ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری
’’اُلجھن ‘‘محمدالیاس متوی کا افسانوی مجموعہ ہے جو سال رواں 2026ء میںعرشیہ پبلی کیشنز دہلی نے شائع کیا ہے۔یہ مجموعہ 29افسانوں پرمشتمل ہے،جن کے عنوانات کچھ اس طرح سے ہیں:وادی پُرفتن، زوجیلہ کی آغوش میں،پہلا انعام، الجھن،جاری ،ہینڈ پمپ، لومڑی اور گلہری‘ بھٹکتی روحیں، ایڈمن ،چائے پانی، لمحہ بھر، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور، چہرے، حلال رزق کی خوشبو، وحشی درندہ، نصیحت کی رات، پُراسرار رات، دیواروں سے پہلے دل، چارٹ ،پوسٹر‘ ضمیر کی آواز، سرگوشیاں، بستی، انمول ،درشن، بے مثال نعمت، صدا کا مینار، ابھی میدان باقی ہے،لبوں کا شرین۔افسانوں سے متعلق کتاب میں محمد شفیع ساگراور شبیر احمد مصباحی کے مضامین بھی شامل ہیں اور مصنف کادیباچہ بھی موجود ہے۔محمدالیاس متوی کا تعلق لداخ کے ضلع کرگل کے دراس علاقے سے ہے۔ دراس دنیا کا دوسرا سردترین خطہ (Second coldest region) ہے۔ پہاڑوں کے درمیان واقعہ یہ علاقہ گرمیوں میں سیلانیوں کی آماجگاہ بنا رہتا ہے۔دراس کے زیادہ تر لوگ شینا زبان بولتے ہیں اور اردو میں بھی گفتگو کرنے کے علاوہ اس زبان میں لکھتے رہتے ہیں۔ جس طرح یہ خوبصورت علاقہ لوگوں کے دل موہ لیتا ہے، اسی طرح یہاں کے لوگوں کے دل بھی پیار و محبت سے بھرے پڑے ہیں۔ عبدالغنی شیخ کاچواسفند یار خان ،عبدالرشید راہگیر کے علاوہ حاجی محمدعلی خان، خیال لداخی ،محمدیاسین ،نذیرلداخی، شفیع ساگر، شبیر احمدمصباحی ،ڈاکٹر زاہد مختار اور محمدالیاس متوی وغیرہ لداخ کے وہ ادیب اور شاعر ہیںجو اردوزبان کی آبیاری کرتے رہتے ہیں اور جن کی شاعری ،فکشن اور مضامین میری نظر سے گزرچکے ہیںبلکہ ان پر میں نے لکھابھی ہے۔ ان لوگوں کی تخلیقات میں فطری پن نمایاںنظرآتا ہے جو کہ پڑھنے والے کو وہاں کی تہذیب وتمدن ،سماجی و معاشی صورتحال اور رہن سہن کی معلومات فراہم کرتا ہے۔ راقم کئی بار علم وادب یا سیروتفریح کی مناسبت سے وہاں کاسفرکرچکا ہے اور ان میں سے بیشتر لوگوں نے مثالی مہمان نوازی کامظاہرہ کیا ہے۔
محمدالیاس متوی پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں ۔اردو میں پوسٹ گریجویٹ ہیں۔ ان کے مضامین اور افسانے رسائل وجرائد ،اخبارات اور سوشل میڈیا کے ادبی فورمز پر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ایک کتاب’’‘‘سفرنامہ حج‘‘ پہلے ہی سامنے لائے ہیں۔ فکشن کی سماجی اہمیت کے بارے میںکہا جاتا ہے کہ ’’فکشن وہ سچائی ظاہر کرتا ہے جسے حقیقت چھپا لیتی ہے۔‘‘’’Fiction reveals truth that reality obscures.‘‘ دراصل آج کا بیشترفکشن سماجی حقیقت نگاری کی فنی عکاسی ہوتا ہے۔اس میں ناول اور افسانہ دونوں شامل ہیں۔محمدالیاس متوی کے افسانوں سے ظاہر ہورہا ہے کہ انہوں نے اپنے سماج کی زندگی کو افسانوی قالب میں پیش کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے۔ افسانہ’’وادیِ پُرفتن‘‘ایک ایسا سماجی افسانہ ہے جو ظہیر‘اور’ضمیر‘کی کردارنگاری میں ’’ وادی واس‘‘کی افسردہ صورتحال کا قصہ پیش کرتا ہے۔راوی بھی افسانے میں بطور کردار موجود ہے جو اس ساری صورتحال کو بیان کررہا ہے۔ ’وادی واس‘افسانہ نگار کی ذہنی اخترع ہے ۔ یہی خوبی افسانے کو حقیقت کے بجائے فن میں ڈھالتی ہے، تاہم افسانے میں جس طرح تجزیاتی انداز سے اس وادی کے ماضی اور حال کی زندگی کا نقشہ کھینچا گیا ہے وہ افسانہ ہونے کے باوجود حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ماضی میں واس کی وادی انسانیت وامن ‘ محبت و الفت اور سماجی ہم آہنگی کا نمونہ ہوا کرتی تھی لیکن جب دونوں کردار ذہنی سکون کی خاطر وادی کارخ کرتے ہیں تو وہاں پہنچ کر وہ حیران ہوجاتے ہیںکیونکہ اب وادی کا ماحول تناؤ اور تشدد کی زد پر ہوتا ہے۔دونوں یہ دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں کہ شاید وہ غلط جگہ پر آگئے ہیں لیکن آس پاس کی چیزوں کو دیکھ کر وہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ نہیں جگہ تو صحیح ہے۔ افسانے کا عنوان’’وادی ِ پُرفتن‘‘کے بجائے’’وادی واس ‘‘ زیادہ مناسب تھا۔افسانے کا انجام حوصلہ بخش تاثر چھوڑتا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہیں کہ اس وادی پُرفتن کا ماحول پھر سے ٹھیک ہوجائے گا۔فنی طور پر افسانے میں عمدہ افسانوی اسلوب نظرآتا ہے:’’آنکھوں میں اشک لیے وہ دیرتک افق کوتکتے رہے۔ سورج ڈوب رہا تھا اور اس کی سرخی وادی پر ایک عجیب سی اداسی بکھیر رہی تھی۔ ضمیر نے دھیمی آواز میں کہا۔’وادی واس بدل گئی ہے مگر شاید امید ابھی باقی ہے۔‘‘
’’درۂ زوجیلہ‘‘(Zojila pass)کا نام سنتے ہی انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ سطح سمندر سے تقریباََ0 11,50 فٹ اونچا یہ درہ خطرناک پہاڑی دروں میں شمارہوتا ہے۔ اس سے متعلق بے شمار قصے کہانیاں مشہور ہیں۔یہ درہ کشمیر کو لداخ سے جوڑتا ہے۔ برفیلے موسم میںاس کا سفر موت کو گلے لگانے کے مترادف سمجھا جاتا ہے ۔اس کے خطرناک سفر سے متعلق یہ کہاوت بھی مشہور ہے کہ زوجیلہ وہ پہاڑ ہے جہاں بیٹا باپ کو بھول جاتا ہے ۔ اس کہاوت کا ذکر کتاب کے افسانے ’’زوجیلہ کی آغوش میں‘‘ میں بھی کیا گیا ہے۔افسانے کا مرکزی کردار نوجوان’’خورشید‘‘ ہے ۔اس کا باپ ’’احمد‘‘ مزدور پیشہ آدمی ہوتا ہے۔ غریب ہونے کے باوجود وہ خورشید کو گریجویشن تک پڑھاتا ہے۔ گریجویشن کے بعد خورشید سرکاری نوکری کے لئے فارم بھرتا ہے جس کے انٹرویو کے لئے سرینگر جانا ہوتا ہے۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ سفر پر نکلتا ہے اورزوجیلہ پر پہنچتے ہی موسم خراب ہوجاتا ہے۔ برف وباراں کی وجہ سے وہ سبھی لوگ بے بس ہوجاتے ہیں۔پاؤں چلنے سے انکار کرتے ہیں ۔بالآخر یہ برف کے نیچے دب جاتے ہیں۔افسانہ نگار نے زوجیلہ کے مصائب کے بارے میں لکھا ہے:’’زوجیلہ محض ایک راستہ نہیں‘ صبر‘ جدائی اور انسانی بے بسی کی علامت ہے۔ایسا درہ جس نے نہ جانے کتنےگھروں کے چراغ بجھائے اور کتنی آنکھوں کو ہمیشہ کے لئے نم کردیا۔ ‘‘ واقعاتی طور پر افسانہ اچھا ہے،تاہم انجام میں زوجیلہ پر پھنس کر کرداروں یا کردار کی نفسیاتی اور ذہنی کوفت اور پریشان حالت کا منظر متاثر کن انداز سے پیش کرنے کی ضرورت تھی تاکہ یہ خوبصورت افسانہ اپنے فنی تاثر میں مذید نکھرکر قاری کو اورزیادہ متاثر کردیتا۔افسانہ ’’اُلجھن‘‘واقعاتی اسلوب کا حامل ایک عمدہ افسانہ ہے کیونکہ اس کی کہانی میں روانی بھی ہے اورموضوعاتی برتاؤ بھی اچھا ہے۔ افسانہ ایک بیمار بچے کی کہانی بیان کرتا ہے جو رات کے وقت بیمار ہوجاتا ہے ۔اس کا باپ شکیل‘ماں اور ایک ہمسایہ رشید بھائی پریشان ہوکر بچے کو مقامی اسپتال پہنچا دیتے ہیں۔وہاں کی حالت سے مایوس ہوکر وہ پرائیوٹ کلینک چلے جاتے ہیں۔ڈاکٹر تھوڑا بہت علاج کرکے انہیں بچے کو سرینگر کے صدر اسپتال لے جانے کو کہتا ہے۔ صدر اسپتال میں بچے کا آپریشن ہوتا ہے اور وہ ٹھیک ہوجاتا ہے۔افسانے میں یہ بات بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ دراس جیسے دوردراز علاقے میں لوگوں کو علاج معالجے کے لئے کن کن کھٹنائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس طرح یہ افسانہ لوگوں کی مشکلات کی اچھی کہانی سامنے لاتا ہے۔’’لومڑی اور گلہری‘‘ دلچسپ کہانی ہے ۔یہ کہانی بچوں کے ادب کی اچھی عکاسی کرتی ہے۔ اس میں اخلاقی پیغام بھی دیا گیا ہے کہ محنت میں راحت ہے۔ کہانی لومڑی اور گلہری کی کردار نگاری میں سنائی گئی ہے۔دونوں دوست ہوتے ہیں۔لومڑی کاہل ہوتی ہے اور گلہری سمجھدار۔ گلہری ہروقت برفیلے موسم کے لیے کھانے پینے کا سامان ذخیرہ کرتی ہے جبکہ لومڑی اس پر طنز کرتی ہے کہ جب برف گری گی تب دیکھا جائے گا۔ برف گرنے کے ساتھ ہی لومڑی کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا ہے اور وہ گلہری کے دروازے پر کچھ دینے کا سوال کرتی ہے۔ گلہری تو کھانے کے لئے اسے تھوڑا بہت دیتی ہے لیکن اس کے بعد لومڑی کو گلہری کی نصیحت یاد آتی ہے اور وہ اگلے سال کھانے پینے کی چیزوں کو جمع کرنا کرتی رہتی ہے۔’’حلال رزق کی خوشبو‘‘ بھی اخلاقی پیغام کا حامل افسانہ ہے۔ اس کا مرکزی کردار ’’عبدل‘‘ ہے ۔عبدل ہمیشہ رزق حلال پر یقین رکھتا تھا ۔ ایک مزدور پیشہ انسان جو خستہ جھونپڑی میں بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے بچے پڑھ لکھ کر اچھے سرکاری عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں اور رزق حلال پر یقین اپنا پھل دکھاتا ہے۔ یہ دیکھ کر بستی کے لوگ جو کبھی اس پر طنز کیا کرتے تھے ‘اب ان کے لئے ایک مثال بن جاتا ہے۔
علامتی اسلوب کا حامل افسانہ’’ بھٹکتی روحیں‘‘ افسانہ نگار کی فنی صنعت گری کی اچھی عکاسی کرتا ہے۔ افسانے میں بستی میں داخل ہوئی باہر کی روحوں اور پھر بستی کے لوگوں کو ان کے جھانسے میں آنے کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ یہ دراصل سازشی لوگ تھے جنہوں نے بستی کے لوگوں کو ترقی کے سپنے دکھائے اور پھر بستی رفتہ رفتہ انتشار کی زد پر آگئی:’’آج روحوں کا قافلہ ہماری بستی میں وارد ہوا۔ حال ہی میں شامل ہوئی پرتپاک روح بھی تھی جس کی شمولیت نے بھٹکتی روحوں کی طاقت کو دوگنا کردیا۔ ‘‘ کتاب میں شامل چنداور افسانے سماجی موضوعات اور مسائل کی عمدہ عکاسی کرتے ہیں۔ جن میں ہینڈ پمپ، چائے پانی، ہاتھی کے دانت کھانے کے اور،وحشی درندہ ،پُراسرار رات ،پوسٹر‘ضمیر کی آواز،درشن وغیرہ شامل ہیں۔
مجموعی طور پر ’’الجھن‘‘ کے افسانوں کااحاطہ کریں تو ہر افسانے میں کوئی نہ کوئی کہانی سامنے آتی ہے جو کسی نہ کسی سماجی موضوع یا مسئلے پر لکھی گئی ہے۔ فنی طور پر دیکھیں تو محمدالیاس متوی افسانے لکھنے یا کہانی بُننے کا اچھا شعور رکھتے ہیں۔ کسی مشاہدے یا واقعہ کو کیسے کہانی کا روپ دینا ہے وہ یہ ہنر جانتے ہیں۔افسانہ نگارجب مقامی موضوعات کو کہانی کاروپ دیتا ہے تو دوسری جگہوں کے قاری اس مقام کی سماجی و معاشرتی صورتحال سے واقف ہوجاتا ہے۔محمد الیاس متوی کے بیشتر افسانے مقامی سطح کے موضوعات اور مسائل کی کہانیاں سامنے لاتے ہیں جو کہ ان کی افسانہ نگاری اور سماجی مشاہدے کا قابل ستائش پہلو ہے۔امید ہے کہ وہ افسانہ نگاری کے میدان میں اپنا سفر جاری رکھیں گے اورقارئین کو عمدہ افسانوں سے نوازتے رہیں گے کیونکہ ان میں قابل داد ادبی صلاحیت موجود ہے۔
رابطہ۔9906834877