ماجد مجید
آٹھ بیس 20/8 کے چکر میں نوع انسانی کو مصروف رکھ کر ابلیس کا وزیر بڑی حد تک کامیاب رہا اور اب کی بار مقتدیوں کے بیچ گھس کر اپنا نیاداؤ کھیلنے لگا۔ وہ اس طرح کہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہی وہ امام صاحب کی طرف کان لگائے اپنا داؤ بیچ کھیلنے کا منتظر رہنے کو ترجیح دینے لگا، جوں ہی تکبیر ادا ہوئی اور سب کا دھیان نماز کی طرف گیا تو ابلیس کا وزیر ہر صف میں اپنی موجودگی کا احساس موبائیل فون کی گھنٹی بجنے سے مقتدیوں کے ساتھ ساتھ امام صاحب کو بھی آگاہ کر تا رہتا ہے ،تاکہ سب بارگاہ الٰہی سے ہٹ کر وزیر کی موجودگی کو محسوس کریں۔ ایک نے اپنا موبائیل فون بند کیا تو دوسرا بجا، پھر تیسرا ،پھر چوتھا، اس طرح نماز کے دوران کسی نہ کسی کا موبائیل فون بجتا رہا اور ابلیس کا وزیر مسجد کے ہر صف میں رقص پر رقص کرتا رہتا ہے۔ 20/8 کے چکر سے زیادہ اس کا یہ حربہ کامیاب رہا ۔وہ اس حربے میں سال کے بارہ مہینے رقص کرتا رہتا ہے، لیکن رمضان المبارک مہینے میں یہ حربہ اس کے لئے سونے پہ سہاگہ کا کام دے رہا ہے ۔سب نمازی اپنے اپنے حساب سے بارگاہ الٰہی میں حاضر رہتے ہیں، لیکن موبائیل فون گھنٹی بجتے ہی وہ نماز میں ہی کہیں سے کہیں اور پہونچ جاتے ہیں۔ یہ صرف نمازیوں کا حال نہیں بلکہ اکثر مساجد کے ائمہ صاحبان بھی موبائیل گھنٹی بجتے ہی نماز میں ہی کہیں اور چلے جاتے ہیں، یوں سمجھ لیجئے کہ گھنٹی بجتے ہی بارگاہ الٰہی سے لات مار کر بھگائے جاتے ہیں ۔ اب آپ ہی بولئے اور فیصلہ کیجئے کیا واقعی ابلیس کا وزیر مساجد میں رقص کرکے نوع انسانی کو اپنی موجودگی کا احساس دلا رہا ہے یا ہم خود ہی راہ راست سے بھٹک گئے ہیں ، اللہ رحم فرمائے۔
ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی سرینگر
���������������������