حال و احوال
سید مصطفیٰ احمد
آج کی زندگی کا دوسرا نام مادیت یا پیسہ ہے۔ مذہب سے لے کر اخلاقی اقدار کا محور صرف پیسہ ہے۔ عقل اور شکل سے عاری انسان اگر پیسوں کے ڈھیر کا مالک ہے تو دنیا اس کے جیب میں ہے۔ اس کے برعکس جس انسان کے پاس پیسے نہیں ہیں، اس کی دانائی، اخلاقی قدریں اور اس کا فلسفہ اس کے لئے گھاٹے کا سودا ہے اور کچھ بھی نہیں۔اس رذیل کشمکش نے بہتوں کو افسردگی کے عالم میں پہنچا دیا ہے۔ انسان سمجھنے سے قاصر ہے کہ مادیت اب اس حد تک ہمارے اذہان اور زندگیوں پر حاوی ہوگئی ہے کہ زندگی جینے کا ایک ہی مقصد رہ گیا ہے، وہ ہے صرف مادی چیزوں کے ڈھیر ہوں۔
یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ اب انسان کو اس کی قیمت لگائی جانے لگی ہے۔ یہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا ظلم ہے۔یہ غلامی کی بدترین کی شکل ہے۔حالانکہ سچ تو یہی ہے کہ انسان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، اس کی پہچان ہوتی ہے۔ وہ پہچان جو اسے دوسروں سے مہمیز کرتی ہے۔مگر اب پہچان بھی دولت کے ڈھیر سے طے ہوتی ہے۔ سوچ کو اتنا تنگ کر لیا گیا ہے کہ اس میں ’میرا‘ اور ’میرے لیے‘ کے سوا کچھ سماتا ہی نہیں۔ ہر طرف دوڑ ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ دوڑ ختم کہاں ہوتی ہے اور اس کا انعام کیا ہے۔ ایک انسان سوچتا ہے کہ اگر دوسرے دوڑ رہے ہیں، تو میں اس دوڑ میں کیسے پیچھے رہ سکتا ہوں۔اس طرح دوڑتے دوڑتے آخر وہ تھک ہار کر افسردگی کی موٹی تہوں کے نیچے دب جاتا ہے اور ذلیل ہوکر اس دنیا سے کوچ کر جاتا ہے۔
اس کے علاوہ اب خوشیوں کو دوسروں کی نظروں سے تولا جاتا ہے۔ یہ انسانی معراج کے بالکل برعکس سوچ ہے۔ لوگ جو اچھا کہہ دیں، وہی اچھا ہے اور وہ پتھر کی لکیر ہے۔اب لوگ ہی معیار ہیں۔ذہانت کی نئی تعریف یہ ہے کہ اکاؤنٹ میں کتنے صفر( zeroes )شامل کیے جا سکتے ہیں، چاہے اندر کا وجود بے نور ہی کیوں نہ رہ جائے۔اندر کی دنیا کیوں نہ روشنی سے خالی ہوں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے لیکن فرق اس بات سے ضرور پڑتا ہے کہ کیا میں باقی لوگوں کی طرح آن بان سے زمین پر پیر پاکر اپنا رعب جماتا ہوں کہ نہیں۔ترقی کا پیمانہ بھی بدل چکا ہے۔ ترقی صرف وہی ہے جو نظر آئے، چاہے اندر سے کھوکھلی ہی کیوں نہ ہو۔دنیا کی رو میں بہہ کر افسردگی کو گلے لگانا قبول ہے لیکن لوگوں کی نگاہوں میں کمزور اور حقیر دکھائی دینا کسی بھی لحاظ سے آج کے بیشتر افراد کو پسند نہیں ہے۔
اب انسان اتنا گر چکا ہے کہ ہر نیا موبائل، ہر نئی کار، ہر نیا گھر اور ہر شئے(commodity)ایک نیا پنجرہ ہے، جسے انسان اپنی مرضی سے خریدتا ہے اور پھر اس میں قید ہو جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں وقت بدل گیا، مگر دراصل انسان بدل گیا جس نے وقت کو پیسے کی ناپ تول کا پیمانہ بنا ڈالا۔ آنکھوں میں جو خواب ہیں، وہ بھی بینک بیلنس کی عبارت میں لکھے جاتے ہیں۔پیسوں کی منڈی میں آج کے انسان کا سودا ہوتا ہے۔پیسے نہیں تو میرا اپنا ہمسایہ اور رشتہ دار میرا اپنا نہیں۔