فریاد
ڈاکٹر شگفتہ خالدی
جموں و کشمیر میں آنگن واڑی کارکن خواتین برسوں سے اپنے بنیادی حقوق اور جائز مطالبات کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس سنگین مسئلے پر مکمل طور پر خاموش اور بے حس نظر آتی ہے۔ آنگن واڑی خواتین، جنہیں معاشرے کی بنیاد اور بچوں و ماؤں کی صحت و تعلیم کا ستون کہا جاتا ہے، آج خود عدم توجہی، استحصال اور ناانصافی کا شکار ہیں۔ ان کے مسائل سنگین ہیں، لیکن حکومت کا رویہ ایسا ہے جیسے یہ مسائل موجود ہی نہ ہوں۔آنگن واڑی کارکن خواتین کا بنیادی کردار حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال، غذائیت، ابتدائی تعلیم اور صحت سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔ یہ خواتین دور دراز دیہی علاقوں سے لے کر شہری بستیوں تک خاموشی سے اپنی خدمات انجام دیتی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں نہ سرکاری ملازم کا درجہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی مناسب تنخواہ۔ آج کے مہنگائی کے دور میں آنگن واڑی خواتین کو جو معمولی اعزازیہ دیا جاتا ہے، وہ ان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آنگن واڑی خواتین سے کام تو مکمل سرکاری ملازم جیسا لیا جاتا ہے، مگر حقوق کسی بھی سرکاری ملازم جیسے نہیں دیے جاتے۔ نہ مستقل نوکری، نہ پنشن، نہ طبی سہولیات اور نہ ہی سماجی تحفظ۔ کئی خواتین دہائیوں سے خدمات انجام دے رہی ہیں، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد ان کے پاس کوئی محفوظ مستقبل نہیں ہوتا۔ یہ کھلی ناانصافی نہیں تو اور کیا ہے؟
جموں و کشمیر میں آنگن واڑی خواتین نے بارہا اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے۔ انہوں نے احتجاج کیے، دھرنے دیے، یادداشتیں پیش کیں، مگر ہر بار انہیں صرف وعدے ہی ملے۔ عملی اقدامات آج تک نہیں اٹھائے گئے۔ حکومت کی یہ خاموشی اس بات کی عکاس ہے کہ خواتین کارکنوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ تاثر مضبوط ہو چکا ہے کہ حکومت آنگن واڑی خواتین کے مسائل پر مست ہے۔
آنگن واڑی مراکز کی حالت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ کئی مراکز خستہ حال عمارتوں میں چل رہے ہیں، کہیں پینے کے پانی کی سہولت نہیں، کہیں بیت الخلا موجود نہیں۔ ان تمام حالات میں بھی آنگن واڑی خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیں۔ حکومت اگر واقعی بچوں اور ماؤں کی فلاح چاہتی ہے تو سب سے پہلے ان خواتین کے مسائل حل کرنا ہوں گے جو اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
دیہی علاقوں میں کام کرنے والی آنگن واڑی خواتین کو اضافی مشکلات کا سامنا ہے۔ لمبے فاصلے، کم وسائل اور سماجی دباؤ کے باوجود یہ خواتین اپنی خدمات جاری رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں عزت، تحفظ اور مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ کئی بار تاخیر سے اعزازیہ ملنا معمول بن چکا ہے، جس سے ان کے گھریلو حالات مزید خراب ہو جاتے ہیں۔
یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اگر آنگن واڑی خواتین ہڑتال پر چلی جائیں تو پورا نظام درہم برہم ہو جائے۔ بچوں کی غذائیت، ماؤں کی صحت اور ابتدائی تعلیم کا سلسلہ متاثر ہوگا۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا نہیں جا رہا۔ صرف بیانات اور فائلوں میں دبے وعدے ان خواتین کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ جموں و کشمیر میں آنگن واڑی خواتین کے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ حکومت کو مستی اور خاموشی چھوڑ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ آنگن واڑی خواتین کو مناسب تنخواہ، سرکاری درجہ، سماجی تحفظ اور بہتر کام کے حالات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر حکومت نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو یہ ناانصافی نہ صرف ان خواتین کے ساتھ ہوگی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے ساتھ بھی۔ آنگن واڑی خواتین عزت، انصاف اور حق کی حقدار ہیں، اور یہ حق انہیں ہر صورت ملنا چاہیے۔