شخصیات
معراج زرگر
سال 2023میں بجبہاڑہ سب ڈویژنل مجسٹریٹ آفس تبادے کے ساتھ ہی جاوید ٹاک صاحب سے ملنے کا شوق ہوا۔ اگرچہ اُن کے نام اور کام سے ہلکی سی نسبت پیدا ہوچکی تھی، لیکن دل کو ایک آرزو تھی کہ ’’ٹاکـ ‘‘ برانڈ کے اس سپوت سے ملا جائے جو ایک ناقابل یقین سماجی کام میں مگن ہیں۔ کیونکہ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ سے بیس سال کی رضاکارانہ نسبت کے دوران سوپور کے دو ’’ٹاک‘‘ سپوتوں کی عظمت کا ٹھپہ پہلے ہی دل پہ لگ چکا تھا اور ٹرسٹ کا کام اور اس سے والہانہ لگائو رگ و ریشے میں اُتر چکا تھا۔ یہ بالکل ایک غیر ضروری اور حادثاتی نسبت ہے اور اس کا کسی انسان کی عظمت کا احاطہ اُس کی کاسٹ یا ذات سے کرنے سے کوئی بھی واسطہ نہیں ہے۔ خیر، یتیم بچوں کے ایک امداد ی پروگرام کے سلسلے میں جاوید صاحب سے ملاقات ہوئی، مل کر ہی روح کو سکون میسر آیا ہی مگر حیات کو برتنے کا ایک اور سامان ہاتھ لگا۔ اُس کے بعد کچھ دفعہ ملنے کا اتفاق ہوا۔ ایک اور تعلیمی اور جانکاری پروگرام میں جاوید صاحب کا ساتھ ملاقات ہوئی اور بعد میں اُن کے کچھ انتہائی قیمتی خیالات سے ایک عجیب ملکوتی کیفیت سے واسطہ پڑا۔ جاوید صاحب سچ مُچ ایک زندہ معجزہ ہیں۔
جاوید احمد ٹاک، جنہیں کشمیر کی سرزمین کا ’’’ناقابلِ شکست ہیرو‘‘ کہا جاسکتا ہے، ایک ایسے سماجی کارکن ہیں جو معذور افراد کے حقوق کی جدوجہد کا زندہ نشان ہیں۔ سال 2020 میں انہیں بھارت کے چوتھے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ‘’’پدم شری‘‘سے نوازا گیا۔ وہ زیبہ آپا انسٹی ٹیوٹ آف انکلیوسیو ایجوکیشن کے اعزازی چیئرمین ہیں، جو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے بیج بجہاڑہ میں معذور بچوں کے لیے ایک منفرد تعلیمی ادارہ ہے۔ یہ انسٹی چیوٹ نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ معذور بچوں کی بحالی، کھیلوں، فنون لطیفہ اور خودمختاری کی تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔
1974 میں بیج بیہارہ کے سراف محلہ میں پیدا ہونے والے جاوید صاحب نے جب ۳۲ سال کی عمر میں ایک ملی ٹینٹ حملے میں اپنی ٹانگیں کھو دیں تو انہوں نے ہار نہیں مانی۔ اس کے بجائے انہوں نے اپنی زندگی کو معذور بچوں کی خدمت میں وقف کر دیا۔ آج ان کا انسٹی ٹیوٹ 260 سے زائد معذور بچوں کو مفت تعلیم، فزیوتھراپی اور سماجی بحالی فراہم کر رہا ہے۔حادثے سے پہلے ان کی زندگی عام طالب علم کی طرح تھی۔ بی ایس سی کے آخری سال میں وہ ایک ایسے واقعے کا شکار ہوئے جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ اس کے باوجود جاوید صاحب نے ہمت نہیں ہاری۔ اسپتال میں بستر پر پڑے رہتے ہوئے بھی انہوں نے تعلیم جاری رکھی۔ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (IGNOU) سے کمپیوٹر ایپلیکیشن اور ہیومن رائٹس میں ڈپلومہ کیا۔ پھر کشمیر یونیورسٹی سے سوشل ورک میں ماسٹرز کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اسپیشل ایجوکیشن میں بی ایڈ (مینٹل ریٹارڈیشن میں اسپیشلائزیشن) اور ایم ایڈ بھی مکمل کی۔ان کی تعلیم کا سفر بہت مشکل تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ’’معذوری نے مجھے دنیا دیکھنے کا نیا زاویہ دیاـ‘‘ ان کی تعلیم نے انہیں سماجی کارکن بننے کا ہنر سکھایا، وہ اب نہ صرف معذور بچوں کی تعلیم دیتے ہیں بلکہ ان کے حقوق کے لیے آواز بھی بلند کرتے ہیں۔
وہیل چیئر پر بیٹھ کر بھی جاوید صاحب نے زندگی کو مثبت زاویے سے دیکھا۔ اس سانحے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ جو شخص کبھی ڈاکٹر بننے کا خواب دیکھتا تھا، وہ اب انسانیت کا معالج بن گیا۔ ملنے والے معاوضے سے انہوں نے غریب بچوں کے لیے مفت تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔ چار معذور بچے جو تعلیم چھوڑ چکے تھے، ان کے پہلے شاگرد بنے۔ آج وہ سب ڈگری یافتہ ہیں اور باعزت روزگار سے منسلک ہیں۔2003 میں انہوں نے ہیومینٹی ویلفیئر آرگنائزیشن ہیلپ لائن کی بنیاد رکھی، جو ایک رجسٹرڈ فلاحی ادارہ ہے، اس کا مقصد معذور افراد کے حقوق کا تحفظ، مفت تعلیم، طبی امداد اور سماجی بحالی ہے۔یہ ادارہ سینکڑوں افراد کو وہیل چیئرز، ہیئرنگ ایڈز، بیساکھیاں اور سمارٹ کین فراہم کر چکا ہے۔ درجنوں بچوں کی کلیفٹ پیلیٹ سرجریاں کروائی گئیں اور متعدد مفت طبی کیمپوں کے ذریعے سینکڑوں بچوں کو علاج اور ادویات فراہم کی گئیں۔
اسی ادارے کی کاوشوں سے کشمیر یونیورسٹی میں’’ورلڈ ڈس ایبلٹی ڈے‘‘ منانے کی روایت شروع ہوئی، جو آج پورے خطے میں پھیل چکی ہے۔ان کی جدوجہد سے تعلیمی اداروں اور سرکاری دفاتر میں ریمپس، سکالرشپس، فیس میں رعایت اور دیگر سہولیات فراہم کی گئیں۔ معذور افراد کے لیے کنوینئنس الاؤنس میں اضافہ ہوا اور انہیں سول سروسز میں شرکت کا حق بھی ملا۔2006 ۔ 2008 کے دوران جاوید احمد ٹاک نے زیبہ آپا انسٹی ٹیوٹ آف انکلیوسیو ایجوکیشن کی بنیاد رکھی، جو جنوبی کشمیر کا پہلا مکس ڈسایبلٹی سکول ہے۔ اس ادارے کا نام انہوں نے اپنی دادی’’ ‘زیبہ آپا‘‘ کے نام پر رکھا، جو جڑی بوٹیوں کے ذریعے لوگوں کا مفت علاج کرتی تھیں۔یہ ادارہ ایک کرائے کے کمرے سے شروع ہوا، جہاں صرف چار بچے تھے۔ آج یہاں 260 سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں، جن میں نابینا، بہرے، گونگے، سیریبرل پالسی اور آٹزم سے متاثر بچے شامل ہیں۔ یہاں بریل، سائن لینگویج، فزیوتھراپی، موسیقی، ہنر مندی اور روزمرہ زندگی کی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں۔یہ ادارہ نہ صرف تعلیم دیتا ہے بلکہ بچوں کو گھروں سے لانے اور واپس چھوڑنے کا انتظام بھی کرتا ہے۔ جاوید صاحب کی جدوجہد صرف تعلیم تک محدود نہیں رہی، انہوں نے عوامی مفاد کے مقدمات دائر کئے، معذور افراد کے حقوق کے لیے آواز بلند کی اور ہزاروں اساتذہ کو بریل اور سائن لینگویج کی تربیت دی۔انہوں نے کشمیر میں معذوری کے تصور کو بدل دیا,جہاں اسے پہلے صرف ہمدردی اور خیرات کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب یہ حقوق اور خودمختاری کی تحریک بن چکا ہے۔ نومبر 2021 کو انہیں پدم شری سے نوازا گیا جو ان کی دو دہائیوں پر محیط جدوجہد کا اعتراف تھا۔
