فکرو ادراک
ڈاکٹر شگفتہ خالد ی
کشمیر کی عوام اس وقت ملاوٹ کے بڑھتے ہوئے رجحان سے شدید پریشانی کا شکار ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے، جس نے لوگوں کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ دودھ، مصالحہ جات، تیل، گوشت، مٹھائیاں اور یہاں تک کہ سبزیاں بھی ملاوٹ سے محفوظ نہیں رہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی موجودگی کے باوجود حالات دن بہ دن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔
بازاروں میں کھلے عام ناقص اور غیر معیاری اشیاء فروخت ہو رہی ہیں۔ دودھ میں پانی اور کیمیکل کی ملاوٹ سرخ مرچ اور ہلدی میں رنگوں کا استعمال، کھانے کے تیل میں سستے اور نقصان دہ اجزاء کی آمیزش عام ہو چکی ہے۔ شہری بارہا شکایات درج کراتے ہیں مگر کارروائی عارضی اور نمائشی ثابت ہوتی ہے۔ چند دنوں کے لیے چھاپے مارے جاتے ہیں، جرمانے عائد کیے جاتے ہیں مگر کچھ ہی عرصے بعد صورتحال دوبارہ وہی ہو جاتی ہے۔
فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کا بنیادی کام عوام کو محفوظ اور معیاری خوراک فراہم کرنا ہے۔ قوانین موجود ہیں، لیبارٹریاں بھی قائم ہیں، مگر ان کا مؤثر استعمال نظر نہیں آتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر محکمہ فعال ہے تو پھر بازاروں میں ملاوٹ شدہ اشیاء اتنی آسانی سے کیسے دستیاب ہیں؟ کیا نگرانی کا نظام کمزور ہے یا پھر عمل درآمد میں سنجیدگی کی کمی ہے؟
دیہی علاقوں کی صورتحال تو اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ وہاں نہ تو باقاعدہ جانچ پڑتال ہوتی ہے اور نہ ہی دکانداروں پر سخت نظر رکھی جاتی ہے۔ عوام لاعلمی یا مجبوری کے تحت وہی اشیاء خریدنے پر مجبور ہیں جو دستیاب ہوں۔ اس کا نتیجہ مختلف بیماریوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جن میں معدے کے امراض الرجی، سانس کی تکالیف اور دیگر پیچیدگیاں شامل ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کی بڑھتی تعداد اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خوراک کا معیار گر چکا ہے۔
رمضان عید اور دیگر تہواروں کے مواقع پر ملاوٹ کا رجحان مزید بڑھ جاتا ہے۔ مانگ میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض تاجر منافع کمانے کے لیے غیر معیاری اور مضر صحت اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ عوام کی صحت سے کھیلنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، مگر مؤثر نگرانی نہ ہونے کے باعث یہ سلسلہ جاری ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ عملی اقدامات کرے۔ باقاعدہ اور اچانک معائنہ مہم چلائی جائے لیبارٹری رپورٹس شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جائیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ جرمانوں کے ساتھ ساتھ لائسنس منسوخی اور دکانوں کی بندش جیسے اقدامات بھی ناگزیر ہیں تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔
عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ملاوٹ کے خلاف آواز بلند کریں، مشتبہ اشیاء کی نشاندہی کریں اور ذمہ دار حکام تک شکایات پہنچائیں۔ میڈیا اور سماجی تنظیموں کو بھی اس مسئلے کو اجاگر کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صحت مند معاشرہ ہی مضبوط معاشرہ ہوتا ہے، اور اس کی بنیاد صاف اور محفوظ خوراک پر ہے۔
اگر فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ملاوٹ کا یہ زہر آنے والی نسلوں کی صحت کو بھی متاثر کرے گا۔ کشمیر کی عوام اب کھوکھلے دعوؤں سے مطمئن نہیں ہو سکتی۔ انہیں عملی اقدامات، شفاف نظام اور محفوظ خوراک کی ضمانت چاہیے۔ وقت آ گیا ہے کہ فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور عوام کے اعتماد کو بحال کرے ورنہ یہ بحران مزید سنگین صورت اختیار کر لے گا۔