سنابھی ہے دیکھا بھی کہ ابھی پورے بھارت ورش میں الیکشن نتائج کا بھوت سوار ہے ۔ کہیں جیت کا جنون سوار ہے کہ جیتنے والوں نے کمزوروںبے گناہوں کا خون بہانے کا دوار کھلا رکھا ہے۔ کہیں ہار کے بخار کا سروں پر اس قدر پرہار کا بخار ہے کہ لوگ استعفوں کے کاغذ ہاتھوں میں لئے گھوم رہے ہیں اور یہ سارا کھیل مزیدار اس بات سے بنتا ہے کہ کوئی استعفیٰ لینے کے لئے تیار نہیں ۔جس کسی کی طرف بھی استعفیٰ بڑھایا جائے، اُسے محسوس ہوتا ہے کوئی زاکا یا نیپا وائرس ہے کہ ہاتھ لگائو تو کہیں کا نہ رکھ چھوڑے گا۔بڑی مشکل سے پارٹی دفاتر میں سیکورٹی گارڈز بچے ہیں جو استعفیٰ نام کا کاغذ لیتے تو ہیں مگر ان کا کیا کرنا ہے ،جانتے نہیں۔اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ یہ استعفیٰ ہے تو وہ خوشی خوشی بیویوں کو فون لگادیں کہ میڈم اب تمہاری دادا گیری نہیں چلے گی کیونکہ ہماری پرموشن ہو گئی ہے اور یہ کہ بڑے سے بڑا عہدیدار تیاگ پتر ہمارے ہاتھ ہی سونپتا ہے۔پنجہ مار پارٹی کے پپو نے بھی استعفیٰ دیا لیکن کوئی بھی لینے کو تیار نہیں کہ سب حیران و پریشان ہیںبھلا اس کاغذ کے ٹکڑے کا کیا حشر کردیں،کیونکہ جن کی امید تھی کہ وہ یہ استعفیٰ قبول اور منظور کریں گے وہ تو خود بھی تیاگ پترپیش کرنے کی لائن میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں ۔اس ڈرامائی صورت حال کے پیش نظر پپو نے اپنی پارٹی میں بڑے لوگوں پر غصہ اُتارا کہ یہ سب پارٹی کے بدلے اپنے بچوں کی فکر کرتے ہیں، جس کے سبب پارٹی ہار گئی۔ اس لئے ایسے لوگوں کو پارٹی بدر کرنا چاہئے۔دروغ برگردن راوی جس نے یہ کہانی سنائی کہ ہار کے بعد رات بھر پپو سو نہ پائے ،صبح اُٹھے تو بال بکھرے ، چہرہ اُترا ہوا تھا ۔راہ داری میں پہنچتے ہی چیخ اٹھے کہ اس کو پارٹی سے نکال دو ،اسی کی وجہ سے ہم الیکشن ہار گئے۔نوکر دوڑا دوڑا چلاآیا اور پپو کو سنبھال لیا ۔سر یہاں کوئی نہیں، یہ تو قد آدم آئینے میں آپ ہی کی تصویر نظر آتی ہے۔ادھر بوا بھتیجا پارٹی بھی الیکشن نتائج کی آندھی کے سامنے ڈھیر ہو گئی ۔اگر تم نے سائیکل تیز چلائی ہوتی تو کنول کا پھول اس قدر نہیں کھلتا ۔نہیں تمہارا تو ہاتھی اتنا بھاری بھر کم ہے کہ دھیرے دھیرے چلا جبھی تو سب جگہ نہیں پہنچ پایا۔اور تو اور ہاتھی کی لید ہی اس قدر زیادہ تھی کہ کنول پھولوں کے لئے کھاد کا کام کر گئی۔مطلب ہم جنہیں سُکھانے چلے تھے ،انہیں اُگانے کا کام کر گئے۔ہم نے تو سوچا تھا کہ ہاتھی کنول پھولوں کو چٹ ہی کر جائے گا لیکن یہ ہاتھی تو پلاسٹک کا نکلا کہ چالیس پینتالیس ڈگری تاپمان برداشت نہ کر پایا اور ایسا پگھل گیا کہ اب ردی والا ہی اسے اپنے ٹوکرے میں بھر کر لے جائے گا۔
ادھر اپنے ملک کشمیر میں بھی ہارنے والوں پر وار ہوا ہے ۔ایک طرف کنول بردار ی کا ترشول تیز ہوگیا، دوسری طرف ہل والے نینشنلی بھی ہل کا پھل تیز کر گئے۔اپنے ہل والے قائد ثانی جب نعرہ لگاتے ہیں تو نعرہ مستانہ لگتا ہے اور ان کے نعروں سے ادھر ادھر ،آر پار چنگاریاں پھوٹتی ہیںبلکہ وسپھوٹ ہوتے ہیں۔ اور جب اعلان کرتے ہیں تو دھماکے کی صورت کرتے ہیں بلکہ جب وہ سیدھی سادھی بات ہی کرتے ہیں تو بتنگڑ بناتے ہیں،یعنی رائی کا پہاڑ بنانا نہیں پہاڑ کو رائی میں تبدیل کرنا کوئی ان سے سیکھے ۔ وہ اس وقت جب کرسی سے بے دخل ہوں،سرکاری دفتر سے الگ ہوں یعنی اگر انہیں کوئی کام کرنے کو نہ ہو تو نئی نئی ترکیبیں وجود میں لانے سے وہ نہیں ڈرتے، بلکہ اپنے منہ کو حاملہ عورت کا روپ دھارن کراتے ہیں کہ اس رنگ روپ کا بچہ جننا ہوگا۔