جس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اس کا مطلب اس کی زندگی میں exposure کی کمی بھی ہوگی،وہ نئی دنیا کے اصولوں سے ناقف ہوگا،اس میں تہذیب یافتہ ہونے کی کوئی علامت نہیں ہوگی۔اس طرح سماج بٹتا چلا جاتا ہے اور ایک انسان کی روش بدلتی جاتی ہے اور پھر انسانوں پر لیبل چسپاں کیا جاتا ہے کہ اب انسان بدل گئے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب انسان انسانوں کے درمیان رہتا تھا۔وہ اپنے جیسے لوگوں میں خوش رہتا تھا۔ انسانی حس سے ایک دوسرے کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب ہوتے تھیں۔ایک دوسرے کو انسانوں کی نگاہوں سے دیکھنا عام سی بات تھی، لیکن اب آج کا انسان عمارتوں کا ہی بن کر رہ گیا ہے۔ ہر طرف ہر جگہ عمارتیں بنانے کے جنون میں وہ خود جنونی ہوگیاہے۔ رشتے ناطے بھی عمارتیں دکھائی دیتی ہیں حتیٰ کہ مذہب بھی اب شاندار اور آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتوں کے بھیس میں بدل گیا ہے۔رشتوں کو کاروباری اصطلاحوں میں ناپا جانے لگا ہے۔کون کتنا دے سکتا ہے، کس سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ دولت نے وہ آزادی دی ہے جس نے انسان کو ہر چیز کا غلام بنا دیا۔ اس کا نتیجہ افسردگی کے عالم میں انسان کا اپنے آپ کو پانا ہے۔
معاشی ترقی کی دوڑ میں صحت، رشتے اور نیند سب کچھ داؤ پر لگ گئے ہیں۔ خواہشات کو اتنا بڑھا لیا گیا ہے کہ پورا کرنے کے لیے عمر کم پڑ جاتی ہے اور نہ پورا ہونے کی وجہ سے افسردگی بڑھ جاتی ہے۔ ’کافی‘ کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود بھی کچھ نہ کچھ اور چاہیے۔اسی اور کی چاہت نے ہر طرف افسردگی کی آگ کو ہوا دے رکھی ہے،اور اور کرتے کرتے آج کا انسان کچھ اور ہی بن کر رہ گیا ہے لیکن انسان نہ بن سکا۔آج کا انسان ہر روپ میں ڈھل گیا لیکن انسان کی کھال میں اتر نہ سکا اور رحمت کا امیدوار ہونے کے باوجود ذلت کا شکار ہوگیا ہے۔
انسان نے خود کو مٹی سے جوڑنے کی بجائے کنکریٹ سے جوڑ لیا ہے۔ مٹی میں سکون ہے، کنکریٹ میں افسردگی ہے۔ ایسی افسردگی جس کا ختم ہونا محال ہے۔مادیت نے انسان کو اتنا مصروف کر رکھا ہے کہ والدین کے لیے، بچوں کے لیے، اپنے لیے بھی وقت نہیں بچتا۔ اور جب یہ وقت نہیں بچتا تو پھر بچے بھی وہی کچھ سیکھتے ہیں جو دکھایا جاتا ہے۔ پیسہ ہی سب کچھ ہے، پھر اس قطار میں اور لوگ جمع ہوتے جاتے ہیں اور آخرکار سارا سماج حیوانی جبلیات کا دلدادہ ہوجاتا ہے، جس سے سماج کا تانا بنا بکھر جاتا ہے۔
افسردگی کا یہ عالم ہمارا خود کا بنایا ہوا ہے۔ لوگوں نے خود اسے پیدا کیا ہے اور خود ہی اس کا علاج بھی کر سکتے ہیں۔ ضرورت ہے اپنی طرف لوٹنے کی، ان اقدار کی طرف پلٹنے کی، جو انسان کو انسان رکھتی ہیں۔ جب تک یہ طے نہیں ہوتا کہ پیسہ تابع ہے نہ کہ انسان پیسے کا تابع، تب تک یہ افسردگی کا عالم چہار سُو رہے گا۔ انسان کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اپنے اندر جھانکے اور خود سے پوچھے کہ میرے چمن کو کس بوم کی نظر لگ گئی۔کسی حکیم سے پوچھنے سے کچھ نہیں ہوگا،صرف ایک بار اپنے آپ سے ملاقات ہوجائے،ہر چیز کی حقیقت سامنے آجائے گی اور افسردگی کا یہ عالم خود ختم ہوجائے گا۔
رابطہ۔7006031540