حضرت ابن مبارک سے کسی نے پوچھا کہ ’’انسان کون ہے؟‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’علماء‘‘۔ پھر پوچھا، ’’بادشاہ کون ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’زاہد‘‘ تیسری دفعہ پوچھا کہ ’’کمینے کون ہیں؟‘‘ فرمایا: جو لوگ اپنے دین کو بیچ کر کھاتے ہیں۔‘‘
حسن بصری کا قول ہے: ’’اگر علماء نہ ہوتے تو لوگ جانوروں جیسے ہوتے۔ امام غزالی بے علم انسان کو تو انسان قرار دینے کے لیے تیار ہی نہیں، فرماتے ہیں: ’’بے علم کو انسان اس لیے قرار نہیں دیا کہ جو صفت انسان کو تمام جانوروں سے ممتاز کرتی ہے، وہ علم ہی ہے، انسان کو مرتبہ ومقام علم ہی کی وجہ سے ملا ہے اس کی جسمانی طاقت کی وجہ سے نہیں، انسان کے مقابلے میں اونٹ اور ہاتھی کہیں زیادہ بڑا جسم رکھتے ہیں، شیر وغیرہ اس سے کہیں زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔ بیل کا پیٹ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہوتا ہے او رمعمولی گوریا بھی اس سے کہیں زیادہ جنسی طاقت رکھتی ہے۔ انسان کو تو علم ہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔‘‘ (احیاء العلوم:12/1)
ابن قیم کہتے ہیں: اگر حصول علم سے صرف قرب الہی ملے، عالم ملائکہ سے تعلق بنے اور ملأ الاعلی کی صحبت ملے تو یہی علم کی قدر و منزلت اور شان کے لیے کافی تھا، لیکن یہاں تو دنیا و آخرت کی عزت بھی حصول علم کیساتھ منسلک اور مشروط ہے۔
تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو علم کی زیادتی کی دعا کی تعلیم دی ہے، فرمایا’’اور کہیے اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما‘‘۔امام قرطبی لکھتے ہیں کہ ’’اگر کوئی چیز علم سے افضل اور برتر ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتے کہ وہ اس میں اضافہ کی دعا کریں،جیسا کہ علم طلب کرنے کا حکم دیاگیا ہے‘‘۔
سیدنا علی کرم اللہ وجہ ارشاد فرماتے ہیں،اپنے علم کو جہل میں اور یقین کو شک میں تبدیل نہ کرو۔ جب کسی چیز کے بارے میں علم ہو جائے تو اسی کے مطابق عمل کرو اور جب یقین کی منزل تک پہنچ جاؤ تو اقدام کرو۔
ایک دفعہ سیدنا عمرؓنے نافع بن عبدالحارث کو مکہ مکرمہ کا والی بنایا تھا۔ وہ ایک بار حضرت عمرکے پاس آئے تو آپ نے دریافت کیا کہ ’’اپنا نائب کس کو بنا کر آئے ہو؟‘‘ انہو ں نے بتایا: ’’ابن ابزی کو‘‘ حضرت عمرنے دریافت کیا:’’ابن ابزیٰ کون ہے؟‘‘ انہوں نے بتایا: ’’ہمارا ایک مولیٰ ہے۔‘‘ تو حضرت عمر نے فرمایا: ’’تم نے ایک مولیٰ کو نائب بنایا ہے؟‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’وہ قرآن کریم پڑھنے والے اور مسائل وراثت کے عالم ہیں۔‘‘ تب حضرت عمر نے فرمایا: ’’ہمارے پیغمبر حضرت محمد ﷺ فرماچکے ہیں اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے کچھ لوگوں کو اوپر اٹھائے گا اور کچھ کو پست کرے گا۔‘‘ (مسلم)
