سرینگر//اے آئی پی سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے کل پریس کلب جموں میں کٹھوعہ کی 8 سالہ آصفہ کے قتل کے معاملے میں سرکار کی عدم دلچسپی کو لیکر آل ٹرائبل کو آرڈینیشن کمیٹی کے زیر اہتمام منعقد کئے جانے والے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی ۔ اس موقعہ پر انجینئر رشید نے جموں کی سیول اور پولیس انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں قاتلوں کی پردہ پوشی کرنے کا الزام لگایا ۔ انجینئر رشید نے کہا ’’جب نئی دلی میں نربھیا کے ساتھ ایسا ہی انسانیت سوز واقعہ پیش آیا تب پورا جموں سڑکوں پر اتر کر نربھیا کے قاتلوں کے لئے عبرتناک سزا کا مطالبہ کر رہا تھا ۔ لیکن جب آج جموں کی اپنی بیٹی کے ساتھ نربھیا سے بھی بدتر سلوک ہوا تو اہل جموں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہے اور کچھ عناصر معاملے کو فرقہ ورانہ رنگ دینے سے گریز نہیں کر رہے ہیں ۔ آصفہ کیلئے بلا لحاظ مذہب وملت اور علاقائی وابستگی کے تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگو ں کو آواز اٹھانی چاہئے لیکن جموں کی ہندو آبادی کی طرف سے مجرمانہ خاموشی نے متاثرہ لڑکی کے رشتہ دارو ں اور دوسرے فرقہ کے لوگوں کو سڑکوں پر آنے اور دھرنا دینے کیلئے مجبور کیا ــ‘‘۔ انجینئر رشید نے جموں کے دانشوروں، تاجروں، وکلاء، طلباء اور دیگر انجمنوں سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرکے انسانیت کی علمبرداری کا ثبوت دیں ۔