جموں//حکومت نے سکولی تعلیم محکمہ کی طرف سے ایس ایس بی کو ریفر کی گئی اسامیوں کے حوالے سے ذرائع ابلاغ کے کچھ سیکشنوں میں شائع خبر کی تردید کی ہے۔ایک سرکاری ترجمان نے اس معاملے کی ضمن میں ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے وضاحت کی ٹیچر ایک ڈسٹرکٹ کاڈر پوسٹ ہے اور براہِ راست تعیناتی کے کوٹے کے تحت یہ اسامیاں ہر ایک ضلع میں خالی پڑی اسامیوں کے اعتبار سے ایس ایس بی کو ریفر کی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک ضلع میں خالی پڑی اساتذہ کی اسامیوں کے تناظر میں اس سال اساتذہ کی 2154اسامیاں ایس ایس بی کو ریفر کی گئیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ 2013 ء میں سکولی تعلیم محکمہ نے ڈائریکٹ ریکروٹمنٹ کوٹا کے تحت 7434اسامیاں بورڈ کو ریفر کیں جن میں 4954اسامیاں صرف جموں سے تعلق رکھتی تھیںاور اس وقت کشمیر صوبے میں مختلف اضلاع میں خالی پڑی 2480 اسامیاں ہی بورڈ کو ریفر کی گئی تھیں۔ترجمان نے مزید کہا کہ 2013ء میں ایس ایس بی کو جموں صوبے سے ریفر کی گئی 4954اسامیوں میں سے بورڈ نے 2015ء تک 3824 امیدواروں کی سلیکشن لسٹ جاری کیںجن میںجموں ضلع کے 1240 ، کٹھوعہ ضلع کے 719، راجوری ضلع کے 774، ادھمپور ضلع کے 462، سانبہ ضلع کے 233اور ڈوڈہ ضلع کے 396امیدوار شامل ہیں۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ کسی بھی سطح پر اسامیوں کی ریفرل بشمول اساتذہ اسامی ایک جاری رہنے والا عمل ہے اور اس حوالے سے انتظامی محکمہ نے دونوں ڈائریکٹوریٹس سے حال ہی میںمزید اسامیوں کی تفاصیل حاصل کی ہے اور محکمہ یہ تفاصیل جمع کرنے کے عمل میں تیز ی لائے گا تاکہ انہیں تیز تر بنیادوں پر پر کرنے کے لئے ایس ایس آر بی کو ریفر کی جاسکے ۔انہوںنے کہاکہ محکمہ میں موثر آڈر منیجمنٹ کو ترجیح دی جاتی ہے اورڈسٹر کٹ کاڈر کے اساتذہ اسامیوں کو کسی بھی صورت میں ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے۔سرکاری ترجمان نے وضاحت کی کہ محکمہ نے حال ہی میں اساتذہ کی کوئی نئی اسامی وجود میں نہیں لائی ہے اور ریاستی کابینہ نے پہلے ہی ریاست میں 400سکولوں کا درجہ مڈل سے ہائی اور ہائی سے ہائیر سکینڈری تک بڑھانے کی منظوری دی ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ جونہی ان 400سکولوں کا درجہ قوانین کے مطابق بڑھایا جائے گا تو اساتذہ اور لیکچروں کی 8000اضافی اسامیاں وجود میں آئیں گی جنہیں ریاست کے تمام اضلاع میں تقسیم کیا جائے گا۔ترجمان نے کہا کہ سکولی تعلیم کے دونوں ڈائریکٹروں کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اساتذہ کو ماسٹر گریڈ تک ترقی دینے کے لئے تیزی سے ڈی پی سیز کا انعقاد کریں تاکہ اساتذہ کی خالی ہونے والی اسامیوں کو بھی پُر کیا جاسکے ۔