عالمی شہرہ آفاق جھیلِ ولر کے کنارے بانڈی پورہ قصبہ واقع ہے۔ یہ قصبہ اب ضلع بانڈی پورہ کا صدر مقام ہے۔ مشہور و معروف دینی مدرسہ دارالعلوم رحیمیہ اسی قصبے میں واقع ہے۔اس دینی ادارہ کے بانی و ناظم ریاست کے مایہ ناز عالم ،بلندپایہ داعی دین اور رکن شوریٰ دارالعلوم دیوبند مولانا محمد رحمت اللہ قاسمی ؔ ہیں۔انھوں نے وادی میںدینی علوم کی ترویج و اشاعت میںقابل ذکرکارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں۔دین اسلام کی اشاعت اور عام مسلمانوں کی رہبری ورہنمائی کے لئے ان کی پر خلوص خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ دارالعلو م رحیمیہ کی اشاعتی خدمات میں ماہنامہ ’’النور ‘‘ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ وادی کشمیرکے دینی مدارس سے شائع ہونے والا واحد ماہنامہ ہے جوتین عشروں سے مسلسل جاری ہے اور ریاست کے ہر علاقے میں پڑھا جاتا ہے۔
ماہنامہ’’النور ‘‘ کا پہلا شمارہ محرم الحرام ۱۴۰۸ہجری (مطابق ستمبر 1987 )میں شائع ہوا۔اس کے ایڈیٹر،پرنٹر اور پبلیشر مولانا محمد رحمت اللہ میرقاسمی ہیں۔یہ ایک دینی،اصلاحی اور علمی رسالہ ہے ۔پہلے رسالہ کی اشاعت کے بعد حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب خلیفہ مجاز حضرت حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی ؒکشمیر تشریف لائے۔ ان کا قیام سرینگر میں محمد اشرف لنکرو اور منظور احمد وانگنو کے دولت خانہ پر ہوا۔حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب نے رسالہ دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون سے ’’النور ‘‘ نکلتا تھااور میرے حضرت(حضرت تھانویؒ) کے دادا پیر میانجی نور محمد جھنجھانویؒ کے نام نامی کی طرف منسوب تھا۔
ماہنامہ ’’النور‘‘ کے پہلے شمارے میں رسالہ کے اجراء کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے اداریہ میں لکھا گیا:’’اللہ تبار ک و تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے بھائیوں کی خدمت میں تحریری شکل میں بھی حاضری کی توفیق عطا فرمائی۔بہت عرصہ سے یہ تمنا تھی کہ ایک پندرہ روزہ رسالہ یا ماہنامہ جاری ہو جس سے علمی،دینی اور اصلاحی دعوت کا آغاز کیا جائے ۔ اس کے لیے کئی سال سے کوشش بھی جاری تھی۔‘‘رسالہ کی نہج اور مضامین کے متعلق اداریہ میںواضح کیا گیا کہ دینی معلومات پر مشتمل عام فہم ، سادہ اور سلیس مضامین کی ضرورت ہے جن میں علمی تحقیقات کم ہوں ، ترغیبی اور ترہیبی پہلو غالب ہو۔دین کی تعلیمات کو عہدِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق اکابر اسلاف امت کی ہدایات کے مطابق واضح کیا جائے تاکہ عوام الناس اس سے مستفید ہو سکیں۔دوسری طرف جو لوگ دینی ،اصلاحی ،اخلاقی اور علمی تشنگی محسوس کرتے ہیں اور علمائے کرام سے فیض یاب ہو کر معلومات کا کافی و وافر ذخیرہ رکھتے ہیں یا کسی بھی قسم کے نئے آنے والے معاملہ میں تحقیق کے طالب ہیں ایسے حضرات کے لیے علمی اور تحقیقی مضامین کا ہونا بھی لازمی ہے۔ اکابر علماء کے علوم و معارف سے استفادہ ہو سکے ۔تحقیق طلب مسائل پر روشنی ڈالی جا سکے ۔بوقت ضرورت باطل نظریات و افکار کا بھی علمی و سنجیدہ اندازہ میں دفاع ہو سکے۔کلام الٰہی اور کلام رسول کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے اس سے کوئی طبقہ مستغنی نہیں ہو سکتا۔‘‘
