میم دانش
سوشیل میڈیال پر تیزی سے وائرل ہونے والا ’’نائٹروفوران‘‘ (Nitrofuran) ایک سرطان پیدا کرنے والا مادّہ ہے جو کہ خبروں کے مطابق انڈوں میں پایا گیاہے۔وہی انڈے جنہیں پروٹین، وائٹامن اور نیوٹرشن کا ایک اہم اور سستا ذریعہ مانا جاتا ہے ۔ انڈوں میں نائٹروفوران کی موجودگی کہاں تک صحیح ہی اس کا فیصلہ حکومتی اقدامات پر منحصر ہے اور اس سلسلے میں حال ہی میں ایک تحقیقی عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس معاملے پر مزید بات کریں یہاں ہم اس نائٹروفوران مادہ کے بارے میں سائنسی بنیادوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ سب سے پہلے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس پر پہلے سے ہی ہندوستان اور یورپ میں پابندی لگائی گئی ہے ۔ نائٹروفوران کو فارمز اور پولٹریز میں اینٹی بائیوٹک کے طور پر استعمال کیا جاتا تھااورجونہی یہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ اس قسم کے مادہ سے سرطان کا خطرہ لاحق ہے تو اس پر فوراً پابندی عائد کر دی گئی ۔ اس پابندی کے بعد بہت سے ماہرین نے اس بات پر توجہ مرکوز کرائیں کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی بھی چیز میںنائٹروفوران منفی پایاجائے بلکہ یہ مختلف ذریعوں سے بھی ہو سکتا ہے جیسے کہ ماحولیاتی آلودگی۔ ماہرین نے یہ فیصلہ لیا کہ اس نائٹروفوران کی محفوظ حد مقررکی جائے تاکہ اس سے احتیاط برتی جا سکے۔اس مادہ کی محفوظ حد ایک مائکروگرام سے کم مقررکی گئی جبکہ حالیہ معاملے میں اس منفرد برانڈ کے انڈوں میں 0.74 مائکروگرام نائٹروفوران پایا گیا ہے جو کہ ماہرین کی مقرر کردہ مقدار سے بھی کم ہے ۔ اس بات کی طرف بھی توجہ مبذول کرانے کی ضرورت ہے کہ سرطان پر تحقیق کرنے والے بین الاقوامی ادارے (آئی اے آر سی) نے Carcinogens کو چار زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے درجے پر وہ ہیں جن سے انسانوں پر سوفیصد سرطان ہونے کا خطرہ لاحق ہے جیسے کہ تنباکو نوشی ، شراب، شمسی تابکاری وغیرہ، دوسرے درجے کے پہلے حصے میں وہ جن سے سرطان ہون کا ممکنہ شبہ ہواور جس میں انسانو ں پر کم لیکن جانوروں پر زیادہ شواہد ہے،ان میں سرخ گوشت، سٹیرائڈس، حد سے زیادہ درجہ حرات پر تلی ہوئی غزائی اجناس وغیرہ شامل ہیں،درجہ دوم کے دوسرے حصے میں وہ جن سے سرطان ہونے کا امکان ہے ،مگر انسانوں پر کم یا منفی اثرات دیکھے جائیں اور جانوروںپر کم یا بالکل کم، اس میں پیٹرول اور ویلڈنگ کے دھویں،اچارالیویرہ وغیرہ شامل ہیں ۔ تیسرے نمبر پر وہ جن سے انسانوں اور جانوروں دونوںمیں سرطان ہونے کے ناکافی شواہد ہوں بلکہ اسے مزید تحقیق کے دائرے میں ہی رکھا گیا، اس میں چائے ، کافی، پالتھین، فلوریسنٹ وغیرہ اور آخر پر وہ قسم جس کے شواہد یہ ظاہر کریں کہ ان سے یہ بیماری لاحق نہیں ہو سکتی ، اس قسم کے گروپ میں صرف ایک ہی مادہ پایا گیا تھا جو سینتھٹک کپڑوں کو تیار کرنے کے کام آتا تھا جبکہ ۲۰۱۹ء میں اس مادہ کو تیسرے زمرے میں شامل کر دیا گیاتھا۔
اس تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پوری طرح سے جانچ پڑتال اور ماہرین و حکومتی احکامات کا انتظار کیا جائے ۔ایسے تنازعوں اور معلوں سے نہ صرف لوگ تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں بلکہ اس پیشہ سے وابستہ افراد بھی کافی حد تک متاثر ہو جاتے ہیں۔ اوپر ہم نے نائٹروفوران اور Carcinognes سے متعلق ایک سرسری جائزہ لیا ، اب چلتے ہیںاس واقعے کی بنیاد کی طرح جہاں سے یہ ابھر کر سامنے آیا۔
