سرینگر//محکمہ دیہی ترقی و پنچایتی راج کے وزیر عبدالرحمٰن ویری نے آئی ڈبلیو ایم پی (انٹیگریٹیڈ واٹر شیڈ مینجمنٹ)پروگرام کے تحت کاموں کو ماحول دوستانہ قرار دیتے ہوئے افسران کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ بقایا جات عید الفطر سے قبل ادا کریں اور نئے کام باضابطہ ورکس پلان کے تحت کئے جائیں۔آئی ڈبیلو ایم پی کی کارکردگی کاجائزہ لینے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ یہ ایک ماحولیات دوست پروگرام ہے جس کی موجودہ دور میں بہت زیادہ ضرورت ہے۔ ان کاکہناتھاکہ اس پروگرام کے ذریعہ روایتی آبی ذخائر کی تجدید کے ساتھ ساتھ ان ذخائر کو تحفظ فراہم کیاجاسکتاہے اورمٹی کے کٹاو? کو بھی روکا جاسکتاہے۔ ان کاکہناتھاکہ یہ پروگرام ماحولیات سے جڑاہے اوراگر اس کو کامیابی سے چلایاجائے تو بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ویری کاکہناتھاکہ اس پروگرام کو باضابطہ ایک سمت دینے کی ضرورت ہے اور ملازمین کو جوابدہی سے کام کرتے ہوئے متعین کئے گئے اہداف کو پورا کرناہوگا۔وزیر موصوف نے شفافیت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ دستیاب وسائل کوبروئے کارلاکر ان کا منصفانہ اور جائز استعمال کیاجائے۔میٹنگ میں یہ بتایاگیاکہ اس پروگرام کے تحت ریاست میں 159پروجیکٹوں پر کام چل رہاہے۔وزیر موصوف نے کشمیر صوبہ کے تمام اضلاع میں ہورہے کاموں کی جانکاری حاصل کرتے ہوئے کہاکہ آج تک باقی واجبات کی عید الفطر سے قبل ادائیگی کی جائے اور اگراس کے بعد بھی کہیں کچھ بقایارہاتو اس کا ذمہ دار متعلقہ پروگرام منیجر ہوگا۔انہوں نے آئی ڈبلیو ایم پی کے چیف ایگزیکٹو افسر کو ہدایت دی کہ وہ سبھی اضلاع میں واجبات کی ادائیگی کیلئے درکار رقومات فراہم کریں تاکہ یہ رقم ان لوگوں کو دی جاسکے جنہوں نے کام کیاہے۔ویری نے کہاکہ رواں مالی سال کے دوران رقومات کی دستیابی کے مطابق کام ہاتھ میں لئے جائیں اور یہ کام باضابطہ ورکس پلان کے تحت ہونے چاہئیں۔اس موقعہ پر وزیر موصوف کو بتایاگیاکہ شفافیت کو یقینی بنانے کیلئےپی ایف ایم ایس کا نظام رائج کیاگیاہے جس کے تحت رقومات براہ راست لوگوں کے بینک کھاتے میں جاتی ہیں۔انہیں یہ بھی بتایاگیاکہ یہ پروگرام نوے فیصدمرکزی معاونت سے چلتاہے جس میں دس فیصد رقومات ریاست کی طرف سے فراہم کی جارہی ہیں اور نئے پروجیکٹوں کی منظوری بھی مرکز سے ہی ہوتی ہے۔انہیں بتایاگیاکہ اس وقت تک ریاست بھر میں اس پروگرام کے تحت آٹھ ہزار سے زائد اثاثے قائم کئے گئے ہیں۔میٹنگ میں محکمہ کی سیکریٹری شیتل نندا،چیف ایگزیکٹو افسر آئی ڈبیلو ایم پی فاروق احمد،ڈائریکٹر فائنانس شادی لعل پنڈتا،ڈائریکٹرپلاننگ سید شبیر شفیع،پروجیکٹ منیجر اور دیگر افسران بھی موجودتھے۔