’’النور‘‘ میں شائع ہونے والے مضامین کے متعلق واضح کیا گیا کہ اعلیٰ و علمی تحقیقات کو رسالہ کی زینت بناکر دقیق سے دقیق تر بنایا جا سکتا تھا لیکن ضرورت کے پیش نظر طے یہ پایا کہ قرآن پاک کے ترجمہ و تفسیر کو سلسلہ وار شروع کیا جائے۔حدیث کے اسباق کو تشریح کے ساتھ شامل کیا جائے۔مضامین دعوتی انداز کے ہوں جن کی زبان سادہ سہل اور عام فہم ہو اور ساتھ ہی علمی و تحقیقی بھی ہوں۔ رسالہ میںاکابر اسلاف کے علوم و معارف پر مبنی ملفوظات،تحقیقات اور مواعظ بھی مذکور ہوں۔رسالہ کے اجراء میں دفتری وقانونی لوازمات پورے کرنے میں رہنمائی کے لیے محترم غلام محمد میر صاحب اسسٹنٹ کمشنر اور عبد الوہاب کی کا وشوں کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
’’النور ‘‘ میں شامل اسباقِ تفسیر معارف القرآن سے ماخوذ ہیں۔معارف القرآن مولانا محمد شفیع عثمانیؒ مفتی اعظم پاکستان کی اردو تفسیر ہے۔متن قرآن کے ترجمہ میںشیخ الہند مولانا محمود حسن گنگوہی کا ترجمہ لکھا گیا ہے ۔خلاصہ تفسیر حضرت حکیم الامتؒ کی ترجمہ و تفسیر سے ماخوذ ہے۔ مولانامفتی محمد شفیع عثمانی ؒ نے معارف و مسائل عنوان سے درج آیات بینات کی تفسیر و تشریح عام فہم انداز میں لکھی ہے۔عربی کی مستند تفاسیرتفسیر ابن کثیر،تفسیر قرطبی،تفسیر مظہری اور روح المعانی سے استفادہ کرتے ہوئے حضرت مفتی صاحبؒ نے اسلاف ہی کی پیروی کو اپنایا ہے۔
’’النور‘‘کے پہلے شمارے میں اسباق تفسیر کا سلسلہ شروع کیا جوہنوز جاری ہے۔اس طویل عرصے میںتفسیر معارف القرآن کے کئی پارے مکمل ہو چکے ہیں۔ شرعی نصوص میں قرآن کریم کے بعد دوسرا ماخذ سنت رسول ہےبلکہ سنت رسول قرآن مجید کی تفسیر و تشریح ہے۔ اسباق حدیث مولانا محمدرحمت اللہ میر دامت برکاتہہ خودترتیب دیا کرتے تھے۔ بعض اسباق احادیث مولانا محمد منظور نعمانی ؒ کی مشہور کتاب’’معارف الحدیث‘‘ اور دیگر احادیث سے متعلق کتب سے بھی ماخوذ ہیں۔
تیسرے شمارے میں مولانا شبیر احمد استاد حدیث و تفسیر جامعہ قاسمیہ شاہی مراد آباد کے مقالہ ’’بیان حفظ کتاب و سنت‘‘ کی پہلی قسط شائع ہوئی،جو سترہ قسطوں پر مشتمل تھی، جن میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی حفاظت ،بر صغیر ہند و پاک میں کتاب وسنت کی حفاظت کے متعلق بڑی تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔مولانا ان ہی دنوں کشمیر تشریف لائے تھے، ان کی خدمت میں ’’النور ‘‘ پیش کیا گیا تو انھوں نے مذکورِبالا اقساط ’’النور‘‘کے لیے تحریر فرمائیں۔
مجالس و مواعظ عنوان کے تحت فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کے ملفوضات ومواعظ’’النور‘‘میں مستقل طور پر شائع ہوتے رہے ہیں۔ حضرت فقیہ الامت ؒ کے ملفوضات رسالہ النور کے قارئین کی علمی و روحانی تشنگی بجھاتے ہیں۔ فقیہ الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ دارالعلوم دیو بند کے مایہ ناز عالم دین اور مفتی اعظم تھے۔ فقیہ الامت مولانا مفتی محمود گنگوہی ؒ کا پہلا سفر کشمیر جولائی ۱۹۸۶میں ہوا۔