فکرو فہم
زہرا بنت علی
انسانی معاشرہ خاندان سے تشکیل پاتا ہے اور خاندان کی بنیاد والدین اور اولاد کے مضبوط تعلق پر قائم ہوتی ہے۔ اگر گھر کا ماحول محبت، احترام، برداشت اور ذمہ داری سے بھرپور ہو تو معاشرہ بھی ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ آج کے جدید دور میں جہاں زندگی کے انداز تیزی سے بدل رہے ہیں وہاں خاندانی رشتوں کی نوعیت میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ مادی ترقی، مصروفیات، سوشل میڈیا، ٹیکنالوجی اور انفرادی سوچ نے انسان کو سہولتیں تو دی ہیں مگر بعض اوقات رشتوں میں دوریاں بھی پیدا کر دی ہیں۔ ایسے حالات میں اولاد کی اخلاقی ذمہ داریوں کا موضوع نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے لیکن اس نعمت کے ساتھ فرائض اور ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ والدین اولاد کی پیدائش سے لے کر جوانی تک اس کی پرورش، تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کے لئے بے شمار قربانیاں دیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات، آرام اور ضروریات کو قربان کرکے اولاد کے لئے آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ اس لئے اولاد پر لازم ہے کہ وہ اپنے والدین کے حقوق پہچانے اور اپنی ذمہ داریوں کو خلوص دل سے ادا کرے۔سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری والدین کا احترام ہے۔ ہمارے دین اسلام اور مشرقی تہذیب میں والدین کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اولاد کو چاہئے کہ وہ اپنے والدین سے ادب سے گفتگو کرے، ان کے سامنے آواز بلند نہ کرے، ان کے جذبات کا خیال رکھے اور ہر حال میں ان کی عزت و توقیر برقرار رکھے۔ والدین کا احترام دراصل اپنی تربیت اور انسانیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
والدین کی اطاعت بھی اولاد کا اہم فرض ہے۔ والدین زندگی کے تجربات رکھتے ہیں اور وہ ہمیشہ اپنی اولاد کی بہتری چاہتے ہیں۔ ان کی جائز باتوں کو ماننا، نصیحتوں پر عمل کرنا اور ان کے مشوروں کو اہمیت دینا اولاد کے لئے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔ جو نوجوان اپنے والدین کی رہنمائی کو قبول کرتے ہیں وہ زندگی کے نشیب و فراز میں بہتر فیصلے کر پاتے ہیں اور غلط راستوں سے محفوظ رہتے ہیں۔اولاد کی ایکبڑی ذمہ داری والدین کی خدمت ہے خصوصاً اس وقت جب والدین بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں۔ بڑھاپا انسان کی زندگی کا ایسا مرحلہ ہے جب اسے سہارے، محبت اور توجہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ جو والدین کبھی اولاد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتے تھے ایک وقت آتا ہے جب وہ خود اولاد کے محتاج ہو جاتے ہیں۔ ایسے وقت میں ان کی خدمت کرنا، انہیں وقت دینا، ان کی ضروریات پوری کرنا، دوا علاج کا خیال رکھنا اور ان کے دل کو خوش رکھنا اولاد کا فرض ہے۔والدین کی مالی کفالت بھی اولاد کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اگر والدین کمزور، بیمار یا مالی مشکلات کا شکار ہوں تو اولاد کو چاہئے کہ ان کی مدد کرے۔ والدین کو محتاجی یا تنہائی کا احساس دلانا نہایت افسوسناک عمل ہے۔ خوش نصیب وہ اولاد ہے جو اپنے والدین کی ضروریات پوری کرکے ان کی دعائیں حاصل کرتی ہے۔اولاد کی اخلاقی ذمہ داری صرف والدین تک محدود نہیں بلکہ پورے خاندان سے وابستہ ہے۔ بہن بھائیوں سے محبت، رشتہ داروں سے حسن سلوک، خاندان کے بزرگوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت بھی اچھی اولاد کی پہچان ہے۔ جو اولاد گھر کے افراد کے ساتھ محبت اور خیرخواہی کا رویہ اپناتے ہیں وہ خاندان میں اتحاد اور خوشی کا سبب بن جاتے ہیں۔ اپنے کردار اور اعمال سے والدین کا نام روشن کرنا بھی اولاد کا عظیم فرض ہے۔ اچھی تعلیم حاصل کرنا، ایماندار شہری بننا، معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا، سچائی اور دیانت داری اختیار کرنا، قانون کی پابندی کرنا اور دوسروں کے حقوق کا احترام کرنا ایسے اوصاف ہیں جو والدین کے لئے باعث فخر بنتے ہیں۔ والدین اس وقت سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں جب لوگ ان کی اولاد کی اچھے اخلاق اور کامیابی کی تعریف کرتے ہیں۔آج کے نوجوانوں کے لئے جدیدیت اور روایات کے درمیان توازن قائم رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ جدید تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور ترقی یافتہ سوچ وقت کی ضرورت ہے، مگر اپنی تہذیب، دینی اقدار اور خاندانی روایات کو بھلا دینا درست نہیں۔ ترقی وہی کامیاب سمجھی جاتی ہے جو اپنی جڑوں سے جڑی رہے۔ اولاد کو چاہئے کہ وہ نئی دنیا کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے بزرگوں کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور موبائل فون نے انسانی زندگی کو بہت متاثر کیا ہے۔ بعض نوجوان اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے، والدین سے بات کرنے اور ان کے دکھ سکھ سننے کا وقت بھی نہیں نکالتے۔ حالانکہ والدین کو مہنگے تحفوں سے زیادہ اپنی اولاد کی توجہ، محبت اور وقت درکار ہوتا ہے۔ چند لمحے والدین کے ساتھ بیٹھنا، ان کی خیریت پوچھنا، ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانا اور ان کے احساسات کو سمجھنا بھی بڑی نیکی ہے۔
اولاد کو چاہیے کہ وہ والدین کے سامنے ضد، غصہ اور بدتمیزی سے گریز کرے۔ اختلافِ رائے ہر گھر میں ہو سکتا ہے لیکن اس اختلاف کو احترام کے دائرے میں رکھنا ضروری ہے۔ نرم لہجہ، برداشت اور صبر ہر مسئلے کا بہترین حل ہے۔ سخت الفاظ کبھی کبھی ایسے زخم دے جاتے ہیں جو عمر بھر نہیں بھرتے۔
تعلیم یافتہ اولاد پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی رہنمائی کرے، انہیں اچھی تعلیم اور اچھے اخلاق کی طرف راغب کرے۔ گھر میں مثبت ماحول قائم رکھنے میں ہر فرد کا کردار ہوتا ہے، مگر اولاد کا کردار سب سے نمایاں ہوتا ہے۔
اگر اولاد اپنے والدین کی نافرمانی کرے، انہیں تنہا چھوڑ دے، ان کی عزت نہ کرے یا ان کے حقوق پامال کرے تو ایسے گھر سکون سے محروم ہو جاتے ہیں۔ والدین کی آہیں اور دکھ انسان کی زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں جبکہ ان کی دعائیں کامیابی کے دروازے کھول دیتی ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اولاد کی اخلاقی ذمہ داریاں صرف چند الفاظ یا رسمی باتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ اگر ہر بیٹا اور بیٹی اپنے والدین، خاندان اور معاشرے کے حقوق کو سمجھے اور انہیں محبت، خلوص اور احساس ذمہ داری کے ساتھ ادا کرے تو نہ صرف گھر جنت نظیر بن جائیں گے بلکہ پورا معاشرہ امن، محبت، احترام اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گا۔