ڈاکٹر شگفتہ خالدی
بڈگام میں گلوان پورہ کےدردناک واقعے نے نہ صرف ایک خاندان کی خوشیاں چھین لیں بلکہ پورے سماج کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ آخر ہمارے معاشرے میں معصوم بچوں کی زندگیاں کیوں عدم تحفظ کا شکار ہورہی ہیں۔یقیناً یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔معصوم بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی معصومیت اور خواب گھروں کی خوشیوں کا مرکز ہوتے ہیں۔ بڈگام کےحالیہ واقعے نے لوگوں کے دلوں کو مجروح کردیا ہے۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک ہر جگہ لوگ اس واقعےسے سخت رنجدہ ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی شخص ایسی درندگی کی ہمت نہ کر سکے۔ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشرے میں اخلاقی قدریں کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔ اسلام نے بچوں کے ساتھ شفقت و محبت کی تعلیم دی ہے اور ان کے حقوق کی حفاظت پر زور دیا ہے۔ ایک معصوم جان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا گیا ہے۔ اس لئےایساجرم اخلاقی اور دینی اعتبار سے بھی بہت بڑا گناہ ہے۔ آج کے دور میں معاشرے میں تشدد، نفرت اور بے حسی میں اضافہ ہورہا ہے۔ والدین اپنے بچوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچیوں کی حفاظت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں صرف حکومت یا پولیس کو ذمہ دار ٹھہرانا کافی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سماجی ادارے سب کو مل کر بچوں کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔حکومت اور انتظامیہ کے لئے لازم ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائیں۔ عوام کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آئے اور متاثرہ خاندان کو مکمل انصاف مل جائے۔نیز تعلیمی اداروں اور محلوں میں بھی حفاظتی انتظامات مضبوط بنائے جائیں، اسکولوں کے آس پاس نگرانی کا مؤثر نظام کیا جائےتاکہ بچے محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ سی سی ٹی وی کیمرے، مقامی نگرانی کمیٹیاں اور فوری شکایت کے نظام جیسے اقدامات وقت کی اہم ضرورت بن چکے ہیں۔ اگر معاشرہ اجتماعی طور پر بیدار ہو جائے تو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکتی ہے۔والدین کو بھی اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنا ہوگا۔ آج کے دور میں صرف تعلیم کافی نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی حفاظت پر بھی بھرپور توجہ دینا ضروری ہے۔سوشل میڈیا پر بعض اوقات ایسے واقعات کے بعد افواہیں اور غیر مصدقہ خبریں پھیلائی جاتی ہیں جو مزید خوف اور بے چینی پیدا کرتی ہیں۔ اس لیے عوام کو چاہیے کہ صرف مستند معلومات پر یقین کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ حساس معاملات میں جذبات کے ساتھ ساتھ سمجھداری بھی ضروری ہے تاکہ معاشرے میں نفرت، اشتعال اور غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔ میڈیا کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کی رپورٹنگ میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔ ایسے افسوسناک واقعات سے ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئےکہ اگر ہم نے اپنی اخلاقی تربیت، سماجی اقدار اور انسانی ہمدردی کو مضبوط نہ کیا، تو ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پورا معاشرہ متحد ہو کر معصوم بچوں کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرے۔ ایسے جرائم کے خلاف خاموشی اختیار کرنا دراصل مجرموں کو مزید حوصلہ دینا ہے۔ حکومت، عدلیہ، پولیس، سماجی ادارے اور عوام سب کو مل کر ایک ایسا مضبوط نظام قائم کرنا ہوگا جہاں بچوں کے خلاف جرائم کرنے والوں کو فوری اور سخت سزا ملے۔ جب تک قانون کی گرفت مضبوط نہیں ہوگی تب تک ایسے واقعات کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں،جبکہ معصوم جانوں کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