ایک دفعہ حجاج بن یوسف نے خالد بن صفوان سے پوچھا:’’بصرہ کا سردار کون ہے‘‘؟ خالد نے جواب دیا: ’’حسن‘‘ حجاج نے تعجب سے کہا:’’یہ کیوں کر ممکن ہوا حسن تو غلاموں کی اولاد ہے؟‘‘ خالد نے کہا کہ ’’حسن اس لیے سردار ہیں کہ لوگ اپنے دین میں اس کے محتاج ہیں اور وہ علم کی دنیا میں کسی قسم کے محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قسم!میں نے بصرہ میں کسی کو نہیں دیکھا جو حسن کے حلقے میں پہنچنے کی کوشش نہ کرتا ہو۔ سب کو ان کا وعظ سننے او ران سے علم حاصل کرنے کی آرزو رہتی ہے۔‘‘ یہ سن کر حجاج نے کہا: ’’واللہ! یہی سرداری ہے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کمیل بن زیاد سے فرمایا’’علم مال دولت سے بہتر ہے،علم تمہاری نگہ داشت کرتا ہے، جب کہ مال و دولت کی نگہبانی تمہیں کرنی پڑتی ہے۔علم خرچ کرنے سے بڑھتا ہے۔ جب کہ دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے۔ علم حاکم ہے جب کہ مال ودولت کی حیثیت محکوم کی ہے۔علم سے عالم کو زندگی میں سکون حاصل ہوتا ہے اور وفات کے بعد ذکر خیر،جب کہ مال و دولت کا کام آدمی کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے۔مال و دولت کے ذخیرے رکھنے والے پردہ گمنامی میں چلے گئے،جب کہ علماء زندہ و پائندہ ہیں۔اور جب تک دنیا باقی رہے گی ان کے نام بھی باقی رہیں گے اور وہ خود تو انتقال کر چکے، لیکن ان کے علمی کارنامے زندہ ہیں‘‘۔
اہل بصرہ میں باہم مذاکرہ ہونے لگا۔ بعض نے کہا علم مال سے افضل ہے۔اور بعض نے کہا کہ مال علم سے افضل ہے۔ بالآخر حضرت ابن عباسؓ کی طرف آدمی بھیج کر فیصلہ چاہا گیا۔آپؓ نے ارشاد فرمایا کہ’’علم افضل ہے‘‘۔قاصد بولا:اگر ان لوگوں نے دلیل مانگی تو کیا کہوں گا؟‘‘ انہوں نے فرمایا:’’کہہ دینا کہ ’’علم انبیاء کی میراث ہے اور مال فرعون کی،علم تیری حفاظت کرتا ہے۔اور مال کی تجھے حفاظت کرنی پڑے گی،اللہ تعالیٰ علم کی دولت اپنے محبوب بندوں کو ہی دیتا ہے اور مال میں یہ تخصیص نہیں۔محبوب و مبغوض دونوں کو دیتا ہے، بلکہ مبغوض کو عموماًزیادہ دیتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام آدمی ایک ہی طریقے پر ہو جائیں،تو جو لوگ خدا کے ساتھ کفر کرتے ہیں،ان کے لیے ان کے گھروں کی چھتیں ہم چاندی کردیتے اور زینے بھی، جس سے وہ چڑھا کرتے ہیں۔‘‘علم خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا، بلکہ بڑھتا ہے اور مال خرچ کرنے سے کم ہوتا ہے۔مال دار جب مرجاتے ہیں،تو ان کا تذکرہ بھی ختم ہو جاتا ہے اور صاحب علم مرنے کے بعد بھی زندہ جاوید رہتا ہے۔صاحب مال سے ایک ایک درہم کا سوال ہوگا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں پر لگایا؟ اور صاحب علم کا ایک ایک حدیث پر جنت میں درجہ بڑھے گا‘‘۔؎
آدمیت اور شے ہے علم ہے کچھ اور شے
کتنا طوطے کو پڑھایا پر وہ حیواں ہی رہا
شیخ ابراہیم ذوقؔ
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی
فردوس گیاویؔ
اللہ تم میں سے ان لوگوں کے درجے بلند کردے گا جو ایمان لائے، اور جنھوں نے علم حاصل کیا۔(سورۃ المجادلہ آیت 11)
(اے نبی ﷺ)کہہ دیجیے کیاعلم رکھنے والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں۔نصیحت تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔(سورۃالزمر آیت9،)
