ملک کے آئین نے دفعہ 25 کے تحت ہر شہری کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی پسند کے مذہب کو اختیار کرے ،اس پر عمل کرے اور اس کی تبلیغ کرے اور یہ حق مسلمانوں کو بھی آئین کے تحت حاصل ہے بلکہ مسلمانوں پر اضافی ذمہ داری بھی ہے ۔ قرآن مجید میں سورۃ آل عمران آیت نمبر 110 میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے ’’ تم بہترین امت ہوجس کو انسانوں میں بھیجا گیاہے۔ تم نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہواور اللہ پر ایمان رکھتے ہوــ‘‘۔ اس کے علاوہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دنیا میں جتنے لوگ بھی مذہب تبدیل کرتے ہیں ان میں سب سے زیادہ اسلام میں ہی داخل ہوتے ہیں۔ گوگل سرچ میں Fastest growing religion سرچ کرنے پر ہمیشہ جواب Islam ہی آتا ہے لیکن ہمارے ملک میں سیاسی ضروریات کے تحت آئینی اختیارات کو چھین لینے کی کوششوں کی تاریخ رہی ہے ۔ 1975 کی ایمرجنسی تو اس کی صرف ایک مثال ہے ۔ تبدیلیِ مذہب کو لیکر موجودہ شور شرابہ انہیں کوششوں کی ایک کڑی ہے۔حالیہ تاریخ میں تبدیلی مذہب کا ایک قابل ذکر واقعہ ہوا تھا جب کہ فروری 1981 میں تملناڈو کے ترونلویلی ضلع کے میناکشی پرم گائوں کے تقریباََ ڈیڑھ سو دلت خاندانوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ حالانکہ ان کا مذہب تبدیل کرنے کا سبب اونچی ذات کے لوگوں کا ظالمانہ رویہ تھا ۔ لیکن بعض ہندو تنظیموں نے اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلائی اور اس کو خلیجی ممالک سے آنے والی رقم کی لالچ میں کی گئی تبدیلی قرار دیا۔ پورے ملک میں دیواریں ’’ دھرمانترڑ نہیں چلے گا، پیٹرو ڈالر نہیں چلے گا ‘‘ کے نعروں سے رنگ دی گئیں۔ وراٹ ہندو سمیلن کا قیام ہوا، جس نے بوٹ کلب دلی پر اپنی طاقت کا عظیم الشان مظاہرہ کیا اور کانگریس کے لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ تک اس میں شریک ہوئے۔ یہاں تک کہ اٹل بہاری باجپائی جیسے معتدل مزاج لیڈر نے بھی میناکشی پرم جاکر لوگوں سے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کی اپیل کی۔ سماجیات کے ماہرین کے مطابق مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سماج میں پھیلی نابرابری اور اور اونچے طبقوں کے ہاتھوں لگاتار ہونے والی بے عزتی ہے۔ جب کہ ہندو تنظیمیں اسے لالچ اور خوف کا نتیجہ قرار دیتی ہیں۔
مسلمانوں کی صدیوں کی حکمرانی کے دور میں ، انگریزوں کی گڑھی ہوئی کہانیوں سے قطع نظر ہندئوں کو نہ تو خوفزدہ ہو کر اپنا مذہب تبدیل کرنا پڑا اور نہ کسی لالچ میں آ کر انہوںنے اپنا مذہب چھوڑا۔ بلکہ تاریخ گواہ ہے کہ مغلوں کے دور میں سپہ سالار کا عہدہ اکثر راجپوتوں کے پاس رہا اور شاہی فوج کا ایک بڑا حصہ راجپوتوں پر مشتمل ہوتا تھا۔ باشاہوں نے بطور مذہب اسلام کی ترویج کے لئے کبھی کوششیں نہیں کیں۔ ہاں مسلمانوں کے حسن سلوک اور خانقاہوں اور اولیاء اکرام کے اثرات میں لوگوں نے ضرور اسلام قبول کیا۔ اگر لالچ اور زور زبردستی کے قصوں میں حقیقت ہوتی تو برصغیر میں آبادی کا تناسب آج کی حالت کے برعکس ہوتا۔ آج غربت کی حالت میں جی رہے خوفزدہ مسلمان نہ تو لالچ دینے کی حیثیت میں ہیں اور نہ خوفزدہ کرنے کی ۔ صاف ظاہر ہے اگر اکثریت میں کوئی خوف ہے تو بے بنیاد ہے اور سیاسی مقصد سے جان بوجھ کر پیدا کیا جارہا ہے۔ ہاں اکثریت کو اپنے ہم مذہب لوگوں کی مذہب سے بیزاری کی وجوہات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ جس کی سب سب سے بڑی وجہ عزت نفس کا مجروح ہونا ہے۔ چاہے مندروں میں داخلے کا معاملہ ہو، بارات میں گھوڑے پر بیٹھنے کا یا ساتھ میں کھانے پینے کا یا محض برابر میں بیٹھ جانے کا ۔ آج کے دور میں انسان کسی قسم کی تفریق کا روادار نہیں۔ جو عزت اسلام نے انسان کو ڈیڑھ ہزار سال قبل بخشی تھی ،انسان آج بھی اس کے متمنی ہیں اور یہی کشش ان کو اسلام کے قریب لے جاتی ہے۔ جسے تسلیم نہ کر کے لالچ یا خوف کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ موجودہ حکمراں جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی تفریقی مدعوں کو ہوا دینے کی لگاتا ر کوشش کی ہے۔ چاہے لو جہاد کے متعلق قانون بنانے کا معاملہ رہا ہو یا تبدیلی مذہب کے لئے آرڈیننس لاگو کرنے کایا مسجدوں کی شہادت کے حالیہ واقعات۔ موجودہ حکمرانوں کی ترجیحات میں عوام کی فلاح و بہبود مہنگائی، علاج کی سہولیات یا تعلیم دور دور تک نظر نہیں آتیں۔ صرف متفرقانہ خطو ط پر عوام کی تقسیم میںہی اُمید کی کرن نظر آتی ہے حالانکہ بنگال میں اس طرح کی اُمید بَر نہیں آئی ہے۔ اب اتر پردیش اس قسم کی سیاست کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ کیوں کہ صوبائی اسمبلی کے الیکشن میں کچھ ہی مہینے باقی ہیں۔ حالیہ پنچائت الیکشن کی نتائج نے حکمراں جماعت بی جے پی کو ہکا بکا کر دیا ہے جس میں اسے زیادہ تر نشستوں پر شکست ہوئی ہے۔ اتر پردیش سب سے اہم صوبہ ہے، یہاں کی شکست 2024 کے پارلیمانی انتخابات کی اُمیدوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔ موجودہ حکمراں جماعت کی حکمت عملی ہندئو ں کو خوفزدہ کر کے ووٹ پولیرائز کر نے کی رہی ہے۔ تبدیلی مذہب کا مدعا اسی لئے زور شور سے اٹھایا جارہا ہے۔ تبدیلی مذہب کو لیکر موجودہ ہنگامہ آرائی حکمراں جماعت کی اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہو تی ہے جو اس نے مہنگائی اور کرونا کی وباء میں عوام کے مصائب پر بے حسی سے توجہ ہٹانے کے لئے وضع کی ہے۔ حال ہی میں دو اسلامی اسکالروں ڈاکٹر محمد عمر گوتم اور مولاناجہانگیر قاسمی کو اتر پردیش اے ٹی ایس نے گرفتار کیا ہے۔ ان پر ایک ہزر لوگوں کی تبدیلی مذہب کا الزام لگایا گیا ہے۔ ڈاکٹر محمد عمر گوتم کو اس ریکیٹ کا سرغنہ بتایا گیا ہے ۔ انہوں نے تقریباََ پینتیس سال قبل نوجوانی میں اسلام قبول کیا تھا اور وہ بھی کسی خوف یا لالچ کے بغیر اپنے مسلم دوستوں کی خدمت اور حسن اخلاق اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر ۔ ان کاصل نام شیام پرساد سنگھ گوتم تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے خود کو اسلام کی تبلیغ کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ انہوں نے دہلی میں ایک مرکز ’ اسلامی دعویٰ سینٹر ‘ کے نام سے قائم کیا ، جہاں ایسے لوگوں کی قانونی مدد کی جاتی تھی جو اسلام کی سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرنا چاہتے تھے۔ ایسے لوگ سارع قانونی تقاضے پورے ہونے پر اسلام قبول کرتے تھے اور اس کا ان کو ملک کے دستور کے تحت حق حاصل ہے۔ لیکن حسب دستور گودی میڈیا کی اچھل کود دیکھنے کے لائق بھی نہیں ہے۔ جیسا کہ اسلام یا مسلمان سے متعلق کسی بھی موضوع پر ہوتا ہے۔ انھیں بدنام کرنے میں گودی میڈیا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہا ہے، ان کا تعلق پاکستان، آئی ایس آئی سے لیکر لشکر طیبہ تک سے جوڑ دیا گیا ہے اور دہشت گرد تک کہا جا رہا ہے۔ان پر غیرملکی ایجنسیوں سے پیسہ لیکر تبدیلی مذہب میں استعمال کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے اور اس سلسلے میں ای ڈی نے دہلی میں ایک کیس بھی درج کیا ہے۔ تبدیلی مذہب قانون کے مطابق لالچ دیکر ، خوف زدہ کرکے یا دھوکا دیکر مذہب تبدیل کرانا جرم ہے لیکن ان لوگوں کے متعلق ابھی تک کسی نے اس قسم کی کوئی شکایت نہیں کی ہے ۔ تبدیلی مذہب قانون ہونے کے باوجود ان پر قومی سلامتی ایکٹ، گینگسٹر ایکٹ کی دفعات لگائی گئی ہیں بلکہ ان کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ان دونوں اسلا می شخصیا ت پر جو الزامات عائد کئے گئے ہیں اس کا فیصلہ تو عدالت کرے گی ہی ۔ لیکن میڈیا کے ذریعہ ان کی جو کردار کشی کی جا رہی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
۔رابطہ9450191754,
Email: [email protected]