انھوں نے دس دن دارالعلو م رحیمیہ میں قیام کیا،اُن دنوں مدرسہ قدیم مقام پر اپنی خدمات انجام دے رہا تھا۔ کشمیر میں مدتوں بعد یہ پہلا موقع تھا جب کسی دینی ادارے میں تعلیم و تعلم کے علاوہ خانقاہی مناظر دیکھنے کو ملے ہوں۔ ان کے قیام رحیمیہ کے دوران ایمانی و روحانی سرور و انبساط سے سرشار مجالس و مواعظ اور ذکر اللہ کی محفلیںمنعقد ہوئیں۔حضرت فقیہ الامت ؒ کی مجالس اہل وادی کے ایمانی و روحانی جذبہ کی تسکین کے لیے ایک چنگاری ثابت ہوئیں۔علماء ومشائخ اور عوام کی بڑی تعداد ان سے بیعت ہوئی۔
دارالعلوم رحیمیہ کے پہلے سرپرست حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند تھے۔ ان کی رحلت کے بعد فقیہ الامت حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی ؒمدرسہ کے سرپرست مقرر ہوئے۔مولانا محمد رحمت اللہ قاسمی دامت بر کاتہہ حضرت فقیہ الامت سے بیعت تھے۔ النور کے ابتدائی شماروں میں حضرت فقیہ الامت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی ؒ کے ان ملفوظات کو شامل کیا گیا جو دارالعلوم رحیمیہ تشریف آوری کے موقع پر مجالس وعظ و نصیحت کے موقع پر ارشاد فرمائے تھے۔ ان ملفوظات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اپنی مجلس مواعظ میں ان باتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کرتے تھے جن سے یہاں کے لوگوں کی اصلاح و تربیت وابستہ تھی۔ دعوت و تبلیغ کا اثر حضرت پر غالب تھا اوروہ اہلِ کشمیر پر اس تحریک کا اثر دیکھنا چاہتے تھے۔ا ن کے ملفوظات میں دعوت و تبلیغ کے کام اور اس کی اہمیت و افادیت کا پہلو اکثر شامل ہوتا تھا۔
فقیہ الامت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ کادوسرا سفرجولائی ۱۹۸۷ میں ہوا جبکہ تیسر ا سفر۲۹ جولائی ۱۹۸۹ کو ہوا۔اس سفر میں مولانا محمد ابراہیم صاحب پانڈور بھی ان کے ساتھ تھے جن کا یہ پہلا سفرِ کشمیر تھا۔ یہ سفر حضرت کا آخری سفر بھی ثابت ہو ا۔حضرت صحت کی خرابی اور مسلسل اسفار کی وجہ سے پھر کشمیر تشریف نہیں لا سکے۔
مدارس کی روایت رہی ہے کہ اہم کتب کا آغاز کسی برگزیدہ شخصیت سے کرایا جاتا ہے۔ حضرت مفتی صاحب نے اپنے پہلے سفر کے دوران دارالعلوم رحیمیہ کے طلباء کو زاد الطالبین پڑھائی۔ پھر ترجمہ کلام پاک کا باقاعدہ آغاز بھی حضرت فقیہ الامت ؒ نے کیا۔
کشمیرمیں مسلمانوں کی اکثریت ہے،یہاں کے مسلمان سادہ لوح ہیں، ارتدادی فتنے وقفے وقفے سے سر اٹھاتے رہتے ہیں۔بیسویں صدی کی دوسری اور تیسری دہائی میںکشمیر میں مرزائیوں نے کافی اثر و رسوخ قائم کر لیا تھا۔علماء کی کوششوں سے یہ ارتدادی فتنہ دب تو گیا لیکن کافی لوگ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔1880 کے بعد عیسائی مشینریوں نے کشمیر میں اپنی سر گرمیاں شروع کیں، ہزاروں لوگ ان مشینریوں سے وابستہ ہوکر ارتداد کا شکار ہو چکے ہیں۔النور نے ان ارتدادی فتنوں سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لیے تمام دینی رسائل و اخبارات سے ممتاز کام کیاہے۔تحفظ ختم نبوت اس رسالہ کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔
النور کے اداریوں میں کشمیر میں نمودار ہونے والے ارتدادی فتنوںسے عام لوگوں کو آگا ہ کرنے کے علاوہ علما ئے کرام اوردینی فکر کے حامل اصحاب فکر و دانش کو بھی متوجہ کیا جاتا رہا ہے تاکہ علماء ارتداد کے فتنوں سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے اجتماعی طورپر کام کریں۔
مولانا محمد رحمت اللہ میر مدیر رسالہ نے ’’النور‘‘کو جہاں عوام تک پہنچانے کی بے انتہا کوشش کی وہیں انھوں نے اکابر اساتذہ اور علماء و صلحاء کی خدمت میں رسالہ ارسال کرنے کا بھی التزام کیا۔ النور میں شامل مکتوبات سے اندازہ ہوتا ہے کہ مدیر رسالہ نے اکابرین علمائے کرام کی خدمت میں رسالہ بھیج کر اُن سے نہایت قیمتی مشورے بھی حاصل کیے جو ان کی حوصلہ افزائی اوررسالہ کی بہتری کا سبب بنے۔
النور کے دوسرے شمارہ میں مولانا محمد حسین بہاری استاد حدیث و تفسیر دارالعلوم دیو بند کا مکتوب گرامی شائع ہوا ہے ۔اس مکتوب میں وہ تحریر فرماتے ہیں:’’اللہ کی نعمتوں میں سے بڑی نعمت سنجیدہ قلم بھی ہے۔ایک صاحب علم اگر چاہے تو اس راستے سے عوام و خواص کی بڑی خدمت انجام دے سکتا ہے۔رسالہ کی آواز محدود نہیں ہوتی بلکہ اس کی آواز ملک کے گوشہ گوشہ میں پہنچتی ہے اور کبھی ملک سے باہر نکل کر غیر ممالک میں بھی ہدایت و رہبری کا فریضہ انجام دیتا ہے۔آپ کا فریضہ ہے کہ اپنے رسالہ میں میں ایسے مقالات ومضامین شائع کریں جو امت کے نوجوان افراد میں سیرت سازی اور بلند فکری پیدا کریں اور ان کے ذہن و فکر کو تعمیری بنائے۔‘‘
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دارالعلوم بنوریہ ٹاون کراچی اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں:’’دینی مدارس کے دینی پرچے کا چلانا بڑا مجاہدہ ہے۔ مضامین حسن انتخاب کا مظہر ہیںحدیث،فقہی مسائل،صحابہ کرام کے حالات،اکابر امت کے ارشادات و ملفوظات امت کی ایمانی غذا ہیں۔جو دینی نشو ونما اورتربیت میں بے حد مفید ہیں۔دیکھ کر خوشی ہوئی کہ آپ کے مجلہ میں ان چیزوں کا خاص اہتمام کیا گیا ہے۔‘‘
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت فیو ضہم اپنے مکتوب میں ’’النور ‘‘ کے متعلق فرماتے ہیں:’’آپ کا مرسلہ ماہنامہ’’ النور ‘‘نظر نواز ہوا۔آپ نے اس رسالہ کے ذریعے دعوت تعلیم دین کا ایک اور چشمہ کشمیر کی پر فضا وادیوں میں جاری فرمایا ہے۔ مضامین کا تنوع،افادیت اور حسن ترتیب قابل تعریف ہیں۔ آپ نے’’ معارف القرآن‘‘ کی قسط وار اشاعت کی اجازت چاہی ہے۔ اس کی بخوشی اجازت ہے۔‘‘
حافظ محمد چراغ نصیر القاسمی مہتمم جامعہ انوار العلوم دندی پورہ اپنے مکتوب میں ’’النور ‘‘ کے متعلق لکھتے ہیں:’’گا بگاہ ’’النور ‘‘مل جاتا ہے اور باوجود ہجوم اشتغال اور اژدہام افکار کے بھی اس کا مطالعہ کرنا سعادت مندی کا پروانہ گردانتے ہوئے کچھ کچھ نہ کچھ حصہ پڑھ ہی لیتا ہوں۔اکابرین دیو بند شریف اور بزرگان ملت کےفرمودات،ارشادات اور ملفوظات سے دل انتہائی محظوظ و مسرور ہوتا ہے اور ایمانی حلاوت رگ و پے میں سرایت کر جاتی ہے۔ اس تار وتاریک وادی میں جس کو جنت بے نظیر کا لقب دیا گیا ہے واقعتاً ’’النور‘‘ اپنے نوری لمعات سے ضیا پاشی کرنے میں کامیاب ترین ہے‘‘۔