پھر عالمی فورموں میں بھارت کی نمائندگی کا سوال ہو،مملکت خداداد پر جوہری بم گرانے کی چیخ وپکار ہو یا اب بندوق برداروں کو مجاہد تسلیم کروانا والا معاملہ ہو، اور آج کل جو آزادی نواز عتاب کا شکار ہیں ان کی محبت اَنگ اَنگ میں جاگ اُٹھی ہے ۔مطلب عجب پریم کی غضب کہانی تحریر کرنا کوئی عالی جناب قائد ثانی سے سیکھے۔ایسی پریم کہانیوں کے وہ خود ہی لیکھاری ،گیت کار، سنگیت کار بلکہ نرماتا نردیشک بھی اکیلے ہوتے ہیں۔وہ جو میر آف دہرنہ پپو کو سنبھال رہاتھا، خود کی دست گیری سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔اورکہنے والے تو کہہ دیتے ہیں بلکہ تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں ۔کہنے سے ڈرتے نہیں کہ پنجہ مار پارٹی دلی ، یوپی، راجستھان وغیرہ کے ساتھ ساتھ لداخ والی سیٹ اَنکل چھپن والا کو تحفتاً پیش کرنے کے لئے مبارک بادی کی حق دار ہے۔ادھر قلمدان والے ایک طرف دودھ ٹافی کا حساب نہ رکھ پائے، دوسری طرف کوئی نیا فتویٰ کام نہ آیا۔
ابھی ہمیں بچپن کی وہ کہانی یاد آتی ہے جس میں اکبر بادشاہ کے دانا وزیر بیر بل کا تذکرہ ہے۔کہانی یہ ہے کہ مغل اعظم اکبر کو بیربل کی عقل مندی کا ٹیسٹ لینے کی سوجھی تو ایک نر بھیڑ بیربل کے حوالے یہ کہہ کے کردیا کہ اس کا وزن بھی نہیں بڑھنا چاہیے اور نہ ہی یہ بھوک کے سبب مر جانا چاہئے۔بیربل نے اپنی ذہانت کا مظاہرہ کرکے اس بھیڑ کے لئے ٹھیک ٹھاک خورد و نوش کا انتظام کروایا لیکن ہر شام وہ ایک خونخوار جانور بھیڑ کے پاس لے جاتا ۔ یہ جانور اس بھیڑ پر حملہ کرنے کو دوڑتا لیکن سپاہی اسے ایسا کرنے سے روکتے۔البتہ بھیڑ پر خوف کے مارے یہ اثر ہوتا کہ اس کا زائد وزن زائل ہوجاتا۔یوں وقت مقررہ پر بیر بل کامیاب ہوگیا ۔کچھ اپنے ملک کشمیر کے سیاست کاروں پر دلی دربار نے ایسا ہی جاد وچلا دیا کہ وہ کھاتے پیتے تو سب ٹھیک ٹھیک ہیں لیکن بیربل کے بھیڑ کی مانند اپنا اضافی وزن ہار جاتے ہیں۔ الیکشن ڈیٹ کے نام پر انہیں اچھی تازہ گھاس کھلائی جا رہی ہے لیکن وقت مقرر نہ کرنے کا خونخوار جانور ان کی چربی پگھلا دیتا ہے۔وہ تو ابھی کوئی ایک سال سے تنخواہوں سے محروم ہیں۔اقامت گاہیں ان سے چھن گئی ہیں۔دوسرے سرکاری مدوں سے خرچہ جات نے منہ موڑ لیا ہے۔مطلب راشن پانی اب گھر سے انتظام کرنا پڑتا ہے۔گاڑی کا تیل کیا ،ہانڈی کا سیل کیا، بجلی کا بل کیا ،دوائی کا بل کیا، بچوں کی فیس کیا، درد کی ٹیس کیا، ساری چیزیں اب گھریلو خزانے پر دیمک بنی بیٹھی ہیں،کیونکہ عید دیوالی پر جو چاہنے والے کیک مٹھائی لے کر مبارک بادی دینے آتے وہ بھی اب فون پر ہی ہیلو ہائے کرکے کنی کتراتے ہیں۔اس بنا پر سیاست کار مودی شاہ ایک طرف، الیکشن کمیشن دوسری طرف کے اوپر لگاتار منحنی اور ہموار وار کرتے رہتے ہیں کہ بھائی لوگو کچھ تو جرأت سے کام لواور اپنے ملک کشمیر میں بھی بندوں کو گننے کا عمل شروع کردو تاکہ جمبورا یہاں بھی ناچے بھلے ہی وہ دلی دربار کی ڈگڈگی پر ہی ناچے ،کیونکہ وہ جب ناچے گا تو مزیدار تماشہ ہوگا اور اس تال پر ہم اہل سیاست بھی دو چار ٹھمکے لگائیں گے ۔لوگ بھی جھوم جھوم کر گائیں گے ، ہماری پارٹی کا جھنڈا سر پر صافہ باندھیں گے، ہماری پارٹی کا نشان دکھا دکھا کر روٹی کپڑا اور مکان کا بیان دیں گے ۔تب پتہ چلے گا کہ روٹی کپڑ ا اور مکان تو بس ہماری قسمت میں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ گاڑی بھی بونس میں ملے گی اور بے چارے عام خام لوگوں کو وہی ناچ گانے کے فرصت کے چند لمحات میسر ہوں گے جس کے دم پر وہ اگلے پانچ چھ سال پربھو کے گُن گائیں گے ؎
رات دن ان کی ریا کاری کے بنتے ہیں اصول
ان کا دعویٰ ہے غلط ان کی عبادت ہے فضول
رہزنوں سے مت ڈرو تم پارسائوں سے بچو
لیڈرانِ قوم کی ظالم ادائوں سے ڈرو
رابط ([email protected]/9419009169)