سبدر شبیر
انسانی زندگی جدوجہد، خواہشات اور خوابوں کا مجموعہ ہے۔ ہر شخص اپنی سمجھ اور حالات کے مطابق کامیابی کی ایک تصویر بناتا ہے اور ساری عمر اسی تصویر کو حقیقت بنانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کوئی دولت کو کامیابی سمجھتا ہے، کوئی شہرت کو، کوئی اعلیٰ عہدے اور اختیار کو، اور کوئی علم و مہارت کو اپنی معراج خیال کرتا ہے۔ لیکن اگر گہرائی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کامیابیاں عارضی اور ناپائیدار ہیں۔ وقت کا ایک جھونکا آتا ہے اور سب کچھ بدل جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسلام انسان کو ایک بلند تر اور ابدی معیار عطا کرتا ہے، اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول۔
دنیا کی کامیابیاں وقتی ہیں۔ دولت آج کسی کے پاس ہے تو کل کسی اور کے پاس ہو سکتی ہے۔ صحت اور جوانی ہمیشہ قائم نہیں رہتیں۔ اقتدار اور شہرت کا سورج بھی ایک دن غروب ہو جاتا ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران، جن کے نام سے لوگ کانپتے تھے، آج ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔ ان کی شان و شوکت باقی نہیں رہی، صرف عبرت کی داستانیں رہ گئی ہیں۔ اس کے برعکس اللہ کی رضا ایک ایسا سرمایہ ہے جو نہ ختم ہوتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے۔ یہ دنیا میں بھی دل کو سکون عطا کرتی ہے اور آخرت میں بھی دائمی کامیابی کا سبب بنتی ہے۔
اللہ کو راضی کرنا محض ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ حیات ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج یقیناً رضائے الٰہی کے بنیادی ذرائع ہیں، لیکن ان کی اصل روح اخلاص اور تقویٰ میں پوشیدہ ہے۔ اگر عبادت میں دکھاوا شامل ہو جائے تو وہ اپنی تاثیر کھو دیتی ہے، لیکن اگر نیت خالص ہو تو معمولی سا عمل بھی عظیم بن جاتا ہے۔ ایک مسکراہٹ، ایک سچی نصیحت، کسی ضرورت مند کی خاموش مدد یا کسی کو معاف کر دینا ـ یہ سب ایسے اعمال ہیں جو اللہ کی رضا کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔اللہ کی رضا صرف عبادت گاہ تک محدود نہیں۔ انسان کے روزمرہ معاملات بھی اس میں شامل ہیں۔ سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، امانت میں خیانت نہ کرنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، پڑوسیوں کا خیال رکھنا اور معاشرے میں انصاف قائم رکھنا ـ یہ سب اعمال رضائے الٰہی کی راہیں ہیں۔ اگر کوئی شخص عبادت گزار ہو مگر اپنے معاملات میں بددیانتی اختیار کرے تو وہ حقیقی کامیابی سے محروم رہ جاتا ہے۔
اسلام دنیا کو ترک کرنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دنیا کو آخرت کی تیاری کا میدان قرار دیتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ محنت کرے، ترقی کرے، علم حاصل کرے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرے، مگر اس کی نیت اللہ کی رضا ہو۔ اگر دولت ملے تو اسے غرور کا ذریعہ نہ بنائے ، اگر اختیار ملے تو انصاف قائم کرے۔ اگر علم ملے تو اسے انسانیت کی خدمت میں استعمال کرے۔ اس طرح دنیا بھی سنورتی ہے اور آخرت بھی روشن ہوتی ہے۔حقیقت یہی ہے کہ انسان کی زندگی کا سب سے بڑا مقصد اللہ کی خوشنودی کا حصول ہونا چاہیے۔ جب یہ مقصد سامنے ہو تو انسان کے فیصلے سنور جاتے ہیں، اس کی ترجیحات درست ہو جاتی ہیں اور اس کا کردار نکھر جاتا ہے۔