جاوید احمد ٹاک کی جدوجہد کو محض سماجی خدمت کے دائرے میں محدود کرنا دراصل ان کے کام کی وسعت کو کم کرنا ہے۔ ان کا عمل ایک گہری اخلاقی اور وجودی فلسفے کی نمائندگی کرتا ہے۔وہ فلسفہ جس میں انسان اپنے دکھ کو محض ذاتی سانحہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک اجتماعی معنویت میں ڈھال دیتا ہے۔ یہ وہی زاویہ ہے جسے صوفیانہ فکر میں’’درد کی تطہیر‘‘کہا جاتا ہے، جہاں اذیت انسان کو توڑتی نہیں بلکہ اسے ایک نئی بصیرت عطا کرتی ہے۔جاوید صاحب کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی خاموش استقامت (Silent Resilience) نظر آتی ہے۔ وہ شور نہیں کرتے، مگر ان کا عمل خود ایک بلند صدا بن جاتا ہے۔ وہ کسی نظریاتی خطبے یا کسی مولویانہ روش کے بجائے عملی مثال کے ذریعے معاشرے کو بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی سوچ میں خدمت، ہمدردی یا خیرات کا روایتی تصور نہیں بلکہ ایک حقوق پر مبنی شعور کارفرما ہے۔ وہ معذوری کو ترس یا رعایت کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی وقار (Human Dignity) کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
جمالیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو جاوید صاحب کی زندگی ایک’’المیے سے معنی کی تخلیق‘‘ (Creation of Meaning from Tragedy) کی بہترین مثال ہے۔ ان کا وجود ایک ایسے بیانیے میں ڈھل چکا ہے جہاں جسمانی معذوری ایک کمزوری نہیں بلکہ ایک علامت بن جاتی ہے،ایک ایسی علامت جو معاشرے کو آئینہ دکھاتی ہے اور اس کے اندر چھپی بے حسی کو چیلنج کرتی ہے۔ان کے کردار کی ایک اور نمایاں خوبی انکسار اور خودی کا متوازن امتزاج ہے۔ وہ اپنی کامیابیوں کو ذاتی فخر کا ذریعہ نہیں بناتے بلکہ انہیں ایک امانت سمجھتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے اندر ایک مضبوط خودی موجود ہے۔ایسی خودی جو انہیں حالات کے آگے جھکنے نہیں دیتی بلکہ انہیں مسلسل آگے بڑھنے پر آمادہ رکھتی ہے۔جاوید احمد ٹاک دراصل اس تصور کی عملی تعبیر ہیں کہ انسان اپنی تقدیر کا قیدی نہیں بلکہ اس کا خالق بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اپنے وجود کی شکستگی کو ایک اجتماعی طاقت میں بدل دیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حقیقی عظمت جسمانی طاقت میں نہیں بلکہ ارادے کی مضبوطی اور مقصد کی سچائی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ایک فرد بھی، اگر وہ اپنے درد کو شعور میں بدل دے، تو پورے معاشرے کی سمت بدل سکتا ہے۔اسی لیے جاوید احمد ٹاک کی کہانی ایک فکری تحریک ہے۔