’’ النور ‘‘ کوپروان چڑھانے میں مولانامفتی محمد اسحاق نازکی اور مولانامفتی نذیر احمد قاسمی کا اہم کردار رہا ہے۔دونوں صاحب قلم عالم ہیں۔ ان کے مضامین’’النور ‘‘ کے ابتدائی دور سے ہی رسالہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔مفتی محمد اسحاق نازکی اور مفتی نذیر احمد قاسمی دارالعلوم رحیمیہ کے بڑے اساتذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ مفتی نذیر احمد قاسمی دارالعلوم رحیمیہ کے شیخ الحدیث کے منصب پر فائز ہیں۔ان کا مطالعہ کافی وسیع ہے۔جدیدفقہی مسائل میں ان کی تحقیق مستند تسلیم کی جاتی ہے۔ فقہ و فتاوی کے ساتھ ساتھ وہ قلم کے بھی شہسوار ہیں۔ دینی علوم کے علاوہ ان کا مطالعہ اقبالیات بھی کافی وسیع ہے۔مفتی محمد اسحاق نازکی کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا اسلوب تحریر منفرد ہے۔النور کے ابتدائی شماروں میں مولانا محمد مقبول ندوی کے کئی مضامین بھی شائع ہوئے ہیں۔
النور نے سیرت کے حوالے سے کئی خاص نمبر شائع کیے۔ خصوصی اشاعتوں میںکئی شخصیات نمبر شائع کیے گئے۔ 1993 ء میں مسیح الامت نمبر شائع ہوا۔ حضرت مولانا مسیح اللہ خان حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کے خلیفہ تھے۔’’النور‘‘ نے 1998 ء میں صادقین نمبر شائع کیا۔ یہ خصوصی اشاعت داعی اسلام مولانا محمد عمر پالن پوری ؒ اور صدیق العصر مولانا قاری صدیق احمد باندوی ؒ کی حیات اور دینی و دعوتی کاموںسے متعلق ہے۔ 2005 ء میں ’’محی السنہ‘‘ اور 2012 میں ’’تذکرۃ الامیر ‘‘ نمبر شائع ہوئے۔
ستمبر 2016 میں ’’فقہی اجتماع نمبر‘‘شائع ہوا۔ ۲۶ تا ۲۸ رجب المرجب ۱۴۳۷ ھ بمطابق 4 مئی 2016 ء دارالعلوم رحیمیہ میں تین روزہ فقہی اجتماع منعقد ہوا۔یہ سہ روزہ اجتماع جمعیۃ علمائے ہند کے ذیلی ادارہ’’ادارۃ المباحث الفقہیہ‘‘نے منعقد کیا تھا۔ مولانا قاری سید محمد عثمان منصوپوری ؒ صدر جمعیۃ علمائے ہند، مولانا مفتی ابو القاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند،مولانا سیدمحمود مدنی ناظم عمومی جمعیۃ علمائے ہند کے علاوہ ملک بھر سے دوسو علماء کرام و مفتیان عظام نے بحیثیت مندوب اس فقہی سمینار میں شرکت کی جبکہ جموں وکشمیرکے ساڑھے چار سو سے زائد مفتیان عظام و علمائے کرام نے شرکت کی۔النور نے اس تاریخی فقہی سمینار کی مناسبت سے ۳۰۰ صفحات پر مشتمل خصوصی شمارہ شائع کیا۔
سال 2020 میں ’’ النور‘‘ نے کئی شماروں کو یکجا شائع کیا۔ کرونا وائرس کے پیش نظرلاک ڈاون ملک بھر میں نافذ کیا گیا۔لاک ڈاون کی طوالت نے جدید مسائل کو جنم دیا۔ ان شماروں میں رمضان میں اعتکاف،مساجد میں پانچ نمازیوں سے زائد نمازیوں پر پابندی عائد ہونے کی وجہ سے نماز جمعہ اور نماز عیدکی ادائیگی،وبائی بیماری میں سماجی دوری ،کرونا وائرس سے مہلوک مسلمانوں کے غسل ،کفن دفن اور تدفین کے مسائل اور دنیاوی حادثات کے اسباب وعلل جیسے موضوعات پرتفصیل سے مضامین شائع ہوئے۔یہ شمارے اس لحاظ سے وبائی بیماری کے حوالے سے خصوصی شماروں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔
النور کا سفر تین عشروں سے جاری ہے۔یہ رسالہ سال 2021کے اختتام پر چونتیسویں بہاریں مکمل کر لے گا۔رسالہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں کافی حد تک کامیاب ہوا ہے۔امید ہے یہ سفرمتنوع خصوصیات کے ساتھ جاری رہے گا۔