سرینگر// انتظامیہ نے کہا ہے کہ 10 ویں اور 12 ویں جماعتوں کے بغیر تمام اسکول درس و تدریس کیلئے بند رہیں گے ۔ چیف سیکریٹری کی سربراہی میںریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے دوران فیصلہ لیا گیا’ صرف دسویں اوربارہویں جماعت‘ کے طلاب کو اسکولوں میں حاضر ہونے کی اجازت دی جائے گی تاہم ذاتی طور پر 50 فیصد سے زیادہ طلاب و عملہ اسکولوں میں نہیں ہونے چاہئیں، تاہم ان تمام طلبا کے والدین سے رضامندی حاصل کی جائے گی جو اسکول جانے کے خواہشمند ہوںگے‘‘۔ میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹریز فنانس، ایڈیشنل چیف سیکریٹری صحت و طبی تعلیم کے علاوہ پرنسپل سیکریٹری داخلہ ، ڈویژنل کمشنروں ، ڈپٹی کمشنروں ،پولیس سپرنٹنڈوں اور انتظامیہ کے دیگر افسران نے شرکت کی۔حکومت نے کہا کہ بارہویں جماعت کے طلاب کو مخصوص دن میں ٹیکہ لگائے گئے 50 فیصدطالب علموں اور عملے کو تعلیمی اداروں میں آنے کی اجازت ہوگی۔ حکم نامہ کے مطابق’’ان تمام طلباء کے والدین سے رضامندی حاصل کی جانے چاہیے جو سکول جانے کو تیار ہیں،جبکہ ٹیکہ کاری کے حوالے سے مناسب اسکریننگ سکول کے گیٹ پر کی جانی چاہیے‘‘ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر کوئی طالب علم یا اساتذہ یا اسکول کا دیگر عملہ کھانسی ، نزلہ ، یا بخار کی علامات ظاہر کرتا ہے تو انہیںاسکول میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔آرڈر میں کہا گیا ہے کہ اسکول کے سربراہ کو اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ سماجی دوری اور کوویڈ ضوابط سے متعلق ہدایات پر سختی سے عمل کیا جائے۔اسی طرح ، 10ویںجماعت کے طلباء کیلئے مخصوص دن میں ٹیکہ لگائے طلاب و عملے کیلئے50فیصد محدود رکھی گئی ہے ،جبکہ اسکول منتظمین کی جانب سے کوویڈ مناسب رویے کی تعمیل کو یقینی بنانے کے بعد ، متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے صد فیصد’آرٹی پی سی آر‘کی مناسب اسکریننگ کے بعد اجازت دی جاسکتی ہے۔ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ایسا نہ ہو یا آر ٹی پی سی آر، والدین اور طلبا کی رضامندی سے مشروط ہو۔ جبکہ اسکول کوویڈ سے متعلق ضوابط پر سختی سے عمل کریں ۔ حکم نامہ کے مطابق 10ویں اور12ویں جماعت کے بغیر باقی تمام اسکول میں ذاتی طور پر درس و تدریس کیلئے بند رہیں گے۔حکم نامہ کے مطابق سول سروسز ، انجینئرنگ اور این ای ای ٹی کے کوچنگ سینٹرز کو مکمل طور پر ٹیکے لگائے گئے عملے اور طلباء کے لیے محدود ذاتی طور پر پڑھانے کی اجازت ہے۔حکم نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ سیول سروسز ، انجینئرنگ اور این ای ای ٹی کے بغیر دیگر تمام کوچنگ سینٹرز سائٹ پر یا ذاتی طور پر پڑھانے کے لیے بند رہیں گے،تاہم جن تربیتی مراکز کو کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے ہوں پر بھی طلاب کی ٹیکہ کاری کو یقینی بنایا جائے۔
مزید105متاثر | 26دنوں بعد وائرس سے 2فوت
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں26دنوں کے بعدکورونا وائرس سے ہونے والے اموات میں اضافہ ہوا ہے۔ سنیچر کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے 2افراد فوت ہوگئے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4414ہوگئی ہے۔ اس سے قبل 15اگست کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے 2اموات ہوئی تھیں۔ اس دوران پچھلے 24گھنٹوں میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 52ہزار282 ٹیسٹ کئے گئے جن میں 9مسافروں سمیت105افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 26ہزار904ہوگئی ہے۔ جموں و کشمیر میں کورونا وائرس سے 105افراد متاثر ہوئے جن میں 16جموں جبکہ 89کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 89افراد میں6بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرکے کشمیر پہنچے جبکہ دیگر 83افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میںمتاثر ہونے والے 89افراد میں سرینگر میں شب سے زیادہ 41، بارہمولہ میں13، کپوارہ میں 3، اننت ناگ میں 5، بانڈی پورہ میں 6، گاندربل میں 11، کولگام میں 4جبکہ پلوامہ اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 3ہزار 603ہوگئی ہے۔ اس دوران شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف مڈیکل سائنسز صورہ میں کورونا وائرس سے ایک شخص فوت ہوگیا ہے۔ کشمیر میں متوفین کی مجموعی تعداد 2246ہوگئی ہے۔ جموں صوبے کے کٹھوعہ،سانبہ، کشتواڑ اور پونچھ میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے لیکن دیگر 6اضلاع میں 16افراد مثبت قرار دئے گئے ۔ مثبت قرار دئے گئے 16افراد میں 3بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرکے جموں پہنچے جبکہ دیگر 13افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے کے16متاثرین میں ضلع جموں میں 3، ادھمپور میں 1، راجوری میں 1، ڈوڈہ میں 7، رام بن میں 1 جبکہ 3ریاسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دوران سی ایچ سی بھدروہ میں ایک شخص کورونا وائرس سے فوت ہوگیا ہے۔ مرنے والے شخص کو سنیچر کو کیمونٹی ہیلتھ سینٹر بھدروہ میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ اتوار کو کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیا سے فوت ہوگیا ہے۔
سرینگر میںکیسوں میں اضافہ | 2 علاقے مکمل طور پر سیل
پرویز احمد
سرینگر //سرینگر شہر میں پچھلے ایک ہفتہ کے دوران کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ کے بعد حکام نے وائرس کو قابو کرنے کیلئے قوائد و ضوابط سختی سے لاگو کرنے کا فیصلہ کیاہے اور سرینگر شیر کے رنگپورہ الہی باغ کی لین نمبر3اورسید کالونی اونتہ بھون کی لین نمبر ایک کو محدود پابندی والے علاقوں میں شامل کرکے سیل کردیا گیا ہے۔ چیف میڈیکل سرینگر ڈاکٹر جمیل میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا’’ سرینگر شہر کے چند علاقوں میں مثبت کیسوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ سماجی تقریبات کے دوران ایس او پیز کا خیال نہیں رکھتے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کو ابتدائی سطح پر روکنے کیلئے سرینگر شہر میں چند علاقوں میں محدود پابندیاں( Micro Containment ) علاقوں میں شامل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ علاقوں کو سیل کرنے اور لوگوں کی نقل و حمل پابندی کا کام ضلع انتظامیہ کرتی ہے۔