دسمبر۲۰۲۵ء کے اوائل میں، یوٹیوب پر ایک وائرل ویڈیوجو ایک آزاد پروڈکٹ ٹیسٹنگ چینل نے شائع کی تھی،نے پورے ہندوستان میں انڈوں کی مارکیٹ کے بارے میں شدید تشویش پیدا کر دی، خصوصاً Eggoz Nutrition جیسے پریمیم برانڈز کے انڈوں کے متعلق۔ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا کہ ان انڈوں کے ایک نمونے میں AOZ نامی مادّے(نائٹروفوران) کی معمولی مقدار (0.74مائیکروگرام)پائی گئی ہے ۔نائٹروفوران وہ اینٹی بائیوٹک ہے جس کا استعمال خوراک کے لئے پالے جانے والے جانوروں میں سرطان کے خطرے کی وجہ سے ممنوع قرار دیا جا چکا ہے۔حالانکہ اس ٹیسٹنگ چینل نے حال ہی میں ایک دوسرا وڈیو بھی اپنی یوٹوب چینل پر چڑھایا اور اس بار اس متنازعہ مسلے پر مزید تفصیل فراہم کرتے ہوئے انڈوں کے فوائد اور ان کی اہمیت بیان کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انڈوں کی ایک منفرد برینڈ کی بات کی تھی اور دیگر برینڈس کو اس زمرے میں شامل کرنا غلط ہے۔ اس سلسلے میں ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ عنقریب ہی مارکیٹ سے دیگر برینڈس کی بھی جانچ کر کے لوگوں کے سامنے رکھیں گے تاکہ شک و شبہات دور ہو سکیں۔یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک اور ٹوئٹر جیسے پلیٹ فارمز پریہ ویڈیو پھیلتے ہی خوف و دہشت پھیل گیا اور کئی صارفین نے دعویٰ کیا کہ انڈے سرطان کا سبب بن سکتے ہیں اور لوگوں سے فوراً انڈوں کا استعمال چھوڑنے کی اپیل کی۔اس تنازعے کا مرکزی برانڈ Eggoz Nutritionفوراً سامنے آیا اور ان تمام دعووں کو مسترد کردیا۔کمپنی کا کہنا تھا کہ ان کے انڈے مکمل طور پر محفوظ ہیں، معیارات پر پورا اترتے ہیں اور سخت کوالٹی کنٹرول کے تحت تیار کئے جاتے ہیںجس میں زیرو اینٹی بائیوٹک استعمال ہے۔کمپنی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ NABL سے منظور شدہ آزادانہ لیبارٹری سے دوبارہ ٹیسٹنگ کروائیں گے تاکہ اپنے دعوؤں کو ثابت کر سکیں۔
ڈاکٹر مانن وورا جو سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر سامنے آئے، نے کہا کہ اگرچہ یہ نتائج حیران کن ہیںلیکن اس قدر معمولی مقدار یہ ثابت نہیں کرتی کہ انڈے کھانے سے سرطان ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ سپلائی چین میں ممنوعہ ادویات کے غلط استعمال کا ہے، نہ کہ انڈے کھانے کا۔دیگر ماہرین نے بھی وضاحت کی کہ نائٹروفوران کو واقعی DNA کو نقصان پہنچانے کے باعث ممنوع قرار دیا گیا ہے۔مگر رپورٹ کی گئی مقداریں اُن مقداروں سے بہت کم ہیں جو جانوروں پر کئے گئے سرطان کے تجربات میں استعمال ہوئیںاور انسانوں میں اس قدر معمولی مقدار سے سرطان ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
اس سلسلے میں جموں و کشمیر میں حکام نے معاملے کی حصاصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فوری تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ پتا لگایا جا سکے کہ آلودہ یا جعلی انڈے تو فروخت نہیں ہو رہے۔ہندوستان کے فوڈ ریگولیٹر FSSAI کی پالیسی یہ ہے کہ نائٹروفوران کی ایک ذرّے کی مقدار بھی قابلِ قبول نہیںجسے’’زیرو ٹالیرنس‘‘ کہا جاتا ہے۔اس وجہ سے قانون کے نفاذ، لیباریٹری کے معیار اور سپلائی چین کے نگرانی نظام پر سوال اٹھ رہے ہیں۔کچھ صارفین نے روزمرہ خوراک کی حفاظت پر شدید تشویش ظاہر کی اور کمپنیوں اور ریگولیٹری اداروں سے جواب طلب کیاجبکہ لوگوں نے توپریمیم برانڈز پر بھی کم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے مقامی اور فارم فریش انڈوں کو بہتر قرار دیا۔
جعلی اور سرطان پھیلانے والے انڈوں کی وائرل کہانی اب ایک بہت بڑا اور سنجیدہ فوڈ سیفٹی مکالمہ بن چکی ہے جس میں اینٹی بائیوٹک کے غلط استعمال، نگرانی کی کمزوری اور برانڈڈمقامی غذائی مصنوعات پر عوامی اعتماد جیسے پہلو شامل ہیں۔اگرچہ سوشل میڈیا کے دعووں نے خوف پیدا کیا، مگر سائنسی شواہد اور ماہرین رائے دیتے ہیں کہ اعتدال کے ساتھ انڈوں کا استعمال اب بھی محفوظ ہے۔یہ مسئلہ سنجیدہ اور سخت نگرانی، مؤثر معائنوں اور سخت قانونی عملدرآمد سے حل ہونا چاہیے نہ کہ خوف، افواہوں اور غلط معلومات سے۔راقم نے پہلے ہی عرض کیا کہ کسی بھی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے پوری طرح سے جانچ پڑتال اور ماہرین و حکومتی احکامات کا انتظار کیا جانا چاہیے ۔ایسے تنازعوں اور معلوں سے نہ صرف لوگ بلکہ اس پیشہ سے وابستہ افراد بھی متاثر ہو جاتے ہیں۔
[email protected]