پونچھ//امام علی بن حسین بن علی بن ابی طالب ؑ کی شہادت کی مناسبت سے25محرم الحرام کوضلع پونچھ میں مختلف مقامات پر مجالس عزاء منعقد کی گئیں۔ اس حوالے سے امام بارگاہ قدیم منڈی میں مجلسِ عزاء منعقد ہوئی جس کاآغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد نعت و منقبت، قصیدہ وسلام اور نوحوں کا نذرانہ پیش کیاگیا۔ مجلس عزا کے دوران مولانا سید مختار حسین جعفری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجالس عزاء منعقد کرنے کامقصد یہ ہے کہ ہم مولا علی ؑاور دیگر آئمہ کے فضائل سن کر ان سے فضیلت حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ خدا کے منتخب کئے گئے ہادی اگرچہ عام انسانوں کے درمیان ان انسانوں کی طرح چلتے پھرتے ہیں لیکن ان کے پاس خدائی طاقت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں دنیا جہاں سائنسی تجربات کرتے ہوئے چاند پر گھر بنانے جارہی ہے ،اس دور کوئی بھی خدائی کا دعوٰی کر سکتا ہے ،اس کا جواب دینے کے لئے کسی ایسے انسان کے ہونے کی ضرورت ہے جو اس شخص کو جواب دے سکے۔انہوں نے کہا کہ کہا ہمیں کربلا کے شہداء کا ذکر سن کر کے خود میں تبدیلی لانی چاہیے۔ اسی سلسلے میں امام بارگاہ پونچھ میں مجلس عزاء بعد نماز مغرب منعقد ہوئی جس کا آغاز بھی باضابطہ تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ بعد از آں نعت و منقبت امام عالی مقام کے حضور پیش کیا گیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سجاد حیدر قمی نے کہا کہ امام سجاد کربلا میں موجود تھے لیکن چونکہ یہ مصلحت تھی اور ان سے اللہ تعالیٰ کو سلسلہ امامت چلا نا تھا اس لئے وہ عاشور کے روز سخت بخار میں مبتلا ہوئے لیکن کربلا کے بعد امام سجاد ؑنے بازار شام اور دربار شام میں اپنے خطاب کئے کہ ایوان باطل میں لرزہ طاری ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ امام سجاد نے اپنے دور حیات میں عظیم کارنامے انجام دیئے جن میں سے ان کی دعاؤں کی کتا ب صحیفہ سجاد یہ قابل ذکر ہے ۔انہوںنے کہاکہ امام کو سجاد ؑ اس لئے کہاجاتاہے کیونکہ آپ ؑ طویل سجدے کرتے تھے اور خدا کی عبادت میں مشغول رہتے تھے ۔امام ؑ کی شہادت پڑھتے ہوئے مولانا نے کہاکہ آپ ؑکو ولید بن عبدالملک کے حکم پر زہر کھلوا کر شہید کیاگیااورآپ ؑکا مدفن جنت البقیع میں اپنے چچا امام حسن مجتبیٰ ؑ کی قبر کے پہلو میں ہے۔ جامع مسجد فاطمہ زہرا موہری گورسائی میں عترت سوسائٹی کے زیر اہتمام بھی مجلس عزا منعقد ہوئی ۔ اس کے علاوہ سلواہ، گورسائی نالہ، ہنڈی، حسین آباد گورسائی نالہ، بھائی دھڑا، پلیرہ ، سرنکوٹ اور سنئی پنیالی میں بھی مجالس عزاء کا اہتمام کیا گیا۔