ایسی تحریک جو ہمیں اپنے اندر جھانکنے، اپنے سماجی رویوں پر سوال اٹھانے اور انسانیت کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔اگر جاوید احمد ٹاک کی جدوجہد کو جدید سماجی فلسفے کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کا کردار ایک منفرد معنویت اختیار کر لیتا ہے۔ وہ ایک فرد کے بجائے ایک بیانیہ (Narrative)، ایک مزاحمت (Resistance) اور ایک امکان (Possibility) کی صورت میں ابھرتے ہیں۔
جاوید صاحب کو تصورِ طاقت کی روشنی میں دیکھا جائے تو معاشرہ محض قوانین اور اداروں سے نہیں بلکہ ان نظر نہ آنے والے ڈھانچوں سے تشکیل پاتا ہے جو طے کرتے ہیں کہ کون ’’نارمل‘‘ہے اور کون’’غیر نارمل‘‘۔ معذور افراد کو حاشیے پر رکھنا بھی اسی طاقت کے جال کا حصہ ہے۔ مگر جاوید صاحب کی جدوجہد اس خاموش طاقت کے خلاف ایک نرم مگر مسلسل مزاحمت ہے۔ وہ کسی تصادم کے ذریعے نہیں بلکہ عمل کے ذریعے اس ڈسکورس کو بدلتے ہیں جس میں معذوری کو کمزوری سمجھا جاتا تھا۔ یوں وہ طاقت کے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے اس کی معنویت کو تبدیل کر دیتے ہیں۔دوسری طرف مکالماتی نظریے کے تناظر میں جاوید صاحب کا کام ایک ایسے عوامی دائرے (Public Sphere) کی تشکیل ہے جہاں معذور افراد محض موضوع نہیں بلکہ خود اپنی آواز بن جاتے ہیں۔ ان کا ادارہ، ان کی تحریک اور ان کی جدوجہد ایک ایسا مکالمہ تخلیق کرتی ہے جس میں برابری، احترام اور دلیل کی بنیاد پر ایک نیا سماجی شعور جنم لیتا ہے۔ یہ محض خدمت نہیں بلکہ ایک اخلاقی مکالمہ ہے جو معاشرے کو اپنی تشکیلِ نو پر مجبور کرتا ہے۔
فلسفیانہ اعتبار سے ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ سماجی خدمت ایک تخلیقی اور تنقیدی شعور ہے۔ایک ایسا شعور جو پہلے موجود معانی کو چیلنج کرتا ہے اور پھر نئے معانی تخلیق کرتا ہے۔ جاوید صاحب نے معذوری کے تصور کو ازسرِ نو مرتب کیاہے۔ اسے کمزوری سے طاقت اور محتاجی سے خودمختاری میں تبدیل کر دیا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی جدوجہد ایک فرد کی کہانی سے آگے بڑھ کر ایک فکری امکان بن جاتی ہے۔ایک ایسا امکان جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ شاید معاشرے کی اصل تبدیلی طاقت کے ایوانوں سے نہیں بلکہ ایسے خاموش مگر پُرعزم کرداروں سے جنم لیتی ہے، جو اپنے وجود کو ہی ایک دلیل بنا دیتے ہیں۔مجھے پوری طرح یقین ہے کہ میں نے اپنے دو دہائیوں پر محیط سماجی خدمت کے دورانیے کے دوران جن بڑے انسانوں کو دیکھا ہے، انہیں پرکھا ہے اور قریب سے دیکھ کر اُن کی بے پناہ صلاحیتوں کا گرویدہ ہوا ہوں، اُن میں جاوید صاحب کی ذات ایک امتیازی پوزیشن رکھتی ہے۔ جاوید صاحب تصنع اور بناوٹ سے پاک ایک پختہ درویش کی طرح ہیں، جس کا دل اللہ کی مخلوق کو خوش دیکھ کر خوشی محسوس کرتا ہے اور خاموشی سے اپنے سلوک کے منازل طے کرتا ہے۔
رابطہ۔9906830807
[email protected]