل رہی ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ سال سری نگر کی جامع مسجد میں اسی موضوع پر جمعہ کا خطبہ دیا اور کہا کہ ان کی ریاست کے 40 فیصد بے روزگار نوجوان اس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ انھوں نے حکومت سے اس پر پابندی عاید کرنے کا مطالبہ کیا۔ کیرالہ کے کوزیکوڈ کے دو اسٹوڈنٹ بڑی رقوم ہارنے کے بعد بنگلور فرار ہو گئے۔ پکڑے جانے پر انھوں نے بتایا کہ قرض خواہوں سے بچنے کے لیے وہ فرار ہو گئے تھے۔ اسی ریاست میں کوئی اسٹوڈنٹ ایک لاکھ گنوا چکا، کوئی دو لاکھ اور کوئی ہزاروں روپے۔ یہ چونکانے والی اور خطرناک تفصیلات ’چائلڈ ویلفئیر کمیٹی‘ کے کاونسلنگ سیشن میں سامنے آئی ہیں۔ یہ محض چند ریاستوں میں پیش آنے والے چند واقعات ہیں ورنہ ماہرین کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ وزیر اعظم نریند رمودی نے انتخابات کے دوران بہار میں ایک تقریر میں کہا تھا کہ حکومت نے موبائل ڈیٹا اتنا سستا کر دیا ہے کہ نوجوان ریل بنا کر کما رہے ہیں۔ لیکن ان کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ بے روزگاری کی وجہ سے آن لائن جوئے بازی میں کتنا گنوا رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اگست میں پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے بتایا تھا کہ آن لائن گیمنگ کی وجہ سے 45 کروڑ ہندوستانیوں کا دو سو ارب روپے کا نقصان ہوا ہے جس کی وجہ سے متاثرین میں ڈپریشن اور خودکشی کے رجحانات بڑھ رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یہ رجحان صرف ہندوستان میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں اور بالخصوص مسلم ممالک اور مسلم معاشرے میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک اخبار ’القلم‘ کے مطابق ڈربن کی ایک سماجی کارکن ڈاکٹر سہیمہ حسین نے بتایا کہ مسلم معاشرے میں یہ رجحان ایک وبا کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ انھوں نے حکومت کے ساتھ ساتھ مذہبی شخصیات سے بھی اپیل کی کہ وہ اس جانب توجہ دیں ورنہ گھر کے گھر ٹوٹ جائیں گے۔ اس وبا سے بالخصوص خواتین اور بچوں پر بہت زیادہ اثر پڑ رہا ہے۔ وہ کاونسلنگ مراکز پر جا کر اپنے شوہروں میں شدت پسندانہ رجحانات پیدا ہونے اور گھریلو لاپروائی و گھریلو تشدد کی شکایات کرتی ہیں۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ وبا ملیشیا، انڈونیشیا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ترکی، کویت، اردن اور سیریا سمیت کئی ملکوں کو اپنی گرفت میں لے چکی ہے۔ تاش کی مدد سے جووا کھیلنے میں ایک سے زائد افراد کا ایک جگہ جمع ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ آپس میں کھیل سکیں۔ ہم نے بچپن میں اپنے گاوں میں دیکھا ہے کہ جوئے باز رات کے وقت خاموشی سے کہیں بیٹھ کر ٹارچ کی روشنی میں جووا کھیلتے تھے۔ دن میں ان کو عمل ستاتی تو وہ جھاڑیوں میں چلے جاتے۔ ہمارے والد نے جب ان کے خلاف ایک زوردار مہم چلائی تو ایسے تمام افراد گاوں چھوڑ کر شہروں میں فرار ہو گئے۔لیکن آج ٹیکنالوجی کی ترقی کی وجہ سے دیگر شعبہ ہائے حیات کی مانند جوئے بازی نے بھی خاصی ترقی کی ہے، وہ بھی آن لائن ہو گئی ہے اور اس نے دنیا کے بڑے حصے کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ آج کسی ساتھی کی ضرورت نہیں۔ بند کمرے میں ایپ ڈاون لوڈ کیجیے، اس سے اپنا بینک اکاونٹ لنک کیجیے اور کھیلنا شروع کر دیجیے۔ گھر والوں کو بھی پتہ نہیں چلے گا۔ بچے عام طور پر رازدارانہ انداز میں والدین کے موبائل اور ان کے بینک اکاونٹ سے کھیلتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے کے ذمہ داران بھی اس جانب توجہ دیں۔ اس کے خلاف پرزور مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ جووا تو اسلام میں یوں بھی حرام ہے۔ لہٰذا مسلم علما جمعہ کے خطبوں اور دیگر تقاریر میں اس برائی کے نقصانات بتائیں اور لوگوں کو اس کے خلاف بیدار کریں۔ ورنہ یہ لعنت پورے معاشرے کو گھن کی طرح چاٹ جائے گی اور ہمیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔
رابطہ۔ 9818195929
[email protected]