آ ئندہ سال کے اوائل میں منعقد ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے ابھی سے سیاسی ماحول کو گرم کرنا شروع کردیا ہے۔ یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آ دتیہ ناتھ ریاست کا اقتدار دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اُسی پُرانی فضاء کو ہَوا دے رہے ہیں جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پانچ سال پہلے بی جے پی کو اسمبلی میں اکثریت دلاتے ہوئے ریاست کے چیف منسٹر بننے میں کا میاب ہو ئے تھے۔ اب جب کہ دوبارہ عوام کے درمیان جانے کا مر حلہ قریب آ گیا، بی جے پی کے حق میں ہندو ووٹوں کو متحد کرنے کے لئے ریاست میں پھر سے اپنے روایتی کارڈ کا استعمال کیا جارہا ہے۔ریاست میں موجودہ سرکار نے اپنے نا عاقبت اندیش اقدامات سے اپنی تنظیم کا چہرہ داغدار بنایا ہے۔ کوویڈ۔19کی قہر سامانی کا مقابلہ کر نے میں یو پی حکومت کی ناکارہ کارکردگی سے ریاست کی عوام بخوبی واقف ہے۔ ہزاروں اموات کے باوجود ریاست کے چیف منسٹر کو کوئی پشیمانی نہیں ۔ شمشان گھاٹوں میں متوفیوں کی نعشیں قطاروں میں لگی رہیں اور اسپتالوں میں کوویڈ کے مریض تڑپتے رہے لیکن یوگی آ دتیہ اپنے روایتی کارڈ کی آڑ میں سیاست کا کھیل کھیلتے رہے۔ حالیہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں کراری شکست کے بعد بی جے پی کو یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ کہیں یوپی کے رائے دہندے بھی اسے نہ دھتکار دیں۔ اسی لئے ابھی سے سیاست کے اکھاڑے میں ہندوتوا طاقتیں اپنی چیخ و پکار کے ساتھ کود پڑی ہیںاور پھر سے شرپسند عناصر اپنی سر گرمیوں کا آ غاز کر چکے ہیں۔ گز شتہ دنوں غازی آباد کے علاقہ میں ایک عمر رسیدہ مسلم شخص کو اپنا نشانہ بناتے ہوئے ان کے ساتھ جس قسم کی بد سلوکی کا رویہ اختیار کیا وہ سب کچھ منظرِ عام پر آ چکا ہے۔ 70سالہ عبد الصمد کو آخر کس جرم میں مارا پیٹا گیا۔ ان کا قصور کیا تھا؟ اس ضعیف شخص کو نہ صرف شدیدزدو کوب کیا گیا بلکہ اشرار نے ان کی داڑھی بھی کاٹ دی۔ یہ دراصل جہاں مسلمانوں کو ڈرانے اور دھمکانے کی پالیسی وہیں ریاست میں فرقہ وارانہ بھٹّی کو گرما نے کی دلیل ہے۔ بی جے پی کو یہ احساس ہو چکا ہے کہ یوپی میں اس کا اقتدار ہچکو لے کھا رہا ہے۔ وہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر رائے دہندوں سے ووٹ نہیں مانگ سکتی۔ پانچ سال میں اس نے کوئی نمایاں کارنامہ انجام نہیں دیا جس کی بنیاد پر عوام اسے دوبارہ ووٹ ڈالنے کے بارے میں غور و فکر سے کام لیں۔ اس لئے اشتعال انگیزی کا سہارا لیا جا رہا ہے تاکہ اقتدارکو بچا یا جا سکے۔
یوپی کا الیکشن مرکزی حکومت کی تقدیر کے لئے فیصلہ ساز قرار دیا جارہا ہے۔ اتر پردیش نہ صرف ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے بلکہ سیاسی طور پر یہ ایک اہم ریاست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یوپی میں جس کی حکومت ہو گی دلّی کی گدّی اس کی ہو گی۔ اگر یوپی کا قلعہ پارٹی کے ہاتھوں سے نکل جا تا ہے تو دہلی میں کی حکومت بھی ڈنواڈول ہو جا ئے گی۔ اسی لئے حّساس مو ضوعات کو چھیڑ کر ماحول میں فر قہ وارانہ زہر گھولا جا رہا ہے۔ چناچہ ابھی سے یوپی حکومت کے ایسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی مثبت ایجنڈے پر الیکشن لڑنے کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ بنیاد پر فضاء تشکیل دے کر وہ الیکشن میں سر خرو ہونا چاہتی ہے۔ ہجومی تشدد کے ساتھ ساتھ ریاست کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر نے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ ضلع بارہ بنکی میں دن دہاڑے ایک مسجد کو شہید کر دیا گیا۔ اسی طرح ایک اور مسجد کو شہید کر کے وہاں پارک کی تعمیر کی جارہی ہے۔ اوقاف کی اراضی کو سرکاری ملکیت قرار دیتے ہوئے حکومت اس کو اپنے قبضہ میں لے رہی ہے۔ ان غیر قانونی اقدامات کو انجام دے کرریاستی حکومت ریاست کے سیاسی ماحول کو گرما نا چاہتی ہے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ایک نا قابلِ عبور خلیج پیدا کرکے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ ہجومی تشدد کا واقعہ ہو یا پھر مساجد کی شہادت کی بات ہو، مسلمان اس پر احتجاج کر سکتے ہیں اور جب وہ احتجاج کر یں گے تو حالات خود بخود فرقہ وارانہ رخ اختیار کرلیں گے۔ اپنی پارٹی کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے قائدین کچھ تعمیری کام بھی کرسکتے تھے، عوام کو بہتر سہولتیں پہنچا کر وہ لوگوں کا دل جیت سکتے ہیں۔کورنا بحران کے وقت جس نااہلی کا حکومت نے ثبوت دیا اس کی تلافی اب بھی کی جا سکتی ہے۔ عوام جن مصائب اور مشکلات سے دوچار ہیں انہیں ان سے چھٹکارا دلانے میں حکومت پہل کر سکتی ہے۔ لیکن ریاستی حکومت ان سارے کاموں کو کے برعکس کام کررہی ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے ، نوجوانوں کو روزگار دینے ، تعلیم پر توجہ دینے اور خواتین کے تحفظ کے بارے میںسنجیدہ اقدامات کرنے کے بجائے سماج کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کر نے کا وطیرہ اپنایا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت جب کہ ملک ایک شدید بحران سے گذر رہا ہے۔ کوویڈ۔19زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنے منفی اثرات ڈال چکا ہے۔ ملک کو ترقی کی ڈَگر پر لانے کے لئے نہیں معلوم کتنے دہے لگ جا ئیں گے۔ پورا تعلیمی نظام بکھر چکا ہے۔ روزگار کے مواقع ختم ہو گئے ہیں۔ ایسے نازک وقت میں بھی سیاسی قائدین اپنی تنگ نظری اور ناعاقبت اندیشی کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہو تے ہیں۔
2024کےالیکشن کو جیتنے کے لئے بی جے پی نے 2021سے تیاری کر لی ہے۔ بی جے پی اپنی بگڑی ہوئی صورت کو پُر کشش اور جاذبِ نظر بنا نے کے لئے اپنے منصوبے کے مطابق آ گے بڑھ رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ بی جے پی کی اس کاجواب دینے کی طاقت ملک کی دیگر سیاسی پارٹیوں میں ہے ؟ بی جے پی اپنے ووٹ بنک کو رجھانے اور ورغلانے کے سارے حربے اختیار کر رہی ہے۔ یوپی الیکشن سے پہلے ہی اس نے 2024میں ہو نے والے لوک سبھا الیکشن پر اپنی نظریں گاڑ دی ہیں۔ اس لئے بی جے پی ، یوپی کے 2022کے اسمبلی الیکشن کو 2024کا ریہرسل ما نتے ہوئے پورے دم خم کے ساتھ آ گے بڑھ رہی ہے۔ اس کی یہ تیاری صرف آنے والے سال کے الیکشن کے لئے نہیں ہے بلکہ آئندہ مزید پانچ سال مرکز کی زمام ِ کار اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے لئے ہے۔ اس لئے یوپی اسمبلی کا الیکشن بی جے پی کے لئے موت و حیات کا معاملہ بن گیا ہے۔ بی جے پی کو اگر یوپی میں دھچکہ لگتا ہے تو مرکز میں بھی اس کا قلعہ کو مسمار ہوسکتا ہے۔ مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالہ کے حالیہ انتخابی نتائج سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک گیر سطح پر بھی بی جے پی کا ریکارڈ خراب ہوگیا ہے۔ ان کے سات سالہ دورِ حکمرانی میں ملک کی عوام نے مصیبتیں ہی جھیلیں ہیں۔ نوٹ بندی سے لے کر کورونا تک ان پر کیا کچھ گذری اس سے ہر شخص واقف ہے۔ وقت کا تقا ضا ہے کہ سیکولر پارٹیاں ملک کے مفاد میں ایک جُٹ ہو کر فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف اٹھ کھڑے ہوںتاکہ ملک میں جمہوریت اور سیکولرازم کے فروغ کے لئے نئی راہیں کھل جائیں۔ یہ اسی وقت ممکن ہو گا جب سیاسی پارٹیاں اپنے حقیر سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنا اہم کردار ادا کریںگی ۔ یوپی الیکشن میں جہاں موجودہ سرکار کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے وہیں سیکولر پارٹیوں کو نو شتہ دیوار پڑھتے ہوئے جمہوریت کے تحفظ اور سیکولرازم کی بقا کے لئے آگے آ نے کی ضرورت ہے۔
������