ابراہیم آتش
اسلام نے عورت کو وہ عظیم مقام عطا کیا جو دنیا کے کسی مذہب نے عطا نہیں کیا ۔ابتدائی دور کے کرائی سسٹم کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ عورت گناہ کی ماں، بدی ومصیبت کی جڑ، تمام مصائب کا سرچشمہ اور جہنم کا دروازہ ہے،نیز اس کا عورت ہونا ہی اس کے شرمناک ہونے کے لئے کافی ہے ۔اُس سسٹم کےاِن خیالات نے معاشی حیثیت سے عورت کوبالکل بے بس کر کے مرد کے قابو میں دے دیاتھا ۔ طلاق اور خلع کی سرے سے اجازت نہیں تھی ،زوجین میں خواہ کتنی ہی نا موافقت ہو، مذہب اور قانون ان کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر مجبور کرتے تھے۔ انتہائی شدید حالات میں اگر دونوں میںعلاحیدگی کرا دی جاتی ،لیکن بعد میں شادی کا حق نہ مرد کو تھا نہ عورت کو، دونوں ہی راہب یا راہبہ بن جائیں یا پھر تمام عمر بدکاری کرتے رہیں ۔ قدیم زمانے میں مصر میںدریائے نیل پرہر سال ایک خوب صورت دو شیزہ کودلہن بنا کر قربان گاہ لایا جاتا اور اس کی قربانی دی جاتی۔ ہندوستان میں ستی کی رسم عام تھی، شوہر کے مرنے پر بیوی شوہر کے ساتھ زندہ جل جاتی تھی ۔
انسانی تمدن کی پوری تاریخ گواہ ہے ،عورت کا وجود دنیا میں ذلت شرم اورگناہ کا وجود تھا، بہت سی قوموں میں لڑکیوں کو قتل کر دینے کا رواج عام تھا ۔اسلام کے سِوابیوہ کے لئے کسی مذہب میں عزت نہیں تھی۔ بیوہ سے کوئی شادی نہیں کرتا تھا، بیوہ کو بد شگونی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔حضوراکرم ؐ نے بیوہ سے شادی کر کے دنیا کی غلط روایات کو ہمیشہ کے لئے جڑ سے ختم کر دیا۔ ہندو مذہب میں ویدوں کی تعلیم کا دروازہ عورت کے لے بند تھا ،بدھ مت میں عورت سے تعلق رکھنے والے کے لئے نروان کی کوئی صورت نہیں تھی، مسیحت اور یہودیت کی نگاہ میں عورت ہی گناہ کی بانی اور ذمہ دار تھی ۔ صدیوں کی مظلومی اور محکومی اور عالم گیر حقارت کے برتائو نے خود عورت کے ذہن سے عزت نفس کا احساس مٹا دیا اوروہ بھی بھول گئی تھی کہ دنیا میں وہ حق لے کر پیدا ہوئی ہے یا اس کے لئے بھی عزت کا مقام ہے ۔مرد اس پر ظلم و ستم کرنا اپنا حق سمجھتا تھا اور وہ اس ظلم کو سہنا اپنا فرض جانتی تھی، غلامانہ ذہنیت اس حد تک پیدا کر دی گئی تھی کہ وہ فخر کے ساتھ اپنے آپ کو ’’شوہر کی داسی‘‘کہتی تھی۔
دوسری طرف عورت کو مرد کے برابر کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی جو عین قوانین فطرت کے خلاف ہے، عورت کو کما نے کا ذریعہ بناکراس پر دوہرا بو جھ ڈالا گیا، وہ دفتروں میں اور کارخانوں میں مردوں کے شانہ بہ شانہ کا م کرنے لگی اور گھر آکر بچوں کو پالنا اور کھانا پکانا بھی اس کے ذمہ تھا اور پھر مرد کی تسکین کی ضرورت بھی اس کو ادا کرنی تھی۔ اس طرح عورت ایک کھلونا بھی گئی، اس کا ذہن منتشر ہو گیا۔ اسلام کے سوا تمام مذاہب نے عورت کو معاشی حیثیت سے کمزور کیا اور یہی معاشی بے بسی معاشرت میں عورت کی غلامی کا سب سے بڑا سبب بنی ۔یورپ نے اس حالت کو بدلنا چاہا مگر اس طرح کہ عورت کو ایک کما نے والا فرد بنا دیا جائے، یہ ایک دوسری عظیم تر خرابی کا باعث بن گیا ۔اسلام بیچ کا راستہ اختیار کرتا ہے ،وہ عورت کو وراثت کے نہایت وسیع تر حقوق دیتا ہے، باپ سے شوہر سے اولاد سے اور دوسرے رشتہ داروں سے اس کو وراثت ملتی ہے، نیز شوہر سے اس کا مہر بھی ملتا ہے ،ان تمام ذرائع سے ملنے والے مال کے اوپر مکمل اسی عورت کا اختیار ہے۔ اس طرح اسلام میں عورت کی معاشی حالت اتنی مستحکم ہوگئی کہ بسا اوقات وہ مرد سے زیادہ بہتر حالت میں ہوتی ہے ۔
اسلام میں عورت کو شوہر کے انتخاب کا پورا حق دیا گیا ہے، اس کی مرضی کے خلاف یا اس کی رضا مندی کے بغیر کوئی شخص اس کا نکاح نہیں کر سکتا اور اگر وہ خود اپنی مرضی سے کسی مسلم کے ساتھ نکاح کر لے تو کوئی اس کو نہیں روک سکتا اور اگر شوہر ظالم یا ناکارہ ہے تو عورت کو خلع کا حق حاصل ہے ۔دیوانی و فوجداری قوانین میں عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات قائم کی گئی ہے۔ جان و مال کے تحفظ میں اسلامی قوانین عورت اور مرد کے درمیان کسی قسم کا امتیاز نہیں رکھتے ۔ ایمان اور عمل صالح کے ساتھ روحانی ترقی کے جو درجات مرد کو مل سکتے ہیں، وہی عورت کے لئے بھی کھلے ہیں، مرد اگر ا براہیم بن ادھم بن سکتا ہے تو عورت کو بھی رابعہ بصری بننے سے کوئی شئے نہیں روک سکتی ۔اسلام نے ذلت و عار کے مقام سے اٹھا کر عورت کو عزت کے مقام پر پہنچایا ہے۔اسلام نے بتایا کہ بیٹی کا و جود ننگ و عار نہیں بلکہ اس کی پرورش اور اس کی حق رسائی تجھے جنت کا مستحق بناتی ہے ۔حضوراکرمؐ ارشاد فرماتے ہیں،جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ گئیں تو قیامت کے روز وہ اس طرح ہوںگے جیسے میرے ہاتھ کے دو انگلیاں ساتھ ساتھ ہیں۔ ایک اور جگہ ارشاد فرماتے ہیں،جس کے ہاں لڑکیا ں پیدا ہوئیں اور وہ اچھی طرح پرورش کر لے تو یہی لڑکیاں اس کے لئے دوزخ سے آڑ بن جائیں گی ۔ یہ ہے اسلام میں بیٹی کا مقام، جو اس زمانے میں ننگ و عار سمجھی جاتی تھی،آج وہی بیٹی عزت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے، اس کی پرورش کو باعث فخر سمجھتے ہیں اور وہی بیٹی آج ہمارے لئے جنت میں جانے کا باعث بنتی ہے ۔ عورت پر اسلام کا احسان عظیم ہے، جس نے معاشی سماجی قانونی اور عملی حیثیت سے بلکہ ذہنی حیثیت سے بھی ایک عظیم انقلاب برپا کیا ہے۔ اسلام نے ہی عورت اور مرد دونوں ذہنوں کوبدلا۔ عورت کی عزت اور اس کے حق کا تخیل دیااور افکارِ انسان کا رُخ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بدل دیا ۔
رابطہ۔ 9916729890