آپ ﷺ کہ دے کیااندھا اور آنکھ والے برابر ہیں،کیا اندھیریاں اور روشنیاں برابر ہو سکتی ہیں( سورۃالرعد:آیت 16)
کہہ دیجیے، کیا برابر ہوسکتے ہیں اندھااور دیکھنے والایا کہیں برابر ہوسکتا ہے اندھیرا اور اجالا؟(سورۃالفاطر آیت 19,20)
اردو میں تعلیم کا لفظ، دو خاص معنوں میں مستعمل ہے ایک اصطلاحی دوسر ے غیر اصطلاحی، غیر اصطلاحی مفہوم میں تعلیم کا لفظ واحد اور جمع دونوں صورتوں میں استعمال ہو سکتا ہے اور آدرش، پیغام، درسِ حیات، ارشادات، ہدایات اور نصائح کے معنی دیتا ہے۔ جیسے آنحضرت کی تعلیم یا تعلیمات، حضرت عیسیٰ کی تعلیم یا تعلیمات اور مہاتما بدھ یا شری رام کی تعلیمات، کے فقروں میں، لیکن اصطلاحی معنوں میں تعلیم سے وہ شعبہ مراد لیا جاتا ہے جس میں خاص عمر کے بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما، تخیلی و تخلیقی قوتوں کی تربیت و تہذیب، سماجی عوامل و محرکات، نظم و نسق مدرسہ، اساتذہ، طریقہ تدریس، نصاب، معیار تعلیم، تاریخ تعلیم، اساتذہ کی تربیت وغیرہ لیے جاتے ہیں۔دینی تعلیم اگر پورے درس نظامیہ کے طور طریقے اور اصول و ضابطے کے ساتھ نہ دئے جائے تو طالب علم صرف بحث اور مباحثوں میں الجھ کر اپنی علمی لیاقت برباد کر دیتا ہے۔مذہبی تعلیم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت شرط اول ہے۔کیوں کہ چراغ کے ذریعے ہی تاریکی ختم کی جاتی ہے۔اگر عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ نہ ہو تو وہ تعلیم باعث مصیبت ہے۔ ؎
تیری نماز میں باقی جلال ہے نہ جمال
تیری اذان میں نہیں ہے مری سحر کا پیام
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیاہے
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چار ے دو رکعت کے امام
اقبالؔ کو دینی عالموں سے جو توقع ہے اور ان کے علم کا جو تقاضا ہے وہ اپنی قوم کے نوجوانوں کی اصلاح اور صحیح تعلیم و تربیت ہے اسی لیے وہ تمام تر مایوسی کے باوجود دعوت دیتے ہیں،؎
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دی ان کو سبق خود شکنی خود نگر ی کا
اس کے بر عکس جو عصری تعلیم دینی جذبے کے بغیر ہے اسے صرف گمراہ کہا جا سکتا ہے۔جوتعلیم سراسر مادیت پر مبنی ہے اور دین و مذہب سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔اقبال کی نظر میں یہ نظام ِ تعلیم دین کے خلاف ایک بہت بڑی سازش تھی جو اب مکمل طور پر کامیاب ہو چکی ہے۔جوانوں کو اعلیٰ اسلامی اقدار سے محروم کر چکی ہے(الا ماشاء اللہ)۔ یہ تعلیم ضرورت سے زیادہ تعقل زدہ ہے،اس نے الحاد اور بے دینی پھیلانے کی بھر پور کوشش کی ہے جسے اقبال نفر ت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔؎
خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر
لب خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
اور یہ اہلِ کلیسا کا نظام ِ تعلیم
ایک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف
رابطہ۔9968012976
۔۔۔(جاری)
��������